- فتوی نمبر: 18-212
- تاریخ: 20 مئی 2024
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان
استفتاء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جناب عالی مورخہ 20-01-26 کی رات تقریبا ساڑھے بارہ پر جب میں اور میری بیوی کھانا کھا کرسونے لگے تو ہم میاں بیوی کا آپس میں جھگڑا ہوگیا۔ میں کاروباری طور پر پہلے ہی پریشان اور غصے میں تھا ،اس لئے بیوی سے کافی جھگڑا ہوگیا۔ مورخہ 20-1-27 کو صبح تقریبا جب میں ناشتہ کر کے کمرے میں آیا تو میری بیوی نے لڑنا جھگڑنا شروع کردیا، لڑتے لڑتے بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی اس نے مجھے دھکا دے دیا اور تنگ آکر میری بیوی نے مجھ سے طلاق کامطالبہ کردیا ،میں نے غصے کی حالت میں اسے کہہ دیا کہ’’ میں نے طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی‘‘
شوہر
مورخہ 20-1-26کو میرا اپنےشوہر کے ساتھ گھریلو تنازعات کی بنا پر جھگڑا ہوا تھا اور اس سے پہلے بھی کئی بار جھگڑا ہوتا رہتا تھا جس کی وجہ سے میں ذہنی طور پر اذیت میں رہتی تھی ،اب جب جھگڑا ہوا تو میں پریشان ہوگئی اور اپنے شوہر کو یہ کہہ دیا کہ اگر آپ مجھ سے تنگ ہیں تو مجھے فارغ کر دیں لیکن میں دلی طور پر یہ نہیں چاہتی تھی، نہ میرا طلاق لینے کا ارادہ تھا، اس دن ہم میاں بیوی کے درمیان جو کچھ ہوا مجھے اس کا افسوس ہے میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔
آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ کا حل نکال دیں آپ کی مہربانی ہوگی
شوہر کا حلفی بیان
میں نے غصے میں جو کچھ کہا ہے مجھے پتا تھا یعنی غصہ کی یہ کیفیت تھی کہ مجھے ہوش تھاکہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور زبان سے الفاظ ادا ہو گئے ،لیکن میرا طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھابغیر ارادے کےزبان سے یہ الفاظ نکل گئے۔
بیوی کا حلفیہ بیان
جناب عالی گزارش ہے مورخہ 20-1-26 کومیرااپنے شوہر کے ساتھ گھر یلو تنازعات کی بنا پر جھگڑا ہوا تھا ،اس سے پہلے بھی ان کے ساتھ گھر پر جھگڑا ہوتا رہتا تھا،اس پر میں ذہنی اذیت کا شکار تھی ،اب جب جھگڑا ہوا تو میں نے پریشانی میں تنگ آکر اپنے شوہر سے کہا کہ جب آپ مجھ سے تنگ ہیں تو مجھے فارغ کر دیں حالانکہ میں ایسا چاہتی نہیں تھی اور نہ ہی میرا طلاق کا ارادہ تھا ،اس دن ہم میاں بیوی کے درمیان جو کچھ ہوا ،مجھے اس کا افسوس ہے،میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ، انہوں نے شدیدغصے کی حالت میں کہا کہ ’’میں نے طلاق دی ،طلاق دی ،طلاق دی ‘‘مہربانی فرماکر قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے کا حل نکال دیں۔میں حلفی بیان دیتی ہوں کہ ایسا ہی ہوا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں طلاق دی ہے لیکن غصے کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ اسے کچھ پتہ ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ ہی غصے میں اس سے خلاف عادت ،کوئی قول یا فعل صادر ہوا ہے۔ غصہ کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے ،لہذا مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، لہذا اب نہ صلح ہو سکتی ہےاور نہ رجوع کی گنجائش ہے۔
شامی جلد 4 صفحہ 439 میں ہے:
قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.
الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله.
وفيه بعد اسطر
فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن ادراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.
بدائع الصنائع جلد 3 صفحہ 295 میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠]
© Copyright 2024, All Rights Reserved