• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

حکومتی ٹیکس اور کاروباری مشکلات سے متعلق

استفتاء

محترم المقام مفتی صاحب!

بندہ اپنے کاروبار سے متعلق ایک مسئلے کے بارے میں متردّد ہے اور اس پر شرعی اعتبار سے آپ کی رہنمائی کا طالب ہے۔

پس منظر

میرا کاروبار کئی سال سے قائم ہے۔ کاروبار کی حقیقی صورت حال یہ ہے کہ ایک کارخانہ ہے جس میں ملازمین  کام کرتے ہیں۔ پھر اس کے علاوہ کچھ دکانیں ہیں جہاں وہ کپڑے بیچے جاتے ہیں۔ اب تک ہم اپنا کام سرکاری ریکارڈ میں نہیں لائے۔ یا لائے تو بہت تھوڑا اور وہ بھی مختلف طریقوں سے جس سے ٹیکس کے حوالے سے کافی بچت رہتی ہے۔ سرکاری ریکارڈ میں نہ لانے کی وجہ سے ہمارے پاس جتنے ملازمین ہیں، ہم نے ان کی کسی ادارے (Eobi، سوشل سیکیورٹی  یا لیبر  وغیرہ) میں رجسٹریشن بھی نہیں کروائی۔ موجودہ صورت حال کے لحاظ سے ہمارا کاروبار تقریباً سارا بلیک (اندھیرے) میں ہے۔ دکانیں Show کی ہیں، لیکن مختلف ناموں سے۔ اور فیکٹری تو ایک عرصے سے Show ہی نہیں کی۔ کیونکہ پرانی جگہ پر ٹیکس والوں کے علم میں آ گیا تھا۔ لیکن وہاں سے ختم کردیا جیسے اب ہمارا کارخانہ ہے ہی نہیں۔

حکومتی ٹیکس کا مطالبہ

حکومت کی طرف سے یہ قانون ہے کہ اگر آپ کی سالانہ سیل 50 لاکھ سے نیچے ہو تو اس پر سیلز ٹیکس نہیں ہے۔ اور اگر سیل 50 لاکھ سے اوپر ہو تو اس پر 18 فیصد ٹیکس حکومت آپ سے وصول کرتی ہے۔ چاہے آپ کو نفع ہو یا نقصان ان کو ا س سے غرض

نہیں ہوتی۔ (نفع وغیرہ پر لگنے والا انکم ٹیکس اس کے علاوہ ہے۔)

ہم فی الحال اپنی دکانوں کی ملکیت الگ الگ شو کرتے ہیں اور ہر دکان کی سیل 50 لاکھ سے کم شو کرتے ہیں۔ اسی طرح اپنی سیل کو 50 لاکھ سے کم  شو کرنے کے لیے ہمیں اپنے ملازمین بھی کم ظاہر کرنے پڑتے ہیں، کیونکہ اگر ہم مثلاً اپنے سو ملازم شو کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم ان کو ماہانہ دس لاکھ تنخواہ دیتے ہیں (اوسط تنخواہ دس ہزار بھی ہو تو 10 لاکھ بنتے ہیں)۔ تو ٹیکس والا محکمہ کہے گا کہ جب آپ ماہانہ دس لاکھ اجرتیں دے رہے ہو تو یقیناً آپ کی سالانہ سیل 50 لاکھ سے کہیں اوپر ہے۔ اور وہ خود سے ہی اندازہ بنا کر ٹیکس کا  بل بنا کر دے دیتے ہیں۔

ممکنہ اختیارات:

موجودہ حکومتی قوانین اور گرفت کی صورت حال کے پیش نظر ہمارے سامنے تین اختیارات ہیں:

پہلی صورت:

جیسے چل رہے ہیں چلتے رہیں۔ اور رشوت و غلط بیانی کے ذریعے کام چلاتے رہیں۔ اس صورت میں کچھ فوائد ہیں اور کچھ نقصانات۔

فوائد:

1 ۔سب سے بڑا فائدہ تو یہی ہے کہ ہمارا اتنا سارا سرمایہ بچ رہا ہے۔

2۔  چونکہ سیلز ٹیکس نہیں دیا جاتا، اس لیے پروڈکٹ کی قیمت کم  ہے، جس کا فائدہ صارف کو کم قیمت کی شکل میں اور مجھے کثرت سیل کی شکل میں مل رہا ہے۔

3۔  ملازمین چونکہ رجسٹرڈ نہیں اس لیے ان کی تنخواہ نسبتاً زیادہ ہے۔

نقصانات:

1۔ یہ صورت حال ظاہر ہے کہ خطرے کے اندر ہے کہ کبھی بھی شکایت وغیرہ ہو سکتی ہے۔ پھر عزت کا بھی خطرہ ہے اور گذشتہ سالوں کا جرمانہ وغیرہ اور کیس وغیرہ الگ   ہو گا۔ اور بالکل اندھیرے میں زیادہ دیر چلنا ممکن نہیں۔  یعنی اسے پالیسی نہیں بنایا جا سکتا۔

2۔ ملازمین چونکہ رجسٹرڈ نہیں ہیں، اس لیے انہیں  (Eobi، سوشل سیکیورٹی لیبر وغیرہ) وغیرہ اداروں سے حاصل ہو سکنے والے فوائد نہیں مل رہے۔

3۔ اگر سب کچھ صحیح صحیح ظاہر کریں تو اس وقت گورنمنٹ کا ہمارے سے جو مطالبہ بنتا ہے، وہ موٹے اندازے کے مطابق دو کروڑ کا سالانہ سیلز ٹیکس اور ایک کروڑ کا انکم ٹیکس دینا پڑے گا۔ جبکہ ہمارے اندر زیادہ سے زیادہ تحمل 50- 60 لاکھ کا ہو گا۔ اس  سے زیادہ دینے کی صورت میں کاروبار نقصان میں چلا  جائے گا یا کاروبار بند کرنا پڑے گا۔

دوسری صورت:

اپنا سب کچھ حکومتی قوانین کے تقاضوں اور منشا کے مطابق ظاہر کردوں اور اپنا سب کچھ وائٹ کر دوں۔

فوائد:

1۔ اگر یہ شریعت کا منشا ہے تو اس کی اتباع اور اللہ کے حکم کا امتثال۔

2۔ دل کا اطمینان،  اور ہر وقت کے خطرے سے حفاظت۔

3۔ ملازمین رجسٹرڈ ہوں گے تو ان کو (قانونی تحفظ، اور سوشل سکیورٹی وغیرہ کی صورت میں) فوائد حاصل ہوں گے۔ (مثلاً لائف انشورنس، علاج فری، ریٹائرمنٹ پر کچھ رقم)

تنبیہ: اگرچہ بڑے علاج کے لیے ملازمین کو ان اداروں سے فائدہ ہوتا ہے، لیکن چھوٹے موٹے علاج کے لیے ملازم ہسپتال میں سارا دن باری کا انتظار کرنے کی بجائے اس کو ترجیح دیتے ہیں کہ وہ قریب سے 100 روپے کی دوائی لے لیں۔

نقصانات:

1۔ اپنی آمدن بہت کم ہو جائے گی، بلکہ شاید کاروبار بند کر کے پراپرٹی کرائے پر دینے کی نوبت آ جائے۔ اس صورت میں گذارا تو ہو جائے گا لیکن ایک دم سے نیچے آنا پڑے گا۔ اور جو کوئی خیر کے سلسلے  وغیرہ ہیں وہ ظاہری سبب کے درجے میں نہیں چل سکیں گے۔

2۔ ملازمین کی انشورنس کروانا پڑے گی، یا تکافل کروانا پڑے گا۔

3۔ جب ملازمین رجسٹرڈ ہوں گے تو پریمیم ادا کرنے کے لیے ان کی تنخواہ سے کٹوتی ہو گی۔ یہ بات اگرچہ نتیجہ کے اعتبار سے ان کے لیے فائدہ مند ہو گی لیکن فوری طور سے (’’نو نقد اچھے تیرہ ادھار سے‘‘ کے اصول کے تحت) انہیں نقصان ہو گا۔

4۔ پروڈکٹ کی قیمت سیلز ٹیکس کے شامل ہونے کی وجہ سے بڑھ جائے گی۔ چنانچ جو چیز اب ہزار روپے کی ہے وہ تقریباً بارہ سو کی صارف کو ملے گی۔

5۔  سب کچھ اوپن اور وائٹ کر دینے کے باوجود بھی محکموں کی طرف سے بلا وجہ یا چھوٹی چھوٹی وجوہات کی بنیاد پر تنگ کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یا تو وہ لوگ ویسے ہی رشوت کا مطالبہ کر لیتے ہیں، اگر نہ دیں تو ایسے پوائٹنس اور کمزوریوں کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں جو ہوتی تو قانونی ہیں، لیکن معمولی ہونے کی وجہ سے نظر انداز کی جاتی ہیں اور حکومتی قوانین میں بھی وہ فرسودہ قانون  (Dead laws) کے درجے میں ہوتی ہیں، لیکن وہ تنگ تو بہر حال کر سکتے ہیں، یہ ایسے ہی ہو گا جیسے ڈرائیونگ کے دوران اگر کسی سارجنٹ کی نیت خراب ہو اور وہ آپ کا چالان کرنا چاہے تو وہ کوئی نہ کوئی بات ایسی نکال لے گا جو قانونی ہو گی، لیکن آپ کااس طرف  دھیان بھی نہیں ہو گا۔

ایسی صورت میں یا تو ان کو پھر بھی جزوی تھوڑی بہت رشوت دینی پڑے گی۔ یا پھر مجھے ایک آدمی ایسا ہائر کرنا پڑے گا جو کاروبار کے تمام معاملات کو قانونی اونچ نیچ کے لحاظ سے دیکھتا رہے۔ یا پھر ہر معاملے میں عدالت میں کیس کرنا پڑے گا۔ وہ ایک علیحدہ درد سر ہے۔

تیسری صورت

یہ ہے کہ جیسے اکثر لوگ معاشرے اور مارکیٹ میں چل رہے ہیں ویسے چلوں۔ یعنی نہ تو اپنا سب کچھ مکمل اوپن کروں، اور نہ

مکمل چھپاؤں۔ بلکہ درمیان کی صورت اختیار کروں مثلاً فیکٹری شو تو کروں لیکن کچھ دے دلا کر ملازمین 100 کی بجائے 25 رجسٹرڈ کروا لوں۔ اسی طرح فیکٹری کا بل اگر پچاس ہزار آ رہا ہے تو وہاں علامتی سےدو تین ادارے اور دفاتر بنا  لوں۔ اسی طرح دکانوں کی سیل کا کر لوں۔ اگر کوئی زیادہ مسئلہ ہو تو کیس کر دوں، پھر لمبے سلسلے چلتے رہیں وغیرہ اور آنے والوں کو گاہے گاہے رشوت دیتا رہوں۔

فوائد:

1۔ حکومتی گرفت کا خطرہ ختم ہو جائے گا۔

2۔ سرمائے کی حفاظت ہو گی کہ تھوڑا  سا دے کر بہت سا بچا لیا۔

3۔ کچھ ملازمین کا جزوی فائدہ بشکل رجسٹریشن ہو گا۔

نقصانات:

1۔ ٹھیک ٹھاک رشوت دینی پڑے گی۔

2۔ جزوی ملازمین  کی  انشورنس یا تکافل کروانا پڑے گا۔

3۔ عدالتوں کے چکر اور کیس بھی رہیں گے۔

4۔ غیر رجسٹرڈ ملازمین کو فوائد حاصل نہ ہو گے۔

نوٹ: (1) تینوں صورتوں میں رشوت کے معاملے میں پڑنا ناگزیر (یعنی لازمی) ہے۔

2۔ تیسری اور پہلی صورت میں نان رجسٹرڈ ملازمین کی فلاح کے لیے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ مثلاً کوئی ٹرسٹ قائم کر دیا جائے،یا کوئی وقف فنڈ قائم کر دیا جائے، یا تکافل کروا دیا جائے۔ اس کے بارے میں ابھی کوئی ورک نہیں کیا، اس لیے تفصیلی خاکہ نہیں دے سکتے۔

برائے مہربانی مذکورہ صورتوں میں کونسی صورت میرے لیے شرعاً جائز ہے؟ اور کوئی صورت اللہ تعالیٰ کی رضا کے زیادہ قریب ہے تو اس میں بھی مطلع فرمائیں۔

وضاحت مطلوب ہے:

شریعت کی رُو سے ٹیکس لگانے کے بارے میں ایک ضابطہ یہ ہے کہ حکومت کی دیگر غیر ٹیکس ذرائع سے آمدن کو دیکھا جائے کہ کتنی ہے۔ پھر یہ دیکھا جائے کہ دیانتداری کے ساتھ جو اخراجات ہوں وہ کتنے ہیں۔ اگر اخراجات زیادہ ہوں تو فرق کو مال داروں سے ٹیکس لگا کر وصول کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ موجودہ دور میں سرکاری یا ریاستی جائز اخراجات بھی بہت ہیں مثلاً دفاع، پولیس، تعلیم اور صحت جیسے شعبے ہیں جو خالص غیر پیداواری ہیں۔ دوسری طرف حکومت کے پاس بہت بڑی آمدنی کے ذرائع ہیں مثلاً گیس، ٹرانسپورٹ، معدنیات، پانی وغیرہ۔ پھر تیسری بات یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں کرپشن ہونے کی بڑی شہرت ہے اور واقعہ بھی ایسے ہی ہے۔ اور آخر میں یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں ٹیکسوں کی بھومار ہے اور ٹیکس کلچر کو ایک خوبی سمجھا جا رہا ہے۔

بہر حال دیانتداری سے دیکھا جائے تو کسی حد تک ٹیکس لگانا مشروع بھی ہے اور معقول بھی ہے۔ اب یہ معاشیات اور بزنس کے

ماہرین اندازہ کر کے اور حساب لگا کر بتائیں کہ ہمارے ملک کے آمد و خرچ میں کیا فرق ہے اور دیانتداری سے ہو تو کتنا ٹیکس لگایا جائے۔ پورا حساب نہ لگا سکیں تو اندازہ ہی بتا دیں۔ اگر اندازہ اس طریقے سے لگائیں کہ غنی پر کتنی آمدنی پر کل کتنا ٹیکس لگے تو جواب میں مزید سہولت ہو گی۔

سائل بتائیں کہ مذکورہ صورتوں میں سے وہ کس کو ترجیح دیتے ہیں۔

جواب وضاحت:  1۔ حکومت کے اخراجات اور خرچ کا حساب لگانا تو میرے لیے ممکن نہیں۔

2۔ میری ترجیح تو یہ ہے کہ اس حال میں جو حال کا امر ہے وہ پورا کر کے آخرت میں کامیاب ہو جاؤں۔ اس کے لیے چاہے کاروبار چلے یا نہ چلے، مجھے اس کی پریشانی نہیں۔ ذہنی آسودگی کے لیے تو لگتا ہے کہ سب ظاہر کر دیا جائے مگر ظاہراً اس صورت میں کاروبار بند کرنے تک کی نوبت آسکتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ میرے ذکر کردہ پہلے نکتہ پر اپنے ملنے جلنے والوں سے تذکرہ کیجیے شاید کوئی صاحب بتا سکیں۔

2۔ آپ کی ذکر کردہ تیسری صورت کی تجویز دی جا سکتی ہے۔ البتہ وہ وجوہ خیر جن میں فقراء اور حاجت مندوں کا بھلا ہو ان میں جتنا ہو سکے اضافہ کر دیں کہ یہ بھی پبلک میں خرچ کرنا ہے، جبکہ سرکاری بیت المال بھی پبلک کے لیے ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ نیت رہے کہ جب کبھی حکومت دیانتداری اور ضرورت کے مطابق ٹیکس لگائے گی تو پورا ٹیکس دیں گے۔فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved