- فتوی نمبر: 17-70
- تاریخ: 18 مئی 2024
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان
استفتاء
السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ
مجھ کو ایک مسئلہ جاننا ہے، ایک خاوند کے فوت ہو جانےکے بعدبیوی کے لئے چار ماہ دس دن کی عدت کیوں ہوتی ہے؟ اتنا ٹائم رکھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس کی ایک وجہ حمل کا ٹھہرنا ہوتا ہے؟ دوسری بات کہ کیا میاں بیوی کی ہمبستری کے بعد بیوی کو اپنے ٹائم پر پیریڈ ہو جائیں تو کیا اس کے بعد ہمبستری نہ کی جائےیعنی حمل کا چانس ہوتا ہے؟شریعت اس کا کیا حکم دیتی ہے؟ مثال کے طور پر ہمبستری کرنے کے بعد ایک ہفتہ یا دو، تین دن بعد پھر خون شروع ہو جاتا ہے تو اب حمل کا چانس ختم؟
وضاحت مطلوب ہےکیا کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے؟یامحض علمی دلچسپی کے لیے سوال پوچھا جا رہا ہے ؟ایسا واقعہ پیش آیا ہے تو اس کی تفصیل ذکر کریں؟
جواب وضاحت :
میرا سوال یہ ہے کہ مثال کے طور پر میں نے اپنی بیوی سے ستمبر کے مہینے میں پیریڈ ختم ہونے پر ہمبستری کی اور پھر اکتوبرکے پیریڈ شروع ہوگئے اکتوبر کےپیریڈ ختم ہونے کے بعد میں نے اکتوبرمیں ہمبستری نہیں کی اورپیریڈ ختم ہوگئے۔ اب نومبر میں جاکر یہ معلوم ہوا کہ حمل ہے ۔کیا ایسے ہو سکتا ہے کہ پچھلے مہینے میں ہمبستری ہونے کے بعد اگلے مہینے کے پیریڈ ختم ہونے پر ہمبستری نہ کی جائے تو حمل ٹھہر جاتا ہے؟شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ اصل میں یہ ہمارا مسئلہ دس سال پہلے کا ہے جس میں یہ صورت پیش آئی اور بیوی اس پر گواہ بھی پیش کر رہی ہے کہ میں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی۔ کیا بیوی کی بات معتبر ہوگی یا نہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
- خاوند کے فوت ہوجانے کے بعد اگر بیوی حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل (یعنی بچہ جننا) ہے اور اگر حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔چار ماہ دس دن کی عدت شوہر کی وفات پر سوگ کرنے کی وجہ سے ہے۔
- اپنے ٹائم پرپیریڈ ہوجائیں تو عموماحمل کا چانس ختم ہو جاتا ہے تاہم اس کو حتمی نہیں کہہ سکتے۔
کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جو پیریڈ آئے ہیں وہ کسی بیماری کی وجہ سے آئے ہوں حقیقی پیریڈ نہ ہوں،اس لیے محض اس وجہ سے بیوی کی بات غیرمعتبر نہیں ہو گی۔۔
© Copyright 2024, All Rights Reserved