• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جنازہ گاہ اور عید گاہ كے ليے مختص کی گئی جگہ کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنا

استفتاء

کیا جنازہ گاہ اور عید گاہ كے ليے مختص کی گئی جگہ کو کسی دوسرے مقصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے مثلاً ان جگہوں پر  شادی کا ولیمہ کرنا  یا جب کوئی فوتگی ہو جائے تو افسوس  کے لیے آنے والے لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام کرنا یا کوئی دینی پروگرام منعقد کرنا ۔اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

عید گاہ اور جنازگاہ کو حضرات فقہائے کرام نے احترام میں اور کچھ دیگر احکام میں مسجد قرار دیا ہے لہذا عید گاہ اور جنازگاہ میں کسی دینی پروگرام کی تو گنجائش ہے لیکن ولیمہ یا تعزیت کے لیے اسے استعمال کرنے کی اجازت معلوم نہیں ہوتی۔ نیز مذکورہ کام جہت وقف اور غرض واقف کے بھی خلاف معلوم ہوتے ہیں اس لحاظ سے بھی مذکورہ کاموں کی اجازت معلوم نہیں ہوتی۔

درمختار (1/657)میں ہے:

(و) أما (المتخذ لصلاة جنازة أو عيد) فهو (مسجد في حق ‌جواز ‌الاقتداء) وإن انفصل الصفوف رفقا بالناس (لا في حق غيره) به يفتى نهاية (فحل دخوله لجنب وحائض)

فتاوی شامی (4/ 434) میں ہے :

شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة  ووجوب العمل به»

فتاوی   شامی  (4/ 445) میں ہے :

على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة.

احسن الفتاوی(6/428) ميں ہے:

 سوال: عید گاہ میں کھیلنا کودنا یا اس میں دعوت وغیرہ کرنا جائز ہے؟

جواب: عید گاہ کا احترام بہر کیف واجب ہے اگرچہ اس کے مسجد ہونے میں اختلاف ہے مگر بے حرمتی سے حفاظت بہر حال ضروری ہے لہذا امور مسئولہ کی اجازت نہیں۔

خیر الفتاوی (6/570) میں ہے:

واقف نے جگہ جس مقصد کے لیے وقف کی ہے اس میں اسے صرف ہونا چاہیے اس کی خلاف ورزی شرعا جائز نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved