• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کاغذی تصاویر کا حکم

استفتاء

کچھ ماہ پہلے مجھے یونیورسٹی سے گولڈ میڈل ملا تھا اور میں نے یاد گار کے طور پر دو تصاویر کا پرنٹ نکلوایا تھا  سوال یہ ہے کہ:

1۔کیا یہ  جائز ہے؟

2۔اگر جائز نہیں تو ان تصاویر کا کیا  کیا جائے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

2،1-مذکورہ صورت میں آپ کے لیے تصاویر کا پرنٹ نکلوانا جائز تو نہ تھا تاہم اب نکلوالیا ہے تو بہتر تو یہی ہے کہ اسے ضائع کردیا جائے  البتہ  اگر تصویر اتنی  چھوٹی ہو  کہ اسے زمین پر رکھ کر متوسط بینائی والا آدمی کھڑا ہوکر دیکھے تو اس کے اعضاء واضح نہ ہوں  یا تصویر تو بڑی ہو  لیکن اسے کسی کپڑے یا الماری وغیرہ میں  چھپا کر رکھا جائے تو ان صورتوں میں تصویر رکھنے کی بھی  گنجائش ہے     لیکن ایسی تصاویر کو  اپنے جی کو خوش کرنے کے لیے یا پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے دیکھنا جائز نہیں ۔

شامی (2/501) میں ہے:

وكره (ولبس ثوب فيه تماثيل) ذي روح، وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) ولو في وسادة منصوبة لا مفروشة (واختلف فيما إذا كان) التمثال (خلفه والأظهر الكراهة و) لا يكره (لو كانت تحت قدميه) أو محل جلوسه لأنها مهانة (أو في يده) عبارة الشمني بدنه لأنها مستورة بثيابه (أو على خاتمه) بنقش غير مستبين. قال في البحر ومفاده كراهة المستبين لا المستتر بكيس أو صرة أو ثوب آخر.

شامی  (2/ 506) میں ہے:

(قوله فنفاه عياض) أي وقال: إن الأحاديث مخصصة بحر، وهو ظاهر كلام علمائنا، فإن ظاهره أن ما لا يؤثر كراهة في الصلاة لا يكره إبقاؤه وقدصرح في الفتح وغيره بأن الصورة الصغيرة لا تكره في البيت. قال: ونقل أنه كان على خاتم أبي هريرة ذبابتان اهـ ولو كانت تمنع دخول الملائكة كره إبقاؤها في البيت لأنه يكون شر البقاع، وكذا المهانة كما مر، وهو صريح قوله في الحديث المار ” أو اقطعها وسائد، أو اجعلها بسطا ” وأما ما مر عن شرح عتاب، فقد علمت ما فيه. [تنبيه]

هذا كله في اقتناء الصورة، وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى كما مر، [خاتمة]

فتح القدير (1/ 415) میں ہے:

(قوله ويكره أن تكون فوق رأسه) أي تكره الصلاة وفوق رأسه إلخ، فلو كانت الصورة خلفه أو تحت رجليه ففي شرح عتاب لا تكره الصلاة.ولكن تكره كراهة جعل الصورة في البيت للحديث «إن الملائكة لا تدخل بيتا فيه كلب أو صورة …………. فإن قيل: فلم لم يقل بالكراهة وإن كانت تحت القدم وما ذكرت يفيده لأنها في البيت.

وكذا ظاهر الحديث المذكور في الكتاب وهو ما أخرجه مسلم عن عائشة رضي الله عنها «واعد رسول الله صلى الله عليه وسلم جبريل في ساعة يأتيه فيها، فجاءت تلك الساعة ولم يأته وفي يده عصا فألقاها، وقال: ما يخلف الله وعده ولا رسوله، ثم التفت فإذا جرو كلب تحت سريره، فقال: ما هذا يا عائشة؟ متى دخل هذا الكلب هاهنا؟ فقالت: والله ما دريت، فأمر به فأخرج، فجاء جبريل عليه السلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: واعدتني فجلست لك فلم تأت فقال: منعني الكلب الذي كان في بيتك، إنا لا ندخل بيتا فيه كلب ولا صورة» انتهى.

وبه يعترض على المصنف أيضا حيث كان دليله عاما لجميع الصور، وهو يقول لا يكره كونها في وسادة ملقاة إلى آخر ما ذكر. فالجواب لا يكره جعلها في المكان كذلك لتعدى إلى الصلاة. وحديث جبريل مخصوص بذلك، فإنه وقع في صحيح ابن حبان، وعند النسائي «استأذن جبريل عليه السلام على النبي صلى الله عليه وسلم فقال ادخل، فقال: كيف أدخل وفي بيتك ستر فيه تصاوير، فإن كنت لا بد فاعلا فاقطع رءوسها أو اقطعها وسائد أو اجعلها بسطا» ولم يذكر النسائي اقطعها وسائد.

وفي البخاري في كتاب المظالم عن عائشة رضي الله عنها «أنها اتخذت على سهوة لها سترا فيه تماثيل فهتكه النبي صلى الله عليه وسلم، قالت فاتخذت منه نمرقتين فكانت في البيت تجلس عليهما» زاد أحمد في مسنده «ولقد رأيته متكئا على إحداهما وفيها صورة» (قوله بحيث لا تبدو للناظر) أي على بعد ما، والكبيرة ما تبدو على البعد (قوله لأنها لا تعبد) فليس لها حكم الوثن فلا يكره في البيت.ونقل أنه كان على خاتم أبي هريرة ذبابتان. ولما وجد خاتم دانيال وجد عليه أسد ولبوة بينهما صبي يلحسانه،

کفایت  المفتی (9/233) میں ہے:

تصویر بنانے کا حکم جداگانہ ہے اور تصویر رکھنے اور استعمال کرنے کا حکم جداگانہ ہے تصویر بنانے اور بنوانے کا حکم تو یہ ہے کہ وہ مطلقا حرام ہے خواہ تصویر چھوٹی بنائی جائے یا بڑی کیونکہ علت ممانعت دونوں حالتوں میں یکساں پائی جاتی ہےاور علت ممانعت مضاہات لخلق اللہ ہے اور تصویر رکھنے اور استعمال کرنے کا حکم یہ ہےکہ اگر تصویر چھوٹی ہو اور غیر مستبین الاعضاء ہو تو اس کو ایسے طور پر رکھنا کہ تعظیم کا شبہ نہ ہو جائز ہے یا ضرورت کی وجہ سے استعمال کی جائے جیسے سکہ کی تصویر تو جائز ہے باقی بڑی تصویریں بلا ضرورت استعمال کرنا یا ایسی صورت میں رکھنا کہ تعظیم کا شائبہ ہو ناجائز ہے۔

جواہر الفقہ (7/261) میں ہے:

ناقص تصویریں جن میں چہرہ نہ ہو خواہ باقی  بدن تمام موجود ہو اس کا استعمال اور گھر میں رکھنا   بھی جائز ہے ……………….تصویریں اگر کسی غلاف یا تھیلی وغیرہ میں پوشیدہ ہو ں یا کسی ڈبہ وغیرہ میں بند ہوں تو اس تھیلی یا ڈبہ وغیرہ کا گھر میں رکھنا جائز ہے ………………………..جن  تصاویر کا بنانا اور گھر میں رکھنا ناجائز ہے ان کا ارادہ اور قصد کے ساتھ دیکھنا بھی ناجائز ہے البتہ تبعاً بلا قصد نظر پڑ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں جیسے اخبار یا کتاب مصور ہے ، مقصود ان کا مضمون دیکھنا ہے بلا ارادہ تصویر بھی سامنے آجاتی ہے اس کا مضائقہ نہیں۔

امداد الفتاویٰ (4/254) میں ہے:

سوال: بعض طبی  کتابوں میں تصاویر تمام جسم کی ہوا کرتی ہیں ان کو ان کی حالت پر رکھنا جائز ہے یا نہیں؟اگر اُن پر قلم و غیرہ پھیرا جائے گا تو بعض اعصاب وغیرہ کے نام مشکوک ہو جاتے ہیں۔

الجواب:في الدر المختار ولا يكره لو تحت قدميه الى قوله لا المستر بكيس او صرة أو ثوب أخر.

 في رد المحتار بان كان فوق الثوب الذي فيه صورة ثوب ساترا فلا تكره الصلوة فيه لاستتارها بالثوب (بحر ) وفيه فان ظاهره ان ما لا يوثر كراهة في الصلوة لا يكره ابقاءه وفيه هذا كله في اقتناء الصورة واما فعل التصويرفهو غير جائر مطلقا .

ان روایات سے ان صور کے علی حالہا چھوڑ دینے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، اگر چہ بناناپھر بھی حرام ہے، لیکن جہاں عوام کے مفسدہ کا خوف ہو مٹا دینا ضروری ہے کہ یہ مفسدہ اعصاب کے ناموں کے مشکوک ہو جانے سے اشد ہے ۔

امداد الفتاویٰ (4/385) میں ہے:

سوال:آج بہت مجبور ہوکر اپنی پریشانی کی اطلاع عرض کرتا ہوں کہ دوچار دن سے امر تسرمیں ایک فلم (تماشہ کمپنی) آئی ہے جس میں حج کے ارکان وافعال کی تصویر یں اور اُن کامعائنہ کرایا جاتا ہے امرتسرکے کل اہل علم نے فتویٰ دیا کہ یہ تماشہ دیکھنا منع ہے اور ڈپٹی کمشنر سے درخواست کرکے اس تماشہ کو منع کرایا گیا شہر کے بعض مسلمان اشخاص نے دوبارہ درخواست کرکے اسکو پھر جاری کرایا اور اشتہار دیا کہ علماء نے غلطی کی کہ اس کے دیکھنے سے منع کیا ہے اس میں حج کا شوق پیدا ہوتا ہے کوئی امرسوائے حجاج کی تصاویر اور حرکات وعبادات کے نہیں اور ان امور کا دیکھنا مباح اور ثواب ہے اس اطلاع سے یہ عرض ہے کہ حضرت والا کوئی عنوان مؤثر اور کوئی آیت یاحدیث جس کی دلالت اس فلم اور تماشہ کی حرمت پر ہواس کی تعلیم فرماویں ؟

جواب: ………… اس میں تصویر وں کا استعمال اور اُن سے تلذذ ہوتا ہے اور اس کے قبح میں کسی کو کلام نہیں گو عابدین ہی کی تصاویر ہوں حضور اقدس ﷺ نے حضرت ابراہیم  علیہ السلام و حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تمثال جوبیت اللہ کے اندر بنائی گئی تھیں اُنکے ساتھ جو معاملہ فرمایا ہے معلوم ہے۔

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (14/361) میں ہے:

وأما الخمر فيحرم الانتفاع بها من كل وجه ………. والنظر إلى الخمر فى الزجاج تلذذا بلونها.  اسی طرح اگر شیشہ میں خوش رنگ شراب ہو تو اس کی رنگت سے طبیعت خوش کرنے کے لیے اس کی طرف دیکھنا بھی مکروہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved