• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

گذشتہ سال کی پیداوار پر قیاس کرکے پھل بیچنا

استفتاء

ہمارا باغ کے پھلوں کا  کا روبار ہے جس میں پھلوں کی بیع سے متعلق مختلف صورتیں پیش آتی ہیں ان میں سے  ایک صورت یہ ہے کہ باغ والاپھل ظاہرہونے سے پہلے ہی یہ معاملہ کرتا ہے کہ گذشتہ سال اتنی  پیٹیاں باغ سے نکلی تھیں،اسی پر قیاس کرکے اس سال بھی اتنی ہی ہوں گی، اس لیے اسی حساب سے قیمت طے کرکے  رقم  لے لی جاتی ہے بعد میں جتنا بھی پھل ہو ۔کیا یہ صورت جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت جائز نہیں ہے ۔

توجیہ: مذکورہ صورت معدوم کی بیع کی بنتی ہے جو کہ جائز نہیں ۔ نیز مذکورہ صورت میں مبیع مجہول بھی ہے اور مبیع کی جہالت مفسد عقد ہے۔

شامی (4/554) میں ہے:

(‌ومن ‌باع ‌ثمرة بارزة) أما قبل الظهور فلا يصح اتفاقا

(قوله: أما قبل الظهور) أشار إلى أن البروز بمعنى الظهور، والمراد به انفراد الزهر عنها وانعقادها ثمرة وإن صغرت

بدائع الصنائع (5/156) میں ہے:

(ومنها) ‌أن ‌يكون ‌المبيع ‌معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة.

فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجهالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع، وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة لا تمنع من ذلك؛ فيحصل المقصود

بدائع الصنائع (5/ 138) میں ہے:

«وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها) : أن يكون موجودا ‌فلا ‌ينعقد ‌بيع ‌المعدوم، وماله خطر العدم كبيع نتاج النتاج بأن قال: بعت ولد ولد هذه الناقة وكذا بيع الحمل؛ لأنه إن باع الولد فهو بيع المعدوم، وإن باع الحمل فله خطر المعدوم، وكذا بيع اللبن في الضرع؛ لأنه له خطر لاحتمال انتفاخ الضرع، وكذا بيع الثمر، والزرع قبل ظهوره؛ لأنهما معدوم»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved