- فتوی نمبر: 34-325
- تاریخ: 21 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
بیوی کا مؤقف:
صبح کے وقت میرے شوہر ناشتہ کر رہے تھے ہم دونوں کے درمیان گزشتہ روز تعلقات اچھے نہیں تھے پچھلی رات جنابت سے فارغ ہونے کے بعد میرے شوہر نے مجھ سے غیر شرعی مطالبہ کیا جس پر میں ڈٹ گئی اور ان کا حکم ماننے سے صاف انکار کر دیا جس کی وجہ سے انہیں بہت غصہ آیا اور انہوں نے میرے بال کھینچ کر زبردستی منہ کھولنا چاہا اور زوردار تھپڑ بھی لگایا۔یہی وجہ تھی کہ ہمارے درمیان تناؤ تھا۔کچھ دیر بعد انہوں نے معذرت کی،میں نے معافی قبول کی لیکن دوبارہ ٹھیک سے بات نہ کی ۔وہ ناشتے کے لیے چائے بنا رہے تھے میں بچے کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی بچہ بھوک سے رو رہا تھا۔انہوں نے دودھ پلانے کا کہا اور میں نے کھانا کھلانا تھا لیکن ان سے کہہ دیا کہ دودھ آ گیا ہے آپ دے دیں پھر وہ کہنے لگے کہ آپ خود بھی بھوکی رہتی ہو اور بچے کو بھی بھوکا رکھتی ہو،جب گھر میں کھانا ہوتا ہے تب بھی نہیں کھاتی اور جب نہیں ہوتا تو بولتی رہتی ہو۔میں نے کہہ دیا ہاں نہیں ہوتا تو پھر انہوں نے کہا ناشکری ہو تم کبھی تم نے مانا ہی نہیں ہے۔میرے گھر والوں کو بدنام کیا ہوا ہے،” طلاق ،طلاق ،طلاق ،اپنا سامان اٹھا اور جان ڈھونڈ لے اپنا محرم کوئی اور” کیا کوئی گنجائش باقی ہے؟
شوہر کا مؤقف:
جی بالکل واقعہ ایسا ہی ہے لیکن جب میں طلاق کے الفاظ بول رہا تھا اس وقت میں غصے میں تھا اور مجھے پتہ نہیں چلا کہ میں کیا بول رہا ہوں لیکن بعد میں دو تین گھنٹوں بعد مجھے یاد آنے لگا کہ میں نے طلاق کے الفاظ بولے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بیوی کو تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے،لہذا اب صلح یا رجوع کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
توجیہ:مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر کا یہ کہنا ہے کہ مجھے علم نہیں تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کو اپنی کہی ہوئی بات کا علم نہ تھا لیکن چونکہ شوہر کو بعد میں احساس ہوا کہ اس نے تین بار طلاق کے الفاظ بولے ہیں،اس لیے یہ صورت عدم علم کی نہیں بلکہ علم کے بعد بھول جانے کی ہے اور بھول جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے جیسا کہ شامی کی خط کشیدہ عبارت سے معلوم ہوتا ہے۔
شامی (439/4) میں ہے:
قلت وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها إنه على ثلاثة أقسام أحدها أن يحصل له مبادي الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده وهذا لا إشكال فيه
الثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله
الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله اه ملخصا من شرح الغاية الحنبلية لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال ويقع طلاق من غضب خلافا لابن القيم اه وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل نعم يشكل عليه ما سيأتي في التعليق عن البحر وصرح به في الفتح والخانية وغيرهما وهو لو طلق فشهد عنده اثنان أنك استثنيت وهو غير ذاكر إن كان بحيث إذا غضب لا يدري ما يقول وسعه الأخذ بشهادتهما وإلا لا اه فإن مقتضاه أنه إذا كان لا يدري ما يقول يقع طلاقه وإلا فلا حاجة إلى الأخذ بقولهما إنك استثنيت وهذا مشكل جدا إلا أن يجاب بأن المراد بكونه لا يدري ما يقول أنه لقوة غضبه قد ينسى ما يقول ولا يتذكره بعد وليس المراد أنه صار يجري على لسانه ما لا يفهمه أو لا يقصده إذ لا شك أنه حينئذ يكون في أعلى مراتب الجنون ويؤيد هذا الحمل أنه في هذا الفرع عالم بأنه طلق وهو قاصد له لكنه لم يتذكر الاستثناء لشدة غضبه هذا ما ظهر لي في تحرير هذا المقام والله أعلم بحقيقة المرام ثم رأيت ما يؤيد ذلك الجواب وهو أنه قال في الولوالجية إن كان بحال لو غضب يجري على لسانه ما لا يحفظه بعده جاز له الاعتماد على قول الشاهدين فقوله لا يحفظه بعده صريح فيما قلنا والله أعلم
نیز الدر المختار مع ردالمحتار(621/4) میں ہے:
ولو شهدا بها وهو لا يذكرها إن كان بحال لا يدري ما يجري على لسانه لغضب جاز له الاعتماد عليهما وإلا لا۔ بحر
قوله ( إن كان بحال الخ ) أما لو لم يكن بتلك الحال لا يجوز له الاعتماد عليهما كما في الفتح وغيره.
قلت ومقتضى هذا الفرع أن من وصل في الغضب إلى حال لا يدري فيها ما يقول يقع طلاقه وإلا لم يحتج إلى اعتماد قول الشاهدين إنه استثنى مع أنه مر أول الطلاق أنه لا يقع طلاق المدهوش وأفتى به الخير الرملي فيمن طلق وهو مغتاظ مدهوش لأن الدهش من أقسام الجنون ولا يخفى أن من وصل إلى حالة لا يدري فيها ما يقول كان في حكم المجنون وقدمنا الجواب هناك بأنه ليس المراد بما هنا أنه وصل إلى حالة لا يدري ما يقول بأن لا يقصده ولا يفهم معناه بحيث يكون كالنائم والسكران بل المراد قد ينسى ما يقول لاشتغال فكره باستيلاء الغضب والله تعالى أعلم
بدائع الصنائع ( 295/3 ) میں ہے:
و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلى هو زوال الملك و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج أخر لقوله عز وجل :فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتی تنکح زوجا غيره ( البقرة : 230)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved