- فتوی نمبر: 31-303
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > روزہ و رمضان > روزہ توڑ دینے کے اعذار کا بیان
استفتاء
سوال یہ ہے کہ:
مشکوۃ المصابیح(حدیث نمبر:2025)میں ہے:
عن أنس بن مالك الكعبي قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: ” «إن الله وضع عن المسافر شطر الصلاة والصوم عن المسافر وعن المرضع والحبلى» ” رواه أبو داود والترمذي والنسائي، وابن ماجه
ترجمہ: حضرت انس بن مالک کعبی ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے مسافر سے نصف نماز ساقط فرما دی جبکہ مسافر ، دودھ پلانے والی اور حاملہ خاتون سے روزہ ساقط فرما دیا ۔‘‘ ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
اس حدیث کے مطابق آج کل لوگ کہتے ہیں کہ عورت کو خاص ایام اور بچے کی ولادت سے پہلے طبیعت کی خرابی اور پھر2 سال دودھ پلانے کی وجہ سے روزے معاف ہیں اس پر قضاء یا کفارہ کچھ لازم نہیں ہے۔
مذکورہ حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ روزہ ساقط فرمادیا تو جب روزہ معاف ہے تو قضاء یا کفارہ کیوں لازم آئے گا؟ تفصیلی جواب اور فتوی درکار ہے۔
میں نے اس حدیث کی روشنی میں دارالعلوم جامعہ بنوریہ کو استفتاء بھیجا تو اس کا جواب مجھے کچھ نہیں آیا البتہ میں نے انٹرنیٹ سے سوال وجواب کی صورت میں مواد نکال کر آپ کو سینڈ کردیا ہے جو کہ درج ذیل ہے:
سوال:دودھ پلانے والی اور حاملہ کے لیے روزے کا حکم کیا ہے ؟ کیا فدیہ دینے کے ساتھ روزہ کی قضا بھی ہے ؟
جواب:1۔صورتِ مسئولہ میں اگر دودھ پلانے والی خاتون کو روزہ رکھنے سے اپنی یا بچہ کی صحت کو نقصان پہنچنے کا غالب گمان ہو اور ماں کے دودھ کے علاوہ بچے کی اور کوئی غذا نہ ہو تو ایسی صورت میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہےاور بعد میں قضاکرنا لازم ہے، فدیہ دینے کی اجازت نہیں ہے ۔
2 ۔ صورتِ مسئولہ میں اگر حاملہ عورت کو غالب گمان ہو کہ روزہ رکھنے سے اس کی جان یا بچہ کی صحت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے تو ایسی صورت میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور بعد میں قضا کرنا لازم ہے، فدیہ دینا جائز نہیں ہے ۔
ملحوظ رہے کہ فدیہ دینے کی اجازت اس بیماری کی صورت میں ہوتی ہے جس بیماری سے تاحیات شفا کی امید نہ رہے، ایسی صورت میں ایک روزے کا فدیہ ایک صدقۃ الفطر کی مقدار ہے،…
ملحوظ رہے کہ فدیہ دینے کی اجازت اس بیماری کی صورت میں ہوتی ہے جس بیماری سے تاحیات شفا کی امید نہ رہے، ایسی صورت میں ایک روزے کا فدیہ ایک صدقۃ الفطر کی مقدار ہے، یعنی گندم کی صورت میں پونے دو کلو گندم یا اس کا آٹا یا اس کی قیمت، اور “جو” کی صورت میں ساڑھے تین کلو “جو” یا اس کا آٹا یا اس کی قیمت کسی مستحق کو دینا۔ اور فدیہ دینے کے بعد اگر بیماری ختم ہوجائے اور روزے پر قدرت حاصل ہوجائے تو روزوں کی قضا لازم ہوگی، اور جو فدیہ دیا گیا وہ نفلی صدقہ بن جائے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے ۔
(ومنها حبل المرأة، وإرضاعها) الحامل والمرضع إذا خافتا على أنفسهما أو، ولدهما أفطرتا وقضتا، ولا كفارة عليهما، كذا في الخلاصة.( کتاب الصوم باب الخامس فی الاَعذار التی تبیح الافطار جلد 1/ 207/ ط : دار الفکر )
فتح القدیر میں ہے :
“(والحامل والمرضع إذا خافتا على أنفسهما أو ولديهما أفطرتا وقضتا) دفعا للحرج (ولا كفارة عليهما) لأنه إفطار بعذر (ولا فدية عليهما).” ( کتاب الصوم باب ما یوجب القضاء و الکفارۃ جلد 2/ 355/ ط : دار الفکر )فقط والله اعلم
فتوی نمبر : 144212201502
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حائضہ عورت کے لیے روزوں کے بدلے فدیہ دینے کا حکم
سوال:رمضان میں جو روزے چھوٹ جاتے ہیں(بیماری میں یا حیض نفاس میں)تو ان کی قضا رکھنی چاہیے، اگر کوئی نہ رکھ سکے تو فدیہ ادا کرنا ٹھیک ہے یا وہ رکھنے ہیں ہر حال میں؟ اگر فدیہ ٹھیک ہے تو ایک روزے کا کتنا فدیہ ہو گا ؟
جواب:مذکورہ صورت میں روزے کا فدیہ ادا کرنے سے قضا کا حکم ساقط نہیں ہوگا، بلکہ ان روزوں کی قضاکرنا ہی لازم ہے، واضح رہے کہ فدیہ کا حکم شرعاً صرف اس شخص کے لیے ہے جو کسی دائمی مرض(جس بیماری سے صحت کی امید نہ ہو) میں مبتلا ہو جس کی وجہ سے روزے کی طاقت نہ ہو یا شیخ فانی ہو( یعنی انتہائی بوڑھا ہو چکا ہو اور روزے کی طاقت نہ ہو) اس کے علاوہ کسی صورت میں فدیہ کی ادائیگی سے قضا کا حکم ساقط نہیں ہوگا۔
حاشية رد المختار على الدر المختار (2/ 74)
“أن النص إنما ورد في الشيخ الفاني أنه يفطر ويفدي في حياته حتى أن المريض أو المسافر إذا أفطر يلزمه القضاء إذا أدرك أياماً أخر، وإلا فلا شيء عليه، فإن أدرك ولم يصم يلزمه الوصية بالفدية عما قدر هذا ما قالوه، ومقتضاه أن غير الشيخ ليس له أن يفدي عن صومه في حياته؛ لعدم النص”.فقط والله اعلم
فتوی نمبر : 144001200189دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس حدیث سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مسافر اور دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ عورت سے روزہ ساقط ہے اب اس روزے کی بعد میں قضاء ہے یا نہیں ؟ تو اس حدیث میں اس کا کچھ تذکرہ نہیں لہذا اس حدیث کے پیش نظر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس روزہ کی نہ قضا ہے اور نہ کوئی کفارہ ۔ جبکہ قرآنی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو آدمی بیماری یا سفر کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتا ہو تو وہ بعد میں روزہ رکھے چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
’’فمن شهد منكم الشهر فليصمه و من کان مریضا أو على سفر فعدة من ايام اخر ‘‘ [سور ۃ البقرۃ آیت نمبر:184]
ترجمہ :سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اس کے اور جو کوئی بیمار یا مسافر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے۔
اسی آیت کے پیش نظر جب مریض اور مسافر کو بعد میں قضا کرنی ضروری ہے تو حاملہ اور دودھ پلانے والی کو بھی بعد میں قضاء کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں بھی روزہ رکھنے سے معذور ہونے میں مریض اور مسافر کی طرح ہیں۔نیز حضرت ابن عباس ؓ کی موقوف حدیث (جو مصنف عبدالرزاق میں ہے)اور حضرت حسن بصری ؒ اور ابراہیم نخعی ؒ کی مقطوع حدیث (جو بخاری شریف میں ہے)سے بھی حاملہ اور دودھ پلانے والی کےلیے قضاء کرنا ثابت ہے۔
بخاری شريف (3/1967 ط :البشرى) میں ہے:
وقال الحسن وإبراهيم في المرضع والحامل: إذا خافتا على أنفسهما أو ولدهما تفطران ثم تقضيان، وأما الشيخ الكبير إذا لم يطق الصيام، فقد أطعم أنس بعد ما كبر عاما أو عامين، كل يوم مسكينا، خبزا ولحما، وأفطر.
امام حسن بصری ؒاور ابراہیم نخعیؒ نے فرمایا: دودھ پلانے والی یا حاملہ کو اگر اپنی یا اپنے بیٹے کی جان کا خوف ہو تو وہ افطار کرلیں اور پھر اس کی قضاء کرلیں اور بہرحال بوڑھا ضعیف شخص جب روزہ نہ رکھ سکے (تو وہ فدیہ دے) چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی جب بوڑھے ہوگئے تھے تو وہ ایک سال یا دو سال روزانہ(رمضان میں) ایک مسکین کو روٹی اور گوشت دیا کرتے تھے اور انہوں نے روزہ رکھنا چھوڑدیا تھا ۔
مصنف عبدالرزاق(4/ 52 رقم الحدیث:7697)میں ہے:
عبد الرزاق، عن الثوري، وعن ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس قال: تفطر الحامل والمرضع في رمضان، وتقضيان صياما ولا تطعمان.
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا :حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت رمضان میں روزہ نہیں رکھیں گی، دونوں روزہ کی قضاء کرلیں گی ۔یہ دونوں کھانا نہیں کھلائیں گی(فدیہ نہیں دیں گی)۔
مصنف عبدالرزاق(4/53 رقم الحدیث:7698)میں ہے:
عبد الرزاق، عن معمر، عن قتادة، عن الحسن قال: تقضيانه صياما، بمنزلة المريض يفطر ويقضي، والمرضع كذلك
ترجمہ:حسن بصری ؒ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی دونوں روزہ کی قضاء کریں گی ،اس بیمار شخص کی طرح جو روزہ نہیں رکھتا اور بعد میں قضاء کرلیتا ہے،دودھ پلانے والی عورت کا حکم بھی یہی ہے۔
اعلاء السنن (9/155)میں ہے:
فان قلت:لفظ الوضع یقتضی أن لايجب القضاء.
قلت:النص القاطع و هو قوله تعالى: فعدة من ايام أخر. أوجب القضاء على المسافر و أن الحبلى و المرضع عطفتا عليه فى الحديث فالظاهر اتحاد حكمهم الا اذا دل دليل قوي على خلافه.
بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع(2/97)میں ہے:
وأما حبل المرأة وإرضاعها: إذا خافتا الضرر بولدهما فمرخص لقوله تعالى {فمن كان منكم مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر} [البقرة: 184] .وقد بينا أنه ليس المراد عين المرض، فإن المريض الذي لا يضره الصوم ليس له أن يفطر فكان ذكر المرض كناية عن أمر يضر الصوم معه.وقد وجد ههنا فيدخلان تحت رخصة الإفطار.
وقد روي عن النبي – صلى الله عليه وسلم – أنه قال: «يفطر المريض، والحبلى إذا خافت أن تضع ولدها، والمرضع إذا خافت الفساد على ولدها» .
وقد روي عن النبي – صلى الله عليه وسلم – أنه قال: «إن الله وضع عن المسافر شطر الصلاة وعن الحبلى، والمرضع الصيام» وعليهما القضاء ولا فدية عليهما عندنا.
وقال الشافعي: عليهما القضاء، والفدية لكل يوم مد من حنطة، والمسألة مختلفة بين الصحابة، والتابعين فروي عن علي من الصحابة، والحسن من التابعين أنهما يقضيان ولا يفديان وبه أخذ أصحابنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved