• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جس ہاؤسنگ سکیم کی شرائط ناجائز ہوں اس کا ڈیلر بننا

استفتاء

آج کل لوگ عموماً سوسائٹیوں کے ذریعے قسطوں پر پلاٹ خریدتے ہیں لیکن اس میں شرعی لحاظ سے کچھ اشکالات ہیں  جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

1۔ اکثر سوسائٹیاں اپنے شرائط نامے میں یہ شرط عائد کرتی ہیں  کہ اگر خریدار نے بروقت قسط ادا نہ کی تو اس کو جرمانہ ادا کرنا ہوگا  ۔

اور بعض سوسائٹیوں میں یہ شرط بھی ہوتی ہے کہ اگر دو یا زیادہ اقساط میں تاخیر ہوگئی تو پلاٹ بھی کینسل ہوگا اور جمع شدہ اقساط میں بھی کٹوتی ہوگی۔

2- اسی طرح اکثر سوسائٹیاں پلاٹ فروخت کرنے کے بعد اس کی بیلٹنگ کرتی ہیں اور بیلٹنگ کے بعد اگر کسی شخص کا پلاٹ ترجیحی مقام پر نکل آئے مثلا کارنر پلاٹ ہو یا پارک کے سامنے ہو یا مین بلیوارڈ پر ہو تو سوسائیٹی اس کو کہتی ہے کہ پلاٹ کی کل قیمت کی دس فیصد اضافی قیمت ادا کریں جس کا پلاٹ کسی ترجیحی مقام پر نکلتا ہے اگر وہ شخص اضافی ادائیگی پر راضی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو کہیں اور پلاٹ دے دیا جاتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہم اس طرح کی سوسائٹیوں سے پہلے پلاٹ خریدتے ہیں اور پھر آگے بیچتے ہیں ، آگے ہم سے خریدنے والے ڈیلر بھی ہوتے ہیں اور عام آدمی بھی ہوتے ہیں کہ جو اپنے لیے پلاٹ خریدتے ہیں۔

(۱)کیا ان شرائط کے ہوتے ہوئے ایسی سوسائٹی سے پلاٹ لینا جائز ہے ؟

(۲)اسی طرح ایسی سوسائٹیوں کا ڈیلر بننا جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(۱)مذکورہ شرائط کے ہوتے ہوئے سوسائٹی سے پلاٹ لینا شرعاً جائز نہیں۔

(۲) جس سوسائٹی کے شرائط نامے میں مذکورہ شرطیں ہوں ایسی سوسائٹیوں کا ڈیلر بننا بھی جائز نہیں۔

توجیہ: سوال میں جو شرائط ذکر کی گئی ہیں وہ جائز نہیں، اور ناجائز شرطوں کے ساتھ پلاٹ خریدنا یا ڈیلر بننا بھی ناجائز ہے۔  مذکورہ شرطوں کے ناجائز ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ خریدار کے بروقت قسط ادا نہ کرنے پر مالی جرمانہ لگانا سود کے زمرے میں آتا ہے جوکہ شرعاً جائز نہیں۔

اسی طرح دو یا زیادہ قسطوں میں تاخیر پر پلاٹ یعنی سودے کو یکطرفہ کینسل کردینا اور جمع شدہ اقساط میں سے کٹوتی کرنا یہ دونوں باتیں ناجائز ہیں ۔ پہلی بات اس وجہ سے کہ سودے کو یکطرفہ کینسل کرنا جائز نہیں اور دوسری بات سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ اسی طرح ترجیحی مقام پر پلاٹ نکل آنے پر اضافی رقم لینا رشوت کے زمرے میں آتا ہے اور اضافی رقم نہ دینے والے کے پلاٹ کو اس کی مرضی کے بغیر بدلنا غصب کے زمرے میں آتاہے۔

فقہ  البیوع(1/546) میں ہے:

إن زيادة الثمن من أجل الأجل، وإن كان جائزا عند بداية العقد، ولكن لا تجوز الزيادة عند التخلف في الأداء، فإنه ربا في معنى “أتقضي أم تربي”؟”، وذلك لأن الأجل، وإن كان منظورا عند تعيين الثمن في بداية العقد، ولكن لما تعين الثمن، فإن كله مقابل للمبيع، وليس مقابلا للأجل، ولذلك لا يجوز “ضع وتعجل” كما سيأتي تفصيله إن شاء الله تعالى. أما إذا زيد في الثمن عند التخلف في الأداء، فهو مقابل للأجل مباشرة لا غير، وهو الربا.

حاشیہ ابن عابدین (7/14) میں ہے:

واما الثالث وهو شرائط الصحة فخمسة وعشرون  منها عامة ومنها خاصة فالعامة لكل بيع شروط الانعقاد المارة لان ما لا ينعقد لا يصح وعدم التوقيت ومعلومية المبيع ومعلومية الثمن بما يرفع المنازعة

مختصر القدوری (ص78)میں ہے:

وإذا حصل الإيجاب والقبول ‌لزم ‌البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية

بدائع الصنائع (4/597) میں ہے:

واما شرائط صحة الاقالة فمنها رضا المتقايلين

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved