- فتوی نمبر: 32-108
- تاریخ: 20 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ:
آج کل دنیا کے مختلف ممالک میں جاسوسی کے مختلف طریقے رائج ہیں۔ اور یہ ملکی و بین الا قوامی قوانین کی رُو سے نہ صرف مناسب بلکہ بعض اوقات وطن کی حفاظت کے لیے انتہائی ناگزیر عمل ہے، جس نے رفتہ رفتہ قانونی شکل اختیار کرلی ہے۔ اب جتنا یہ نظام مضبوط ہوگا، اتنا ہی ملک بیرونی واندرونی خلفشار سے محفوظ ہو گا۔ اس تناظر میں پوچھنا یہ ہے کہ :
(1) عہد نبوت علی صاحبہا الصلاۃ والسلام اور خیر القرون میں اس کا ثبوت کس درجے کا ہے؟
ⅰ۔ مختصر ااس کا طریق کار کیا تھا؟
(2) مسلمان کے لیے یہ پیشہ اختیار کرنا (یعنی کسی سرکاری ادارے ، نیم سرکاری ادارے/ شخص کی مخبری کرنا) شرعی لحاظ سے جائز ہے یا نہیں ؟
ⅰ۔خصو صاجب اس کی بنیاد پر مجرم کا قتل ہو، یا کسی کے مال و عزت کو نقصان پہنچنے کا یقین یا ظن غالب ہو ؟
ⅱ۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم ادارے کی ملازمت میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟
(3) جواز کی صورت میں ایک وقت میں ایک آدمی دو اداروں، ملکوں ، لوگوں کے لیے جاسوسی کر سکتا ہے؟ جبکہ بعض اوقات خود اس کی جان خطرے میں پڑ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے؟
(4) جاسوسی کرنے کے عوض میں ملنے والی تنخواہ اور دیگر مراعات کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔اس سوال کے جواب کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں اتنی بات احادیث سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے بعض موقعوں پر اپنے جاسوس بھیجے ہیں۔ نیز اگر یہ ثبوت نہ بھی ملتا تو پھر بھی قرآن وحدیث کے عمومی دلائل سے جاسوسی کا فی نفسہٖ جواز معلوم ہوتا ہے۔
2۔جائز ہے۔
ⅰ۔ جہاں یقین ہو یا غالب گمان ہو کہ جس کی جاسوسی کی جارہی ہے اسے ناحق قتل کردیا جائے گا یا اس کے مال وعزت کو ناحق نقصان پہنچایا جائے گا وہاں جاسوسی کرنا یا کم از کم آگے اطلاع کرنا جائز نہ ہوگا۔
ⅰⅰ۔ اندرونی خطرات سے نمٹنے کے سلسلے میں ایک مسلمان کی غیر مسلم ادارے میں ملازمت جائز ہے بشرطیکہ جہاں مسلمان کی پردہ پوشی کرنا ضروری ہے وہاں اس کی مخبری نہ کرے۔
3۔ کرسکتا ہے بشرطیکہ دونوں کو علم ہو ورنہ نہیں کرسکتا۔
4۔ جائز ہے۔
سنن ابی داؤد (رقم الحدیث2618) میں ہے:
عن أنس، قال:بعث يعني النبي صلى الله عليه وسلم بسبسة عينا ينظر ما صنعت عير أبي سفيان.
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ (2/ 253) میں ہے:
«(سئل) فيما إذا دخل اللصوص بيت زيد في غيبته وسرقوا أمتعته ليلا فغلب على ظنه أن عمرا جاره منهم ورفع أمره لحاكم العرف فأحضر الحاكم عمرا وسأله فأنكر فضربه فأقر وذكر أن له شركاء عينهم للحاكم فحبسه مدة حتى مات في الحبس عن ورثة يزعمون أن زيدا يضمن ديته فهل لا يضمن زيد ديته ولا عبرة بزعم الورثة؟
(الجواب) : نعم قال في القنية من الغصب من باب ضمان الساعي والنمام بخ: شكا عند الوالي بغير حق وأتى بقائد فضرب المشكو عنه فكسر سنه أو يده يضمن الشاكي أرشه كالمال وقيل إن حبس بسعاية فهرب وتسور جدار السجن فأصاب بدنه تلف يضمن الساعي فكيف هنا؟ فقيل: أتفتي بالضمان في مسألة الهرب؟ فقال: لا ولو مات المشكو عليه بضرب القائد لا يضمن الشاكي؛ لأن الموت فيه نادر فسعايته لا تفضي إليه غالبا. اهـ. ومثله في الحاوي الزاهدي من الباب المرقوم ومثله بالحرف في الفصولين في ضمان الساعي ونقله في غصب المنح عن القنية ومثله في العلائي، وإذا اجتمع المباشر والمتسبب أضيف الحكم إلى المباشر كما في القاعدة التاسعة عشر من الأشباه.
(أقول) حاصله أنه إذا شكاه بغير حق يضمن ما أتلفه الوالي أو أعوانه من عضو أو من مال دون النفس؛ لأن الشكاية لا تفضي إلى الموت غالبا بخلاف العضو أو المال؛ لأن الغالب إفضاؤها إليه فلذا ضمنه الساعي وهذا خارج عن قاعدة الأشباه المذكورة أفتى به المتأخرون على خلاف القياس زجرا عن السعاية بغير حق.
فتاویٰ حقانیہ (2/345) میں ہے:
ملک کو انتظامی طور پر بہتر انداز میں چلانے کے لیے حکومتیں مختلف قسم کے ادارے بناتی ہیں اسی طرح اگر حکومت کوئی ایسا ادارہ قائم کرے جو غیر ملکی جاسوسوں یا ملک کے اندر ایسے لوگوں کی خفیہ سرگرمیاں معلوم کرے جو کہ حکومت اور ملک کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے تو یہ ایک مستحسن اقدام ہے،حکومت کے قائم کردہ ایسے ادارے ملک کے استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
قال على بن أبي بكر المرغيناني ، واذا استخلف الوالى رجلا ليعلمنه بكل داعر دخل البلد فهذا على حال ولايته خاصة لان المقصود منه دفع شره او شرغيره يزجره فلا يفيد فائدته بعد زوال سلطنته.
فتاویٰ حقانیہ (2/347) میں ہے:
جو شخص حکومت کی طرف سے خفیہ معلومات کی حکومت کو فراہمی پر باقاعدہ مامور نہ ہو اوروہ شخص لوگوں کے اموال وغیرہ کی حکومت کو سی آئی ڈی کرتا ہو تو وہ شرعا مجرم شمار ہوگا اور جو مال وغیرہ اس کی شکایت کی وجہ سے بحق سرکار ضبط ہوچکا ہو اس کا ضمان اور تاوان اس شخص پر عائد ہوگا۔
حاصله أنه إذا شكاه بغير حق يضمن ما أتلفه الوالي أو أعوانه من عضو أو من مال دون النفس …. أفتى به المتأخرون على خلاف القياس زجرا عن السعاية بغير حق[فتاوى تنقيح الحامدية]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved