• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حضرت ابراہیمؑ کا اپنے والد کے لئے روز قیامت استغفار کرنے پر اشکال کا جواب

استفتاء

کیا حضرت ابراہیمؑ بروز قیامت اپنے والد کے لئے ،ان کےکافر ہونے کے باوجوداستغفار کریں گے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حضرت ابراہیمؑ بروز قیامت اپنے والد کے لئے استغفار نہیں کریں گے بلکہ اپنے آپ کو رسوائی سے بچانے کی درخواست کریں گے جس کی صورت یہ ہوگی کہ ان کے والد کی شناخت بدل دی جائے گی اور جب شناخت نہ  رہے گی تو حضرت ابراہیمؑ کی رسوائی بھی نہ ہوگی۔

صحیح بخاری رقم الحدیث(3172)میں ہے:

حدثنا إسماعيل بن عبد الله قال: أخبرني أخي عبد الحميد، عن ابن أبي ذئب، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة رضي الله عنه،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يلقى إبراهيم أباه آزر يوم القيامة، وعلى وجه آزر قترة وغبرة، فيقول له إبراهيم: ألم أقل لك لا تعصني، فيقول أبوه: فاليوم لا أعصيك، فيقول إبراهيم: يا رب إنك وعدتني أن لا تخزيني يوم يبعثون، فأي خزي أخزى من أبي الأبعد؟ فيقول الله تعالى: إني حرمت الجنة على الكافرين، ثم يقال: يا إبراهيم، ما تحت رجليك؟ فينظر، ‌فإذا ‌هو ‌بذيخ متلطخ، فيؤخذ بقوائمه فيلقى في النار

فتح الباری (8/ 500) میں ہے:

قال الكرماني فإن قلت إذا أدخل الله أباه النار فقد أخزاه لقوله إنك من تدخل النار فقد أخزيته وخزي الوالد خزي الولد فيلزم الخلف في الوعد وهو محال ولو لم يدخل النار لزم الخلف في الوعيد وهو المراد بقوله إن الله حرم الجنة على الكافرين والجواب أنه إذا مسخ في صورة ضبع وألقي في النار لم تبق الصورة التي هي سبب الخزي فهو عمل بالوعد والوعيد

تفسیر عثمانی میں آیت “وما کان استغفار ابراهيم لابيه”  کےتحت ہے:

حدیث میں ہے کہ محشر میں ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے کہ خداوندا! تیرا وعدہ ہے کہ مجھے رسوا نہ کرے گا۔ مگر اس سے زیادہ کیا رسوائی ہوگی کہ آج میرا باپ سب کے سامنے دوزخ میں پھینکا جائے۔  اسی وقت ان کے باپ کی صورت مسخ ہو کر ضبع ( کفتار ) کی سی ہو جائے گی اور فرشتے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیں گے۔ شاید یہ اس لئے ہو کہ لوگ اسے پہچان نہ سکیں ۔ کیونکہ رسوائی کا دار ومدار شناخت پر ہے جب شناخت نہ رہے گی کہ کیا چیز دوزخ میں پھینکی گئی۔ پھر بیٹے کی رسوائی کا کچھ مطلب نہیں۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تفسیر بیان القرآن میں  اسی آیت کےتحت ہے:

حدیث بخاری میں جو آیا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام قیامت میں عرض کریں گے انك وعدتني انك ان لا تخزينى يوم يبعثون فاى خزى اخرى من ابي الا بعد اور پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا انی حرمت الجنة على الكافرين اور پھر ارشاد ہوگا ما تحت رجليك اور ان کو وہ شکل کفتار نظر آوے گا پھر دوزخ میں پھینک دیا جاوے گا ۔سو،اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اس وقت اس کی مغفرت چاہیں گے بلکہ مطلب یہ ہوگا کہ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم کو قیامت کی رسوائی سے بچاؤں گا اور اس میں بھی ایک گونہ رسوائی ہے کہ میرا باپ  اس حالت میں ہو تو اس سے مجھ کو بچائیے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا حاصل یہ ہوگا کہ رسوائی سے بچانے کا ایک طریق تو ہو نہیں سکتا کہ اس کی مغفرت کر دی جاوے ہم دوسری صورت تجویز کرتے ہیں کہ اس کو مسخ کرتے ہیں کہ کوئی اس کو پہچانے نہیں اور تم کو شرمندگی نہ ہو خوب سمجھ لو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved