• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کروٹ بدلنےسے چھوٹا بچہ مرگیا

استفتاء

ماں دو دھ پلاتے ہوئے   سوگئی اور سوتے میں کروٹ بدلنے سے بچہ  نیچے آکر فوت ہوگیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کا کوئی کفارہ  وغیرہ ہوتو بتادیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صوررت میں کفارہ  یہ ہے کہ ایک تو وہ عورت تو بہ واستغفار کرے اور دوماہ  کے مسلسل روزے رکھے اور عورت کی برادری مل کر (جس میں  عورتیں اور نابالغ بچے شامل نہ   ہونگے) بچے کےورثاء کو دیت کے طورپر دوہزار چھ سو پچیس  تولے چاندی یا اس کی  قیمت ادا کرے۔ اور یہ مقدار تین سالانہ قسطوں میں اداکردی جائے اور ماں کو اس  میں  سے اور بچے کی دیگر میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا۔ اور اگر ورثاء سب بالغ ہوں تو اپنی رضامندی سے یہ دیت معاف بھی کرسکتے  ہیں یا کچھ روپوں کے بدلے میں صلح بھی کرسکتے ہیں۔

والرابع ماجرى مجرى الخطاء كنائم انقلب على رجل فقتله….وموجبه الكفارةعلى العاقلة و الإثم دون إثم القتل….وفى الشامية وحرمان الإرث لمباشرة القتل.10/ 163

فالنساء والذرية ممن له حظ فى الديوان وكذا المجنون لا شئ عليهم من الدية:ص342ج10

والقاتل عندناكأحدهم ولو القاتل امرأة وفى الشامية ىعني اذا كان من اهل الخطاء أما إذا لم يكن فلا شئ عليه من الدية عندنا .ص: 345ج10

احکام القرآن  للجصاص میں ہے:

قوله تعالى الا أن يصدقوا . قال ابوبكر يعني والله اعلم الا أن يبرأ أولياء القتيل مت الدية. 2/ 322

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved