• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

گارنٹی

استفتاء

** الیکٹرک میں الیکٹریشن، الیکٹرک اور ہارڈ ویئر سے متعلق سامان مثلاً پنکھے، بجلی کے بٹن، انرجی سیور LED بلب، تار کوائل شپ (ایک خاص قسم کی مہنگی تار) رائونڈشپ تار (خاص قسم کی تار جو بنڈل کی شکل میں ہوتی ہے اور کسٹمر کی ضرورت کے مطابق اس کو بنڈل سے کاٹ کر دی جاتی ہے) وغیرہ کی فروخت کی جاتی ہے۔

** کسٹمرز کو ان آئٹمز کی گارنٹی دیتی ہے جن آئٹمز کی گارنٹی کمپنیوں نے دی ہو تاہم اگر بعض آئٹمز میں لچک (Flaxibility) ہویعنی وہ چیزیں کمپنیاں گارنٹی کے بغیر بھی واپس کر لیتی ہوں تو ** اپنے کلائنٹ کے فائدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ چیزیں واپس کر لیتی ہے۔

مذکورہ بالا صورت کا شرعاً کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

** جن آئٹمزکی گارنٹی دیتی ہے ان کو گارنٹی کے مطابق واپس کرنا ضروری ہے۔ اور جن آئٹمز کی گارنٹی نہیں دی جاتی ان میں اگر کوئی ایسا عیب نکل آئے جو پہلے سے تھا تو اس صورت میں عیب دار آئٹمز کو واپس کرنا ضروری ہے البتہ اگر فروخت کرتے وقت عیوب سے براء ت کر دی تھی یا عیب کسٹمر کے پاس جا کر پیدا ہوا ہو تو ایسی صورت میں عیب دار آئٹمز کو واپس کرنا ضروری نہیں تاہم اپنے کلائنٹ کے فائدے کو مد نظر رکھ کر اس صورت میں بھی عیب دار آئٹمز کو واپس کر لیا جائے تو بہتر ہے۔

(۱)            فقہ البیوع: (۲/۸۵۵)، الباب الثانی فی الخیارات فی البیع الصحیح، میں ہے:

و کثيرا ما يحدث ان البائع يعرض علي المشتري بعد ثبوت خيار العيب له انه سيزيل ذالک العيب و هذا يمکن بطريقين۔

الاول: أن يبدل المبيعَ بعينٍ جديدة سالمة من العيب، مثل أن يبيع سيارة فيجد المشتري بها عيباً، فيقول المشتري: أنا آتيک بسيارة أخري سليمة من العيب بنفس المواصفات۔ و إن هذا العرض من قبل البائع لا يسقط خيار المشتري، بل يجوز له ان يرفض هذا العرض، و ذلک لأنّ السيارة الجديدة غير ما اشتراه المشتري، فلا يحقُّ للبائع أن يجبره علي قبولها، ولئن قَبِلها، فإنَّه إقالة للبيع السابق، و بيعٌ جديد للسيارة الأخري، فيحتاجُ إلي تراضي الطرفين۔

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved