• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کمرے میں موجود پالتو جانوروں کے سامنے برہنہ ہونا

استفتاء

اگر کسی مسلمان گھرانے میں کتا، بلی یا کوئی اور پالتو جانور رکھا گیا ہو، جو اکثر اوقات کمرے میں بھی موجود رہتا ہو، تو ایسی صورت میں مرد و عورت کا ان جانوروں کے سامنے برہنہ ہونا، آپس میں تعلق قائم کرنا، نہانا یا کپڑے تبدیل کرنا وغیرہ شرعاً کس درجے میں آتا ہے؟ اس کی وضاحت قرآن و سنت کی روشنی میں، حوالوں کے ساتھ فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جائز ہے تاہم  بلا ضرورت آدمی کو اکیلے میں بھی برہنہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔

مشکوٰۃ المصابیح(3117 کتاب النکاح) میں ہے:

عن بهز بن حكيم عن ابيه عن جده رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم “احفظ عورتك الا من زوجتك او ما ملكت يمينك”فقلت يا رسول الله أرأيت اذا كان الرجل خاليا؟قال فالله احق ان يستحي منه

ترجمہ:حضرت بہز بن حکیم رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “اپنی اہلیہ یا اپنی باندی کے علاوہ اپنے ستر کی حفاظت کرو “میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے بتائیں کہ جب آدمی تنہا ہو (پھر بھی)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “اللہ اس کا زیادہ حقدارہے کہ اس سے حیا کی جائے”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved