• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

حاجی کا مدینہ سے واپسی پر طواف وداع کا اعادہ

استفتاء

السلام علیکم حضرت

بعض حاجی مکہ سے مدینہ روانگی کے وقت ہی طواف الوداع کر لیتے ہیں جبکہ انکو دوبارہ مکہ آکر ایک دو یا کچھ دن بعد جدہ سے اپنے ملک روانہ ہوناہوتا ہے۔

اس صورت میں اگر بیماری یا وقت کی قلت مانع نہ ہو اور حاجی طواف الوداع دوبارہ نہ کرے تو کیا اس صورت میں اس پر دم آئے گا؟

ایک مفتی صاحب سے جواب یہ ملا کہ احناف کے یہاں طواف زیارت کے بعد کبھی بھی طواف وداع کر سکتے ہیں اور ایک مرتبہ طواف کرلیا تو ذمہ سے وجوب ساقط ہوجائے گا  افضل یہ کہ آخری دن کرے لیکن جب بھی کرلے دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ جبکہ دوسرے مفتی صاحب سے جواب ملا کہ دم لازم ہو گا۔

ولو ترک کله أو أکثره ولا یتحقق الترک إلا بالخروج من مکة؛ لأنه ما دام فیها لم یطالب به ما لم یرد السفر، فعلیه شاة إن لم یرجع، وعلیه الرجوع حتمًا لیطوف ما لم یجاوز المیقات، وبعده یخیر بین إراقة الدم والرجوع بإحرام جدید بعمرۃ. (غنیة الناسک / باب الجنایات: 275)

آپ سے تحقیق و تنقیح کی درخواست ہے۔

وضاحت مطلوب ہے

کہ اس حاجی نےمدینہ سے مکہ آ کر عمرہ کیا ہے کہ نہیں؟

جواب وضاحت:

حضرت دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ بعض حاجی حضرات مدینہ شریف سے جدہ ائیر پورٹ جاتے ہوئے کچھ وقت میسر آنے کی صورت میں ایک نماز حرم مکی میں ادا کرنے مکہ شریف پہنچ جاتے ہیں اور اس قلیل وقت میں عمرہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

طواف وداع صرف حج میں ہوتا ہے، جو مذکورہ صورت میں حاجی نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ روانگی کے وقت کر لیا ہے، لہذا اس حاجی پر دوبارہ طوافِ وداع کرنا بنتا ہی نہیں۔ البتہ یہ حاجی جب مدینہ سے مکہ واپس آیا ہے تو اس پر عمرہ کرنا لازم تھا اگر اس نے عمرہ نہ کیا تو اس پر دم آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved