• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

حکومت کی طرف سے الاٹ کی گئی زمین

استفتاء

ایک بھائی فوج میں ملازم تھا، وہ سیاچین بارڈر پر دوران سروس شہید ہو گیا، اس کے ہاں ایک بچہ اور ایک بیوی تھی، شہادت کے بعد آرمی کی طرف سے شہید کو نقد رقم دی جاتی ہے  یا اگر وارث مطالبہ کریں تو حکومت کی جانب سے شہید کو زمین بھی الاٹ کی جاتی ہے، شہید کے وارث (والد صاحب) نے درخواست دی کہ زمین دی جائے، یہ مطالبہ حکومت نے مانتے ہوئے شہید کی بیوی کے نام سو کنال زمین انتقال کر دی، کچھ عرصہ بعد شہید کے والد نے شہید کی بیوی کے نام جو زمین  تھی شہید کے والد نے اسے فروخت کر دیا اور پھر اسی فروخت ہونے والی زمین کی رقم سے شہید کے ذاتی بیٹے کے نام نئی زمین خرید کر کے انتقال کروا دی، اب یہ زمین شہید کے بیوی کے نام نہ رہی بلکہ اس نا بالغ بیٹے کے نام ہو گئی۔

کچھ عرصہ بعد شہید کی بیوی نے شہید کے دوسرے بھائی سے نکاح کر کے نئی زوجیت اختیار کر لی، اور اپنے نو زائیدہ بابالغ بیٹے کا بھی اسی نئے شوہر کے ہاں پرورش کرتی رہی، اور اس کا نیا شوہر بھی یہ سمجھ کر کہ یہ میرا بھتیجا ہے، کی کفالت کرتا رہا، اس نے اس بچے کو تعلیم دلوائی، ڈبلومے کروائے، کہ یہ بچہ بڑا ہو کر میرا بازو بنے گا اور میری مدد کرے گا، اور اس کی شادی بھی کرا دی اور سارا خرچ بھی اسی چچا نے کیا، شادی کے بعد ماں اور چچا سے علیحدہ ہو کر جس چچا کے گھر شادی کی تھی چلا گیا، مگر کچھ عرصہ بعد شہید کے لڑکے اور اس کے چچاؤں کے درمیان کشیدگی بھڑک اٹھی۔

شہید کے والد سے شہید کے دوسرے بھائیوں نے مطالبہ کیا کہ ہم سب بھائی آپ کے زیر سایہ اکٹھے تھے اور مل کر کماتے اور کام کرتے تھے۔ اس لیے یہ زمین ہمارے نام بھی ہونی چاہیے۔ تو شہید کے والد نے کہا کہ شہید کا حقیقی بیٹا ابھی نا بالگ ہے جب یہ بالغ ہو جائے گا، تو یہ قطعہ اراضی آپس میں برابر تقسیم کر لینا، میری غلطی سے ساری زمین میں نے بچہ کے نام کرا دی ہے، یہ بات شہید کے والد نے گواہان کے رو برو کہی، کہ یہ  اراضی برابر بھائیوں میں تقسیم کی جائے گی۔

کچھ دنوں بعد شہید کا وارث اور شہید کے ذاتی بچے کا دادا بھی فوت ہو گیا۔ اب جبکہ شہید کا بیٹا بالغ ہے، مگر وہ دادا کے فرمان کو نہیں مانتا، اب اس نزاع کی صورتِ حال یہ ہے کہ شہید کی بیوی نے اپنے ذاتی بیٹے سے مطالبہ کیا ہے کہ بیٹا یہ رقبہ تو حکومت نے مجھے ہی ہبہ کیا تھا اور میرے ہی نام انتقال کرایا تھا۔ لہذا اس جائیداد میں سے مجھے بھی حق دیا جائے کیونکہ آخر میں بھی شہید کی ہی بیوی ہوں، اگرچہ نیا شوہر بھی کر چکی ہوں۔ شہید کے بیٹے سے شہید کی بیوی کے موجودہ شوہر کا مطالبہ ہے کہ مجھے بھی اپنا حق دیا جائے، کیونکہ تیرا چچا بھی ہوں اور آپ کی کفالت بھی کر چکا ہوں، آپ کی تعلیم  پر ذمہ کیا آپ کی شادی یہ خرچہ کیا کہ آپ بڑے ہو کر میرا بازو پکڑیں گے اور میری مدد کریں گے۔

شہید کے دوسرے بھائیوں کا شہید کے بچے سے مطالبہ ہے کہ ہمیں والد محترم کے حکم کے مطابق جائیداد میں سے حصہ دیا جائے۔

اب جبکہ شہید کی والدہ زندہ ہے، بیوی زندہ ہے اور بیٹا زندہ ہے، اور شہید کے چار بھائی بھی زندہ ہیں۔ شہید کا بیٹا اب دادا والی تقسیم سے انکاری ہے۔ اس طرح کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مطالبوں کا جھگڑا جنم لے چکا ہے۔ جناب سے استدعا ہے کہ شرعی طور پر مذکورہ جائیداد کے وارث بمطابق شرعی حصہ کے وہ ہمیں لکھ کر دے دیں تاکہ صحیح تقسیم کر کے ثالث صاحبان اس تنازعہ کو حل کر سکیں۔

تنقیح: حکومت نے زمین کی الاٹمنٹ جس خط کے ذریعے سے کی ہے اس کی نقل بھیجیں یا سرکاری قواعد و ضوابط کی نقل نکلوا کر بھیجیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ زمین تمام وارثوں کو نہیں بلکہ صرف بیوہ کو اور بیٹے کو دی گئی ہے۔ اور اس میں دونوں کا حصہ برابر کا ہے یعنی آدھی زمین بیوہ کی اور آدھی بیٹے کی، لہذا بیٹا صرف آدھی زمین رکھ سکتا ہے اور آدھی اپنی ماں کے سپرد کر دے۔

جس چچا نے باپ بن کر اس کو پالا ہوسا اس کی خواہش کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں، کچھ زمین اس کو بھی دے کر خوش کرے۔

دادا، دادی اور دیگر بھائیوں کا حصہ نہیں ہے۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved