- فتوی نمبر: 29-375
- تاریخ: 16 اکتوبر 2023
- عنوانات: عبادات > نماز > مکروہات نماز کا بیان
استفتاء
میر اسوال یہ ہے کہ جہاں موبائل فون پرکوئی ویڈیوز دیکھ رہا ہو ویڈیوز اسلامک ہوں یا فنی ہوں یا نیوز دیکھ رہا ہو یا کوئی ڈرامہ ہو یا ٹک ٹاک پر کچھ دیکھ رہاہوتو کیا ایسے کمرے میں نماز پڑھنا جائز ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ہماری تحقیق میں جو ویڈیوز جاندار کے چہرے پر مشتمل ہوں وہ ممنوع تصویر کے حکم میں ہیں اور جہاں جاندار کی تصویر ہووہاں نماز پڑھنے میں مندرجہ ذیل تفصیل ہے۔
اگر تصویر آگے کی طرف ہویا دائیں بائیں طرف ہویا پیچھے کی طرف ہوتو نماز مکروہ ہے لیکن اگر بہت چھوٹی تصویر ہوکہ اگر زمین پر رکھ دوتو کھڑے ہوکر نہ دکھائی دے تو اس کا کچھ حرج نہیں ہے۔
ہندیہ(1/107)میں ہے:
ويكره أن يصلي وبين يديه أو فوق رأسه أو على يمينه أو على يساره أو في ثوبه تصاوير وفي البساط روايتان والصحيح أنه لا يكره على البساط إذا لم يسجد على التصاوير وهذا إذا كانت الصورة كبيرة تبدو للناظر من غير تكلف. كذا في فتاوى قاضي خان ولو كانت صغيرة بحيث لا تبدو للناظر إلا بتأمل لا يكره.
الدر المختار مع رد المحتار(2/502)میں ہے:
(ولبس ثوب فيه تماثيل) ذي روح، وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) ولو في وسادة منصوبة لا مفروشة.(واختلف فيما إذا كان) التمثال (خلفه، والاظهر الكراهة) (و) لا يكره (لو كانت تحت قدميه) أو محل جلوسه لانها مهانة (وفي يده) عبارة الشمني بدنه لانها مستورة بثيابه (أو على خاتمه) بنقش غير مستبين قال في البحر: ومفاده كراهة المستبين لا المستتر بكيس أوصرة أو ثوب آخر، وأقره المصنف (أو كانت صغيرة) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما،وهي على الارض، ذكره الحلبي.
بدائع الصنائع(1/116)میں ہے:
ولو صلى على هذا البساط فإن كانت الصورة في موضع سجوده يكره لما فيه من التشبه بعبادة الصور والأصنام، وكذا إذا كانت أمامه في موضع؛ لأن معنى التعظيم يحصل بتقريب الوجه من الصورة، فأما إذا كانت في موضع قدميه فلا بأس به لما فيه من الإهانة دون التعظيم، هذا إذا كانت الصورة كبيرة، فأما إذا كانت صغيرة لا تبدو للناظر من بعيد فلا بأس به؛ لأن من يعبد الصنم لا يعبد الصغير منها جدا، وقد روي أنه كان على خاتم أبي موسى ذبابتان.
آپ کے مسائل اور ان کاحل(3/337)میں ہے:
س… کیا جس کمرے میں ٹیلی ویژن رکھا ہو اور شام کے بعد ٹیلی ویژن بند کردیا جائے تو رات کو نماز یا نمازِ تہجد پڑھنا جائزہے؟ یعنی جس کمرے میں ٹیلی ویژن پڑا ہوا ہو۔
ج… گھر میں ٹی وی رکھنا ہی جائز نہیں ہے، جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے جس وقت آپ نماز پڑھ رہے ہیں اس وقت ٹیلی ویژن بند ہے تو اس کمرے میں آپ کی نماز بلاکراہت صحیح ہے، اور اگر ٹیلی ویژن چل رہا ہے تو ایسی جگہ پر نماز پڑھنا مکروہ ہے، اور جو جگہ لہو و لعب کے لئے مخصوص ہو، اس میں بھی نماز مکروہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved