- فتوی نمبر: 35-78
- تاریخ: 09 اپریل 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
1۔ ایک بستی میں اہلِ بستی نے باہمی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر کسی شخص کا مویشی (مثلاً بکری، گائے، بھینس وغیرہ) کسی دوسرے شخص کی کھیتی یا فصل میں داخل ہو جائے اور اس کو نقصان پہنچائے، تو صاحبِ فصل کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اس جانور کو عارضی طور پر روک لے اور اس کے عوض جانور کے مالک سے ایک متعین رقم بطور جرمانہ وصول کرے، مثلاً چھوٹے جانور پر دو سو (200) روپے اور بڑے جانور پر پانچ سو (500) روپے۔یہ رقم نقصان کی مقدار کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں بھی بہرحال اسی طرح متعین طور پر وصول کی جاتی ہے۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا اس طرح بلا لحاظِ مقدارِ نقصان متعین رقم وصول کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟اور کیا اس قسم کی رقم کا لینا فقہی اصطلاح میں تعزیر بالمال کے حکم میں داخل ہوگا یا نہیں؟
2۔اگر صاحبِ فصل مذکورہ جانور کو اپنے پاس عارضی طور پر روکے رکھنے کے دوران اپنی طرف سے اس کے لیے چارہ، دانہ یا دیگر ضروری اخراجات برداشت کرے، تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس مدت میں جانور پر آنے والا خرچ شرعاً کس کے ذمہ ہوگا؟اور کیا صاحبِ فصل کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ یہ خرچ مالکِ مویشی سے بطورِ ضمان وصول کرے یا نہیں؟
وضاحت مطلوب ہے: اہل بستی نے ایسا فیصلہ کیا کسی عالم صاحب کی مشاورت سے کیا ہے؟ مویشی مالکان کیا اپنے مویشیوں کو جان بوجھ کر دوسرے کی کھیتی میں داخل کرتے ہیں یا روکنے میں کوتا ہی کرتے ہیں؟
جواب وضاحت : مویشیوں کے مالکان حد سے زیادہ سستی اور غفلت برتتے ہیں۔ اس فیصلے پر گاؤں کے تمام لوگ متفق ہیں، کیونکہ اگر یہ طریقہ اختیار نہ کیا جائے تو ساری فصلیں خراب ہو جائیں گی، نیز سارا دن فصل کی چوکیداری کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ صاحبِ فصل کے بار بار کہنے کے باوجود بھی مویشی مالکان اپنی غفلت جاری رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات صاحبِ فصل ان سے یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اگر دوبارہ تمہارے جانور ہماری فصل میں داخل ہوئے تو نقصان کے بجائے پہلے سے متعین کی گئی رقم وصول کیے بغیر جانور واپس نہیں کیے جائیں گے۔نیز علماء نے اس پر کوئی نکیر نہیں کی ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ علاقے کے سمجھدار اور منصف مزاج لوگوں کی نظر میں اگر مویشی کے مالکان کی طرف سے کوتاہی پائی جائے مثلاً کھیتی کے رخ جانور کو چھوڑا جائے یا جانوروں کے ساتھ مالکان موجود ہوں اور وہ کھیتی خراب کرتے وقت جانوروں کو نہ روکیں تو اس صورت میں مویشی مالکان نقصان کے ذمہ دار ہوں گے۔ البتہ اس صورت میں متعین رقم وصول کرنا جائز نہیں ہے بلکہ اتنی رقم وصول کی جائے جتنا نقصان ہوا ہے۔ اور اگر مالکان کی طرف سے کوتاہی نہ ہو تو وہ نقصان کے ذمہ دار نہ ہوں گے اور ان سے نقصان وصول کرنا جائز نہیں ہے۔
البنایہ شرح الہدایہ (13/ 268) میں ہے:
«ولو أرسل بهيمة فأفسدت زرعا على فوره) ش: أي فور الإرسال والمراد بفور الإرسال أن لا يميل يمينا ولا شمالا م: (ضمن المرسل، وإن مالت يمينا أو شمالا وله طريق آخر لا يضمن لما مر) ش: وفي (الفتاوى الصغرى -: أرسل حماره فدخل زرع إنسان فأفسده، فإن ساقه إلى الزرع ضمن، وإن لم يسقها بأن لم يكن خلفها وإن لم تنعطف الدابة يمينا ولا شمالا وذهب إلى الوجه الذي أرسله صاحبه فأصاب الزرع ضمن أيضا، وإن انعطف يمينا وشمالا فأصاب الزرع إن كان له طريق آخر لم يضمن وإلا يضمن في ديار شيخ الإسلام رحمه الله»
ہندیہ (6/ 52) میں ہے:
«رجل أرسل حماره، فدخل زرع إنسان، وأفسده إن أرسله، وساقه إلى الزرع بأن كان خلفه كان ضامنا، وإن لم يكن خلفه إلا أن الحمار ذهب في فوره، ولم يعطف يمينا وشمالا، وذهب إلى الوجه الذي أرسله، فأصاب الزرع كان ضامنا، وإن ذهب يمينا وشمالا ثم أصاب الزرع، فإن لم يكن الطريق واحدا لا يكون ضامنا، وإن كان الطريق واحدا كان ضامنا، وإن أرسله، فوقف ساعة، ثم ذهب إلى الزرع، وأفسد لا يضمن المرسل كذا في، فتاوى قاضي خان.»
امداد الفتاوی (5/504) میں ہے:
سوال: گاؤں میں دستور ہے کہ جو شخص کے کسی کے کھیت میں بگاڑ کرے یا مویشی غیر کے کھیت میں کہ جن میں اناج بویا ہوا ہے چراوے اس کے واسطے جرمانہ قائم کر دیتے ہیں پس زر جرمانہ جمع شدہ مسجد میں لگانا تعمیر میں یا تیل لوٹے وغیرہ میں خرچ کرنا کیسا ہے؟
جواب: اگر جانور کے ساتھ کوئی نہ ہو اس صورت میں تو یہ جرمانہ ناجائز ہے اور اگر کوئی ساتھ ہو تو جتنا نقصان ہوا ہے اتنا وصول کرنا درست ہے مگر وہ کھیت والے کا حق ہے۔
امداد الفتاوی (9/409) میں ہے:
سوال: جانوروں کا کانجی ہاؤس میں بھیجنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی جانور کھیت میں خود گھس گیا ہے اس جانور کا داخل کرنا تو بالکل جائز نہیں کیونکہ اس میں مالک پر ضمان نہیں تو اس سے کچھ لینا یا لینے میں اعانت کرنا ظلم ہے اور اگر کسی نے قصدا جانور کو کھیت وغیرہ میں داخل کر دیا ہے اس پر بقدر اتلاف ضمان ہے اس مقدار تک کانجی ہاؤس میں یا ویسے ہی اسے وصول کیا ہے تو جائز ہے اور اس سے زائد بطور جرمانہ کے ناجائز ہے کیونکہ یہ تعزیر بالمال ہے اور حنفیہ کے نزدیک منسوخ ہے۔
كما صرحوا في الدر المختار آخر باب جناية البهيمة: أدخل غنما أو ثورا أو فرسا أو حمارا في زرع أو كرم إن سائقا ضمن ما أتلف وإلا لا وقيل: يضمن.
وقال الشامي مرجحا للقول الثاني. أقول: ويظهر أرجحية هذا القول لموافقته لما مر اول الباب من أنه يضمن ما أحدثته الدابة مطلقا اذا ادخلها في ملك غيره بلا إذنه لتعديه وأما اذا لم يدخلها ففي الهداية: ولو أرسل بهيمة فافسدت زرعا على فورها ضمن المرسل وان مالت يمينا او شمالا وله طريق اخر لا يضمن لما مر.
2۔جانور کا خرچہ جانور کے مالک کے ذمے ہی ہے کیونکہ جانور کا دودھ وغیرہ بھی مالک کا ہے لیکن اگر صاحب فصل اپنی خوشی سے اس پر خرچہ کرے تو پھر جانور کے مالک سے وہ خرچہ نہیں لے سکتا۔
ہندیہ (5/ 454) میں ہے:
«والأصل فيه أن ما يحتاج إليه لمصلحة الرهن بنفسه وتبقيته فعلى الراهن سواء كان في الرهن فضل أو لم يكن؛ لأن العين باقية على ملكه، وكذا منافعه مملوكة له فيكون إصلاحه وتبقيته عليه وذلك مثل النفقة من مأكله ومشربه…وما يجب على الراهن إذا أداه المرتهن بغير إذنه فهو متطوع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved