- فتوی نمبر: 31-332
- تاریخ: 07 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > حلال و حرام جانور
استفتاء
1۔ گھوڑے کا گوشت کھانا حلال ہے یا حرام ہے؟
2۔ گوہ حلال ہے یا حرام ہے؟
آگاہی مرحمت فرمائیں مندرجہ ذیل احادیث میں ان جانوروں کا ذکر موجود ہے۔
1۔حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَرَخَّصَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ.
2۔حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الضَّبُّ لَسْتُ آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ.
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔گھوڑے کے گوشت کے بارے میں احادیث مختلف ہیں بعض سے حلت معلوم ہوتی ہے جبکہ بعض میں اس سے ممانعت بھی آئی ہےاسی وجہ سےائمہ میں سے بعض اس کی حلت کے قائل ہیں مثلاً صاحبین اور بعض اس کی کراہت کے قائل ہیں جیسے امام ابوحنیفہؒ ۔ پھر یہ کراہت تحریمی ہے یا تنزیہی؟ تو اس بارے میں امام ابوحنیفہؒ سے ظاہر الروایہ کراہت تنزیہی کی ہے اور روایت حسن کراہت تحریمی کی ہے اور اسی کو اکثر حضرات نے مفتی بہ قرار دیا ہے اگرچہ بعض حضرات نے کراہت تنزیہی کو راجح اور مفتیٰ بہ قرار دیا ہے۔
لہذا احتیاط تو یہی ہے کہ اس کا گوشت کھانے سے احتیاط کی جائے تاہم اگر کوئی کھائے تو اس پر اعتراض بھی نہ کیا جائے۔
صحیح بخاری میں(3/2503) ہے:
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهم قال: نهى النبي صلى الله عليه وسلم يوم خيبر عن لحوم الحمر ورخص في لحوم الخيل
صحیح مسلم(3/1281) میں ہے:
عن أسماء رضي الله عنها قالت نحرنا فرسا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فأكلناه
صحیح مسلم (3/1280)میں ہے:
—أنه سمع جابر بن عبد الله رضي الله عنه يقول: أكلنا زمن خيبر الخيل و حمر الوحش و نهانا النبي صلى الله عليه و سلم عن الحمار الأهلي
جامع ترمذی(2/804) میں ہے:
عن جابر قال : أطعمنا رسول الله صلى الله عليه و سلم لحوم الخيل ونهانا عن لحوم الحمر
سنن نسائی (4/483)میں ہے:
عن خالد بن الوليد أنه: سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يحل أكل لحوم الخيل، والبغال والحمير
مسند احمد (18/28)میں ہے:
عن خالد بن الوليد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكل لحوم الخيل، والبغال والحمير
سنن ابو داود(2/1066)میں ہے:
عن خالد بن الوليد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن أكل لحوم الخيل والبغال والحمير – زاد حيوة – وكل ذى ناب من السباع. قال أبو داود وهو قول مالك (كذا في الدار قطني أيضا)
بدائع الصنائع(149/5) میں ہے:
وأما لحم الخيل فقد قال أبو حنيفة رضي الله عنه يكره وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله لا يكره وبه أخذ الشافعي رحمه الله
شامی (508/9) میں ہے:
قوله ( وعليه الفتوى ) فهو مكروه كراهة تنزيه وهو ظاهر الرواية كما في كفاية البيهقي وهو الصحيح على ما ذكره فخر الإسلام وغيره قهستاني
شامی (508/9) میں ہے:
ثم نقل تصحيح كراهة التحريم عن الخلاصة و الهداية والمحيط و المغني و قاضيخان و العمادي وعليه المتون وأفاد أبو السعود أنه على الأول لا خلاف بين الإمام وصاحبيه لأنهما وإن قالا بالحل لكن مع كراهة التنزيه كما صرح به في الشرنبلالية عن البرهان۔۔۔
2۔شروع میں نبی ﷺ عادت نہ ہونے کی وجہ سے گوہ کو خود کھانا پسند نہ کرتے تھے لیکن دوسروں کو منع بھی نہیں کرتے تھے لیکن بعد میں آپﷺ نے گوہ کے کھانے سے منع فرمادیا لہٰذا اب گوہ کا کھانا جائز نہیں۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ اَلضَّبُّ لَسْتُ آ کُله وَلَاَ أُحَرِّمه (بخاری ومسلم)
عَنِ ابْنِ عَبّاسٍ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیْدِ أَخْبَرَہٗ أنه دَخَلَ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ عَلٰی مَیْمُوْنةَ وهيَ خَالَته وَخَالةُ ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَجَدَعِنْدهاَ ضَبًّا مَحْنُوْذًا فَقَدَّمْتُ الضَّبَّ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺفَرَفَعَ رَسُوْلُ الله ﷺیَده عَنِ الضَّبَّ فَقَالَ خَالِدٌ أَ حَرَامٌ الضَّبُّ یَارَسُوْلَ اللهِ قَالَ وَلٰکِنْ لَمْ یَکُنْ بأَرْضِ قَوْمِیْ فأَجِدُنِیْ أَعَافه قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْته فَأَکَلْته وَرَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَنْظُرُ إِلَیَّ (بخاری ومسلم)
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓسے روایت ہے کہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے ان کو بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضرت میمونہ ؓ کے پاس گئے جو ان کی بھی خالہ تھیں اور حضرت عبداللہ بن عباس کی بھی خالہ تھیں ۔ انہوں نے حضرت میمونہ ؓ کے پاس ایک بھنی ہوئی گوہ دیکھی۔ حضرت میمونہ ؓ نے وہ گوہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کی لیکن آپ نے اس سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔ حضرت خالد ؓ نے پوچھا اے اللہ کے رسول کیا گوہ حرام ہے آپ ﷺنے فرمایا (نہیں حرام تو نہیں )لیکن چونکہ میری قوم (یعنی حضرت حلیمہ) کے علاقہ میں نہیں ہوتی تھی (اس لئے مجھے اس کی عادت نہیں ) تو میری طبیعت اس کو پسند نہیں کرتی۔ حضرت خالدؓ کہتے (اس پر) میں نے اس کو (اپنی طرف) کھینچ لیا اور اس کو کھایا جبکہ رسول اللہ ﷺ مجھے دیکھ رہے تھے۔
عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ شَبَلٍ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ نهٰی عَنْ أَکْلِ الضَّبِّ (ابو داؤد)
حضرت عبد الرحمن بن شبلؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے گوہ کھانے سے منع فرمایا۔
عَنْ إِبْرَاهيمَ عَنْ عَائِشةَ أَنّه أهدِي لها الضَّبُّ فَسَألَتِ النَّبِیَّ ﷺ عَنْ أَکَله فَنهاها عَنه فَجَائَ سَائِلٌ فأرَادَتْ أَنْ تُطْعِمه إِیَّاہ فَقَالَ تُطْعِمِیْنه مَا لَاَ تَاکُلِیْنَ (کتاب الآثار لمحمد)
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ کو ایک گوہ ہدیہ کی گئی۔ انہوں نے نبی ﷺ سے اس کے کھانے کے (جائز وناجائز ہونے کے) بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کو اس (کے کھانے) سے منع فرمایا۔ (اتنے میں ) ایک سائل آیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے چاہا کہ وہ گوہ اس سائل کو دے دیں تو نبی ﷺ نے فرمایا (کیا) تم اس کو وہ چیز کھلاتی ہو جو (ناجائز ہونے کی وجہ سے) تم خود نہیں کھاتی ہو۔
در مختار (9/510) میں ہے:
(ولا يحل ذو ناب يصيد بنابه) ……….. والضب وما روي من أكله محمول على الابتداء
شامی (9/510) میں ہے:
قوله (على الابتداء) أي ابتداء الإسلام قبل نزول قوله تعالى “ويحرم عليهم الخبائث” للاصل المار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved