• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

جھوٹ اور دھوکہ دہی سے ساری جائیداد اپنے نام لکھوانا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام  اس بارے میں کہ میری بیوی***دو ماموں** اور**135 فٹ 12 مرلے کے مالک و قابض تھے، جن پر انہوں نے بغداد مارکیٹ قائم کی ہوئی تھی، محمد طفیل پہلے قضائے الہٰی سے فوت ہو گیا تو یکے از بھتیجی ۔۔۔۔ نے محکمہ مال میں انتقال وراثت کے لیے درخواست دی، اس وقت*** مرحوم کے حقیقی بھائی *** اور بہن *** زندہ تھی، مجاز افسران نے بمطابق قانون اور شریعت*** کی وراثت بحصہ 3/2 ***اور 3/1 بحصہ *** کے نام انتقال کر دیا،*** لا ولد تھا۔

پھر دوسرا بھائی***بھی فوت ہو گیا، اس کی نرینہ اولاد نہیں تھی صرف اس کی بیٹیاں چھ عدد اور ایک حقیقی بہن زندہ تھی،*** کی وراثت اسلامی طریقے کے مطابق کس کس کو ملتی ہے؟

جھوٹ غلط بیانی حلفی کی بنیاد پر کسی دوسرے کا حصہ غصب کرنا شریعت میں ایسے بندے کی کیا سزا ہے؟

آخر میں ***فوت ہوئی ہے، اس کی حقیقی بیٹیاں زندہ حیات ہیں۔ *** کی بیٹی شمیم وغیرہ نے غلط بیان پر جھوٹ دھوکہ دہی سے زمین اپنے نام لگوا لی۔ کیا حقیقی بیٹیوں کے ہوتے ہوئے پھوپھی کی جائیداد کی وارث ہو سکتی ہیں؟

وضاحت: بیٹیوں نے عدالت میں یہ حلفیہ بیان دیا کہ ان کے علاوہ*** کا کوئی اور وارث نہیں ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔***کی میراث کے کل تین حصے بنا کر دو حصے ان کی چھ بیٹیوں کو ملیں گے اور باقی ایک حصہ ان کی بہن زینب کو ملے گا۔

الخامسة الأخوات لأب و أم للواحدة النصف و الثنتين فصاعداً الثلثان …. و لهن الباقي مع البنات أو مع بنات الابن كذا في الكافي. (الهندية: 6/ 450)

2۔ جھوٹ بول کر یا دھوکہ دے کر دوسرے کا مال کھانا اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرنا ہے۔

3۔ *** کی بیٹیوں کو*** کی وراثت سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔

ذوو الأرحام أربعة أصناف … صنف منهم ينتمي إلی أبوي الميت كبنات الإخوة لأب و أم أو لأب و أولاد الأخوات كلها. (الهندية: 6/ 459)

و إنما يرث ذو الأرحام إذا لم يكن أحد من أصحاب الفرائض ممن يرد عليه و لم يكن عصبة. (الهندية: 6/ 459) فقط و الله تعالی أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved