- فتوی نمبر: 36-292
- تاریخ: 04 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > جن لوگوں سے نکاح کرنا ناجائز ہے
استفتاء
وہ کون سے رشتے ہیں جن سے مرد کا نکاح ناجائز اور حرام ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کسی سے نکاح کرنا حرام ہو اس کے چند اسباب ہیں :
1۔ قرابت 2۔ مصاہرت 3۔ دو محرموں کو نکاح میں جمع کرنا 4۔ رضاعت5۔ کسی کے نکاح میں ہونا 6۔ کسی کی عدت میں ہونا 7۔ مرد کے نکاح یا عدت میں چار عورتوں کا ہونا 8۔ دین کا اختلاف
ہر ایک کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے:
قرابت:
درج ذیل قرابت داروں کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں :
1۔ اپنی فروع کے ساتھ یعنی اولاد اور اولاد کی اولاد ۔۔۔ الخ 2۔ اپنے اصول کے ساتھ یعنی ماں ،نانی ،دادی ۔۔۔الخ 3۔ اپنے والدین کی فروع کے ساتھ یعنی بہن اور اس کی اولاد اوراولاد کی اولاد۔۔۔الخ 4۔ اپنے اجداد کی ایک پشت تک فروع کے ساتھ یعنی پھوپھی خالہ کے ساتھ البتہ ان کی اولاد کے ساتھ درست ہے۔
مصاہرت:
1۔شوہر کیلئے بیوی کے اصول سے نکاح درست نہیں خواہ ابھی رخصتی نہ ہوئی ہواسی طرح جب بیوی کے ساتھ جماع یا دواعی جماع ہوچکے ہوں تو اس کی فروع سے بھی نکاح درست نہیں ۔
2۔ بیوی کیلئے بھی شوہر کے اصول فروع سے نکاح درست نہیں خواہ شوہر کے ساتھ تنہائی ہو چکی ہو یا نہ ہو ئی ہو۔
نوٹ: حرمت مصاہرت جس طرح نکاح سے ثابت ہوتی ہے اسی طرح زنا اور دواعی زنا (مثلاً شہوت سے چھونا یا بوسہ دینا) سے بھی ثابت ہوجاتی ہے۔
دو محرموں کو نکاح میں جمع کرنا:
جن دو عورتوں میں ایسا رشتہ ہو کہ اگر ان دو نوں عورتوں میں سے کوئی مرد ہوتی تو آپس میں ان کا نکاح نہ ہوسکتا ایسی دو عورتیں ایک ساتھ ایک مرد کے نکاح میں نہیں رہ سکتیں مثلاً خالہ،بھانجی اور پھوپھی،بھتیجی وغیرہ۔
رضاعت:
جتنے رشتے نسب کے اعتبار سے حرام ہیں وہ دودھ پینے کے اعتبار سے بھی حرام ہیں لہذا دودھ پلانے والی عورت اور اس کے اس شوہرکے اصول و فروع دودھ پینے والے بچے پر حرام ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے عورت کا دودھ اترا ہے اسی طرح دودھ پینے والے بچےکے فروع ان دونوں پر حرام ہوجاتے ہیں ۔
کسی کے نکاح میں ہونا:
جس عورت کا نکاح کسی مرد سے ہو چکا ہو تو اب بغیر طلاق لیے اور عدت پوری کیے کسی دوسرے سے نکاح درست نہیں ۔
کسی کی عدت میں ہونا:
کسی عورت کے شوہر نے طلاق دے دی یا مر گیا تو جب تک عدت پوری نہ ہوچکے تب تک دوسرے مرد سے نکاح درست نہیں ۔
مرد کے نکاح یا عدت میں چار عورتوں کا ہونا:
کسی مرد کے نکاح میں چار عورتیں ہوں تو اس کا پانچویں عورت سے نکاح درست نہیں اور اگر ان میں سے کسی ایک کو طلاق دے دی تو اس کی عدت پوری ہونے تک بھی کسی اور عورت سے نکاح نہیں کر سکتا۔
دین کا اختلاف:
مسلمان عورت کا کسی بھی کافر مرد سےنکاح جائز نہیں البتہ مسلمان مرد کا ایسی کافر عورت سے نکاح جائز نہیں جو اہل کتاب میں سے نہ ہو۔
فتح القدير (3/ 208)میں ہے:
«وانتفاء محلية المرأة للنكاح شرعا بأسباب: الأول النسب، فيحرم على الإنسان فروعه وهم بناته وبنات أولاده وإن سفلن وأصوله وهم أمهاته وأمهات أمهاته وآبائه وإن علون، وفروع أبويه وإن نزلن، فتحرم بنات الإخوة والأخوات وبنات أولاد الإخوة والأخوات وإن نزلن، وفروع أجداده وجداته لبطن واحد، فلهذا تحرم العمات والخالات، وتحل بنات العمات والأعمام والخالات والأخوال. الثاني المصاهرة، يحرم بها فروع نسائه المدخول بهن وإن نزلن، وأمهات الزوجات وجداتهن بعقد صحيح وإن علون وإن لم يدخل بالزوجات، وتحرم موطوءات آبائه وأجداده وإن علوا ولو بزنا والمعقودات لهم عليهن بعقد صحيح، وتحرم موطوءات أبنائه وأبناء أولاده وإن سفلوا ولو بزنا، والمعقودات لهم عليهن بعقد صحيح. الثالث الرضاع، يحرم كالنسب، وسيأتي تفصيله في كتاب الرضاع إن شاء الله تعالى. الرابع الجمع بين المحارم والأجنبيات كالأمة مع الحرة السابقة عليها. الخامس حق الغير، كالمنكوحة والمعتدة والحامل بثابت النسب.السادس عدم الدين السماوي كالمجوسية والمشركة»
بدائع الصنائع (4/5) میں ہے:
ويجوز لزوج المرضعة أن يتزوج أم المرضع من النسب ………. وكذا أب المرضع من النسب يجوز له أن يتزوج المرضعة.
ہندیہ (2/181) میں ہے:
وهذه الحرمة كما تثبت في جانب الأم تثبت في جانب الأب وهو الفحل الذي نزل اللبن بوطئه كذا في الظهيرية
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا
المحیط البرہانی (3/ 111) میں ہے:
«وأما الأحكام التي لا تقوم الخلوة فيها مقام الوطء: فالإحصان حتى لا يصير محصنا بالخلوة، وحرمة البنات والإحلال للزوج الأول، والرجعة، والميراث حتى لو طلقها ثم مات في العدة لا ترث»
تبیین الحقائق (2/ 144) میں ہے:
«واعلم أن أصحابنا – رحمهم الله – أقاموا الخلوة الصحيحة مقام الوطء في حق بعض الأحكام دون البعض فأقاموها في حق تأكد المهر وثبوت النسب والعدة والنفقة والسكنى في هذه العدة ونكاح أختها وأربع سواها وحرمة نكاح الأمة على قياس قول أبي حنيفة ومراعاة وقت الطلاق في حقها ولم يقيموها مقام الوطء في حق الإحصان وحرمة البنات وحلها للأول والرجعة والميراث، وأما في حق وقوع طلاق آخر ففيه روايتان والأقرب أن يقع»
فتح القدیر (3/ 333) میں ہے:
«واعلم أن أصحابنا أقاموا الخلوة الصحيحة مقام الوطء في حق بعض الأحكام تأكد المهر وثبوت النسب والعدة والنفقة والسكنى في مدة العدة ومراعاة وقت طلاقها ولم يقيموها مقامه في الإحصان، وحلها للأول والرجعة والميراث، وحرمة البنات. يعني إذا خلا بالمطلقة الرجعية لا يصير مراجعا، وإذا خلا بامرأة ثم طلقها لا تحرم بناتها ولا يرث منها لو ماتت في العدة للاحتياط الواجب في هذه الأحكام»
ہدایہ (1/ 190) میں ہے:
«فإن طلق الحر إحدى الأربع طلاقا بائنا لم يجز له أن يتزوج رابعة حتى تنقضي عدتها»
در مختار (3/ 48)میں ہے:
«(و) صح (نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر) لا أكثر»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved