• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ہاتھ کے بالوں پر یاایک بال کی نوک پر آٹا لگ کر خشک ہو جائے تو وضو اور نماز کا حکم

استفتاء

اگر ہاتھ کے بالوں پر  یاایک بال کی نوک پر آٹا لگ کر خشک ہو جائے اور ایسے ہی وضو کر کے نماز پڑھ لی تو نماز ہو جائے گی؟آٹا ایک نقطہ کے برابر بال کی نوک پر لگا رہ  گیا اور نماز پڑھ لی تو اب دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھوں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر غالب گمان یہ ہے کہ آٹا لگا ہونے کے باوجود پانی بال تک پہنچ گیا ہوگا تو نماز ہو گئی ورنہ اگر سابقہ وضو باقی ہے تو اس آٹے کو چھڑا کر صرف آٹے والی جگہ کو دھو کر اور اگر سابقہ  وضو باقی نہیں ہے تو دوبارہ وضو کر کے مذکورہ نماز کو لوٹائیں۔

شامی (1/154) میں ہے:

(ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي ‌خرء ‌ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه به يفتى (ودرن ووسخ) عطف تفسير وكذا دهن ودسومة (وتراب) وطين ولو (في ظفر مطلقا) أي قرويا أو مدنيا في الأصح بخلاف نحو عجين

(قوله: بخلاف نحو عجين) أي كعلك وشمع وقشر سمك وخبز ممضوغ متلبد جوهرة، لكن في النهر: ولو في أظفاره طين أو عجين فالفتوى على أنه مغتفر قرويا كان أو مدنيا. اهـ. نعم ذكر الخلاف في شرح المنية في العجين واستظهر المنع؛ لأن فيه لزوجة وصلابة تمنع نفوذ الماء

(قوله: به يفتى) صرح به في الخلاصة وقال: لأن الماء شيء لطيف ‌يصل ‌تحته غالبا اهـ ويرد عليه ما قدمناه آنفا ومفاده عدم الجواز إذا علم أنه لم يصل الماء تحته، قال في الحلية وهو أثبت

مسائل بہشتی زیور(1/ 38) ميں  ہے:

اگر کسی کے ناخن میں آٹا لگ کر سوکھ گیا اور اس کے نیچے پانی نہیں پہنچا تو وہ وضو نہیں ہوا ۔جب یاد آئے اور آٹا دیکھے تو چھڑا کر اس جگہ پانی ڈال لے اور اگر چھڑانے میں اور پانی ڈالنے سے پہلے کوئی نماز پڑھ لی ہو تو اس کو لوٹائےاور پھر سے پڑھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved