- فتوی نمبر: 14-355
- تاریخ: 11 مئی 2024
- عنوانات: حظر و اباحت > ذبح کے مسائل
استفتاء
ہماری دینی کتابوں میں بعض اوقات ایک لفظ’’ جھٹکے کا گوشت‘‘ لکھا ہوتا ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ اس کی وضاحت فرما دیں کہ یہ کیا ہوتا ہے؟ اور اس کا حکم بھی بتادیں
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جانور کو گلے کے بجائے گدی کی جانب سے ذبح کرنا جھٹکا کہلاتا ہے چنانچہ فیروز اللغات (492)میں ہے:
جھٹکا :تلوار مار کرجانور کی گردن کاٹنا
کفار میں سے اہل کتاب کے علاوہ جو کفارگوشت کھاتے ہیں ،مثلا سکھ وہ عموما جانور کے گلے پر چھری نہیں چلاتے بلکہ جھٹکا کرتے ہیں یعنی جانور کی گدی پر تلوار وغیرہ کا وار کرکے ایک ہی وار میں جانور کی گردن اس کے بدن سے جدا کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی مسلمان یااہل کتاب اس طریقے سے جانور کو ذبح کرے تو اگرچہ یہ طریقہ مکروہ ہے ،تاہم اس طریقے سے ذبح شدہ جانور حلال ہوتا ہے اور چونکہ اہل کتاب کے علاوہ دیگر کفار کا ذبیحہ مسلمان کے لئے حلال نہیں ہوتا بلکہ حرام ہوتا ہے ،اس لئے اہل کتاب کے علاوہ دوسرے کافروں کے اس طرح ذبح کئے ہوئے جانور کے گوشت کو کبھی حرام گوشت کے بجائے جھٹکے کا گوشت کہہ دیتے ہیں ۔
الفتاوى الهندية (5/ 287)
وإذا ذبح الشاة من قبل القفا فإن قطع الأكثر من هذه الأشياء قبل أن تموت حلت وإن ماتت قبل قطع الأكثر من هذه الأشياء لا تحل ويكره هذا الفعل لأنه خلاف السنة وفيه زيادة إيلام كذا في المحيط
کفایت المفتی جلدنمبر 8 صفحہ 247 میں ہے:
سوال:شریعت مقدسہ اسلامیہ میں سکھوں کے کٹے ہوئے جھٹکے کا گوشت مسلمانوں کے لیے حلال ہے یا حرام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
جواب :ذبیحہ کی حلّت کے لئے ذابح کا مسلمان ہونا یا کتابی ہونا شرط ہے، غیر کتابی کاذبیحہ حلال نہیں ہے۔ پس جاٹوں یا سکھوں کا جھٹکا حلال نہیں، اس لئےکہ یہ کتابی نہیں ہیں۔
© Copyright 2024, All Rights Reserved