- فتوی نمبر: 36-267
- تاریخ: 30 ستمبر 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > جمعہ کی نماز کا بیان
استفتاء
جمعہ کی نماز کہاں ہو سکتی ہے ؟ کون سے شہر یا گاؤں اور کونسی شرائط ہیں کہ وہ موجود ہوں تو نماز جمعہ ہو جائے گی؟
تنقیح: گاؤں کے بالغ افراد بیس، پچیس ہیں، نہ ہسپتال ہے اور نہ تھانہ ہے، گاؤں میں ایک بڑی دکان ہے، دو ڈاکٹر ہیں جنہوں نے گھر میں ہی کلینک بنایا ہے اور اس گاؤں میں جمعہ پہلے سے نہیں ہوتا۔ یہ مجھے اندازہ ہے کہ ہمارے گاؤں میں جمعہ نہیں ہوسکتا لیکن آپ جمعہ کی شرائط بتادیں کہ جس سےاندازہ ہوجائے کہ ان شرائط کے پائے جانے کی صورت میں جمعہ ہوگا یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
موجودہ دور کے لحاظ سے جمعہ کے صحیح ہونے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ جس جگہ جمعہ قائم کیا جائے وہ جگہ شہر یا بڑا گاؤں یا ا ن کی فنا ہو اگر یہ بنیادی شرط پائی جائے تو عموماً دیگر شرائط بھی پائی جاتی ہیں اس لیے انہیں الگ سے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
شہر یا بڑا گاؤں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جہاں ایسا بازار ہو جس میں تیس چالیس متصل اور مستقل دکانیں ہوں اور بازار روزانہ لگتا ہو اور اس بازار میں روز مرہ کی ضروریات ملتی ہوں مثلا جوتے کی دکان بھی ہو اور کپڑے کی بھی غلہ اور کریانہ کی بھی ہو اور دودھ گھی کی بھی ہو وہاں ڈاکٹر یا حکیم بھی ہو اور معمار و مستری بھی ہوں وغیرہ وغیرہ علاوہ ازیں وہاں گلی محلے ہوں۔اور فنائے شہر وہ جگہ ہوتی ہے جو شہر کی ضرورتوں اور مصلحتوں کے لیے متعین ہو مثلاً قبرستان، کوڑا ڈالنے یا گھوڑ دوڑ یا جنگی مشق اور چاند ماری فوجی اجتماع وغیرہ کے لیے میدان ، ہوائی اڈے اور ریلوے اسٹیشن وغیرہ۔
بدائع الصنائع (1/179) میں ہے:
وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت.
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها
البنایہ شرح الہدایہ (2/381) میں ہے:
شرائط لزوم الجمعة اثنا عشر، ستة في نفس المصلي …….. وستة في غير نفس المصلي وهي: المصر الجامع، والسلطان، والجماعة، والخطبة، والوقت، والإظهار
نور الایضاح (ص:102) میں ہے:
ويشترط لصحتها ستة أشياء:
المصر أو فناؤه. والسلطان أو نائبه. ووقت الظهر فلا تصح قبله وتبطل بخروجه. والخطبة:قبلها. بقصدها.في وقتها. وحضور أحد لسماعها – ممن تنعقد بهم الجمعة ولو واحدا في الصحيح”.والإذن العام.والجماعة وهم ثلاثة رجال غير الإمام
بدائع الصنائع (1/260) میں ہے:
وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح.
ردالمحتار (3/6تا9)میں ہے:
فى الدر المختار:(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء:الأول: (المصر)…(او فناءه)….(وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ ذكره الولوالجى.
وفي الشامية: فالقول بالتحديد بمسافة يخالف التعريف المتفق على ما صدق عليه بأنه المعد لمصالح المصر فقد نص الأئمة على أن الفناء ما أعد لدفن الموتى وحوائج المصر كركض الخيل والدواب وجمع العساكر والخروج للرمي وغير ذلك وأي موضع يحد بمسافة يسع عساكر مصر ويصلح ميدانا للخيل والفرسان ورمي النبل والبندق البارود واختبار المدافع وهذا يزيد على فراسخ فظهر أن التحديد بحسب الأمصار اهـ.
ردالمحتار (2/226) میں ہے:
والتعريف أحسن من التحديد؛ لأنه لا يوجد ذلك في كل مصر، وإنما هو بحسب كبر المصر وصغره بيانه أن التقدير بغلوة أو ميل لا يصح في مثل مصر؛ لأن القرافة والترب التي تلي باب النصر يزيد كل منها على فراسخ من كل جانب نعم هو ممكن لمثل بولاق فالقول بالتحديد بمسافة يخالف التعريف المتفق على ما صدقا عليه بأنه المعد لمصالح المصر فقد نص الأئمة على أن الفناء ما أعد لدفن الموتى وحوائج المصر كركض الخيل والدواب وجمع العساكر والخروج للرمي وغير ذلك۔
امداد الفتاوی جدید(3/164)میں ہے:
فناء مصر کی تعریف یہ ہے کہ جس موضع سے مصر کے باشندوں کے مصالح واغراض متعلق ہوں کسی مقدار اور مسافت کی تحدید نہیں ہے۔
امداد الاحکام (1/757) میں ہے:
سوال: حنفیہ کے نزدیک ایسے گاؤں میں جمعہ جائز ہے یا نہیں جس کی تعریف حسب ذیل ہے آبادی ۱۹۴۸ہے جس میں مسلمانوں مختلف قومیں آباد ہیں، شیخ، مغل، پٹھان، زمیندار، راجپوت، نومسلم، لوہار، بڑھئی، نائی، دھوبی، قصائی، تیلی، منہیار، درزی، تیرگر، ڈوم،خرادی، نداف، جولاہا، سقہ،عطار، پنساری، بزاز وغیرہ وغیرہ،وسط گاؤں میں مسلسل دوطرفہ تقریباً چالیس دکانیں، ایک ڈاک خانہ ہے، ایک ہی مسجد ہے، مع حوض نہایت عالیشان ہے پہلے سے جمعہ ہوتاآتا ہے، اب اختلاف ہوا ہے۔
الجواب: اصل یہ ہے کہ گاؤں میں جمعہ صحیح نہیں، اور شہروقصبات میں صحیح ہے، قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں آباد چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو اورایسا بازار موجود ہو جس میں دکانیں چالیس پچاس متصل ہوں، اور بازار روزانہ لگتا ہو، اور اس بازار میں ضروریات روز مرہ کی ملتی ہوں، مثلاً جوتے کی دکان بھی ہو، اور کپڑے کی بھی، عطار کی بھی ہو بزاز کی بھی، غلہ کی بھی اور دودھ گھی کی بھی، اور وہاں ڈاکٹر یاحکیم بھی ہوں معمارومستری بھی ہوں وغیرہ وغیرہ اور وہاں ڈاکخانہ بھی ہو، اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو، اور ا س میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں گے وہاں جمعہ صحیح ہوگا، ورنہ صحیح نہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved