• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حرمت رضاعت کے بعد دیورانی کی بیٹی سے اپنے بیٹے کا نکاح کروانا

استفتاء

میری دیورانی کی ایک ہی بیٹی ہے جو کہ میرے بیٹے سے سات دن بڑی ہے۔( میرا دیور چھ ماہ بعد فوت ہو گیا تھا) میری دیورانی کی بیٹی ماں کا دودھ نہیں پیتی تھی۔ بچی کی بہت پریشانی تھی۔ وہ جب بھی دودھ پیتی تو اُلٹی  کر دیتی تھی۔ایک دن میں نے ویسے ہی اپنا دودھ اس کے منہ میں ڈالا شاید ایک دو گھونٹ اُس نے پیئے  ہونگے مجھے یاد نہیں کہ اُس نے اُلٹی کی تھی یا نہیں۔ دودھ پلانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا صرف یہ جاننے کے لیے پلایا تھا کہ بچی ماں کا دودھ کیوں نہیں پی رہی

اب  بچے چونکہ بڑے ہوگئے ہیں تو میں چاہتی ہوں کہ اس بچی کا رشتہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ کردوں ۔

اس بچے سے بڑے میرے دو اور بھی بیٹے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی بچے کے ساتھ اس بچی کا رشتہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟جبکہ میری دیورانی کا کہنا ہے کہ یہ سب اس کے رضاعی بھائی ہیں ان میں سے کسی کے ساتھ بھی اس کا نکاح جائز نہیں۔

نوٹ: بچی کی ماں کا دودھ کڑوا تھا اور ڈبے کا یا کھلا دودھ پیتے ہی وہ اُلٹی کردیتی تھی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)مذکورہ صورت میں دیورانی کی بیٹی کو دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت ہو گئی ہے کیونکہ  مدت رضاعت (یعنی دو سال) میں اگرچہ تھوڑا دودھ پلایا جائے اس سے بھی رضاعت ثابت ہو جاتی ہے نیز دودھ پینے کے بعد بچی نے الٹی کی ہو یانہ کی ہو بہرحال حرمت رضاعت ثابت ہو گئی۔

(2) مذکور  صورت میں حرمت رضاعت ثابت ہونے کی وجہ سے آپ کی اولاد اورآپ کی دیورانی کی بیٹی آپس میں رضاعی  بہن بھائی بن گئے ہیں لہذا آپ کے کسی بیٹے کا نکاح مذکورہ دیورانی کی بیٹی سے نہیں ہو سکتا۔

سنن ترمذی (1/217) میں ہے:

عن على رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن ‌الله ‌حرم ‌من ‌الرضاعة ما حرم من  النسب.

ہندیہ (1/490) میں ہے:

‌قليل ‌الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية. قال في الينابيع. والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف

کفایت المفتی (5/174) میں ہے:

سوال: دودھ شریک بھائی کس کو کہا جاتا ہے؟

جواب: جس عورت کا دودھ کوئی بچہ پی لے اس عورت کی تمام اولاد خواہ پہلے کی ہو یا دودھ پلانے کے بعد کی، اس بچہ کے ساتھ دودھ شریک بھائی بہن ہوجاتی ہے اور اس دو دھ پینے والے بچے کی شادی اس عورت کی کسی اولاد سے جائز نہیں ہوتی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved