• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

گمشدہ بہن بھائی کا میراث میں حصہ کس کو ملے گا؟

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ چھ بھائی ہیں اور دو بہنیں ہیں ایک بھائی اور ایک بہن گم ہو گئے تھے  ان کی وراثت کا حصہ کن کو ملے گا بھائی لوگ آپس میں تقسیم کرنے کے خواہش مند ہیں  اور اپنی  موجودہ بہن کو اس گمشدہ  بھائی کی وراثت سے محروم کرنا چاہتے ہیں کیا ازرؤے شریعت  گمشدہ  بھائی کی وراثت  سے  اس موجودہ  بہن کو حصہ ملے گا  یا نہیں؟ نیز گمشدہ بہن کا حصہ کس کس کو ملے گا؟

وضاحت مطلوب ہے: 1۔ایک بھائی اور ایک بہن  کب  گم ہوئے؟2۔اور کیا گم ہونے والوں کی اپنی بھی کوئی وراثت ہے؟

جواب وضاحت:1۔ گم ہوئے 90 سال ہوگئے ہیں۔ 2۔ وراثت والد صاحب کی ہے گم ہونے والوں کی کوئی وراثت نہیں ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں نوے سال سے لاپتہ بھائی،بہن کا حصہ والد کی وفات کے وقت موجود ورثاء (پانچ بھائی اور ایک بہن) کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم کیا جائے گا اور کسی کو بھی اس سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

السراجی فی المیراث (ص:54) میں ہے:

المفقود حي في ماله حتى لا يرث منه أحد و ميت في مال غيره حتى لا يرث من أحد و يوقف ماله حتى يصح موته أو تمضي عليه مدة، و اختلف الروايات في تلك المدة ففي ظاهر الرواية أنه إذا لم يبق أحد من أقرانه حكم بموته …………….فإذا مضت المدة فماله لورثته الموجودين عند الحكم بموته.

فتح القدیر (6/149) میں ہے:

قال المصنف (‌والأرفق) ‌أي ‌بالناس (أن يقدر بتسعين) وأرفق منه التقدير بستين. وعندي الأحسن سبعون لقوله  صلى الله عليه وسلم  «أعمار أمتي ما بين الستين إلى السبعين» فكانت المنتهى غالبا.

وقال بعضهم: يفوض إلى رأي القاضي، فأي وقت رأى المصلحة حكم بموته واعتدت امرأته عدة الوفاة من وقت الحكم للوفاة كأنه مات فيه معاينة.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved