- فتوی نمبر: 31-287
- تاریخ: 05 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > عمرہ کے احکام
استفتاء
میں عمرہ پر گئی تھی مجھے ایام شروع ہوگئے جوکہ کچھ الگ سے تھے، میرا بے ترتیب ایام کا مسئلہ ہے تو 5 دن کے بعد جب وہ بالکل رک گئے تو مجھے تسلی ہوگئی تو میں نے جاکر عمرہ ادا کرلیا اس کے بعد ہوٹل آکر بھی کچھ ناپاکی نہیں تھی پھر اگلے دن ہم مدینہ گئے وہاں پہنچ کر ایک دو قطرے ناپاکی تھی جوکہ بس وہی تھی اس کے بعد کچھ خون نہیں آیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیونکہ دوران عمرہ کوئی ناپاکی نہیں تھی اور میں نے تسلی بھی کرلی تھی اس صورتحال میں کیا مجھے کوئی صدقہ/ دم دینا ہوگا؟ اس معاملے میں میری رہنمائی فرمادیں۔
تنقیح: قطرہ آنے کے بعد (کافی دن ہوگئے تھے صحیح سے تو یاد نہیں ہے لیکن میرا خیال ہے ) اگلے حیض ہی آئے تھے اور ایک مہینہ کے آس پاس پاکی کے دن گذرے تھے ۔ ایک اور وضاحت یہ کہ وہ قطرہ جیسا بھی نہیں تھا بس ٹشو سے صاف کرنے پر ہلکا سا رنگ تھا۔ عادت 5-6 دن ہیں یعنی غیر معمولی پیریڈ ہیں اس لیے ایک جیسا نہیں رہتا ۔اگلا حیض بھی کبھی مہینے پر آتا ہے کبھی دیر سے، اور کبھی 2 ماہ بھی فاصلہ ہوجاتا ہے۔ عمرہ کے موقع پر جب میرے پیریڈ شروع ہوئے تھے تب بھی وہ دن جو عام طور پر میرے حیض کے دن بنتے تھے ان دنوں میں نہیں آئے تھے بلکہ بچھلے پیریڈ کے تقریبا 25 دن بعد آئے تھے۔ اسی لیے سارا مسئلہ ہوا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں عمرہ حیض کے دوران ہوا ہے جس کی جزاء حدود حرم کے اندرا یک بکرا ذبح کرنا ہوگا اگر آپ خود مکہ میں نہ ہوں تو کسی آنے جانے والے کو پیسے دے کر وہاں ذبح کروادیں۔
توجیہ: اگر کوئی عورت حیض کے دنوں میں اپنی عادت سے زائد خون دیکھے اور یہ خون دس دنوں کے اندر اندر آیا ہو اور اس کے بعد پندرہ دن یا اس سے زائد مکمل پاکی کے بھی گذر گئے ہوں تو یہ خون بھی اور اس سے پہلے دن بھی حیض میں شمار ہوں گے اور یہ سمجھا جائے گا کہ اس عورت کی عادت تبدیل ہوگئی ہے اس ضابطے کے پیش نظر آپ کا عمرہ حیض میں ہوا ہے اور ناپاکی کی حالت میں عمرہ کرنے کی جزاء میں دم بکرا / بکری آتا ہے جو حدود حرم میں ذبح کیا جاتا ہے۔لہٰذا مذکورہ صورت میں آپ کے ذمے دم ہوگا جو حدود حرم میں ذبح کرنا ہوگا۔
شامی(1/524) میں ہے:
(والزائد على أكثره) أي في حق المبتدأة، أما المعتادة فما زاد على عادتها ويجاوز العشرة في الحيض والأربعين في النفاس يكون استحاضة كما أشار إليه بقوله أو على العادة إلخ. أما إذا لم يتجاوز الأكثر فيهما، فهو انتقال للعادة فيهما، فيكون حيضا ونفاسا.
شامی(2/662) میں ہے:
لو طاف للعمرة جنبا أو محدثا فعليه دم
(قوله وفي الفتح إلخ) عزاه إلى المحيط، ونقله في الشرنبلالية، ومثله في اللباب حيث قال: ولو طاف للعمرة كله أو أكثره أو أقله ولو شوطا جنبا أو حائضا أو نفساء أو محدثا فعليه شاة لا فرق فيه بين الكثير والقليل والجنب والمحدث لأنه لا مدخل في طواف العمرة للبدنة ولا للصدقة، بخلاف طواف الزيارة
فتح القدیر (3/70) میں ہے:
(والهدي لا يذبح إلا بمكة) لقوله تعالى {هديا بالغ الكعبة} [المائدة: 95] (ويجوز الإطعام في غيرها) خلافا للشافعي – رحمه الله -. هو يعتبره بالهدي والجامع التوسعة على سكان الحرم، ونحن نقول: الهدي قربة غير معقولة فيختص بمكان أو زمان. أما الصدقة قربة معقولة في كل زمان ومكان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved