• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

حرام رقم سے قرض وصول کرنا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنی حلال کمائی سے کچھ رقم سودی بینک کے کیشیئر کو قرض حسنہ کے طور پر دیتا ہے۔ پھر وہ کیشیئر اپنی تنخواہ کی رقم سے قرض خواہ کو اس کا قرض ادا کرتا ہے۔ اور قرض خواہ کو یہ معلوم ہے کہ یہ مجھے اپنی تنخواہ کی رقم سے دے رہا ہے۔ تو کیا قرض خواہ کے لیے اس رقم کو لینا اور اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کیا قرض خواہ کے اس رقم کو استعمال کرنے کی صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ وہ اپنی حلال رقم ہی استعمال کر رہا ہے؟ اور اگر جائز نہیں تو کیا یہ سمجھا جائے گا کہ قرض خواہ حرام رقم استعمال کر رہا ہے۔

نوٹ: قرض خواہ صاحب نصاب نہیں ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جس شخص کی کمائی حرام ہونا معلوم ہو بہتر تو یہ ہے کہ اسے قرض دینے سے اجتناب کریں۔ اگر مجبوری ہو تو اس سے اس کی کمائی سے قرض وصول کرنے کی گنجائش ہے۔ (مستفاد من فقہی مضامین)

في الدر المختار (7/ 301):

فإن مات أحدهما (بعد البيع الفاسد) فالمشتري أحق بالثمن من سائر الغرماء بل قبل تجهيزه فله حق حبسه حتى يأخذ ماله فيأخذ المشتري دراهم الثمن بعينها لو قائمة و مثلها لو هالكة بناء على تعيين الدراهم في البيع الفاسد و هو الأصح.

في رد المحتار (7/ 303):

و تتعين في الأمانات و الهبة و الصدقة و الشركة و المضاربة و الغصب.

و في الهداية ():

و ليس للبائع في البيع الفاسد أن يأخذ المبيع حتى يرد الثمن لأن المبيع مقابل .. و إن مات البائع فالمشتري أحق به حتى يستوفي الثمن لأنه يقدم عليه في حياته و كذا على ورثته… و غرمائه بعد وفاته كالراهن. ثم إن كانت دراهم الثمن قائمة يأخذ بينعها لأنها تتعين في البيع الفاسد و هو الأصح لأنه بمنزلة الغصب و إن كانت مستهلكة أخذ مثلها لما بينا… فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved