• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کنائی طلاق کے بعد طلاق ثلاثہ دینے کا حکم

استفتاء

بیوی کابیان :

اب سے چار ماہ پہلے جھگڑے کے دوران  میں نے ایوب سے کہا کہ  “مجھے فارغ کردو” تو میرے شوہر زیدنے تین بار  یہ الفاظ بولے کہ “فاطمہ میری  طرف سے تم  فارغ  ہو” تب وہاں پر زید کی بھابھی اور اس کا بھائی بھی موجود تھے اور دوبارہ تقریبا دو ماہ پہلے میں  اپنے ماں باپ کے گھر موجود تھی تو زید نے مجھ سے فون پر کہا  کہ فاطمہ اب کیا کرنا ہے؟ تو میں نے کہا بات بات پر فارغ  کرتے ہو اب میں نے کیا کرنا ہے؟ تب زید نے کہا  کہ “میں نے تمہیں فارغ نہیں کیا تھا میں نے تمہیں طلاق دی”  یہ الفاظ زید نے مجھے دو مرتبہ کہے تھے اتنے میں نے فون بند  کردیا اور میں  نے دو بار یہ الفاظ سنے۔

شوہر کابیان:

پہلے اس نے مجھے مجبور کیا اور نکاح نامہ لیکر بیٹھ گئی  اور بولا  کہ مجھے طلاق دیدو اور اس نے مجھے دو تین دفعہ کہا کہ مجھے طلاق دو پھر میں نے اسے تین دفعہ بول دیا کہ”میری طرف سے تم فارغ ہو” ان الفاظ سے میری طلاق کی نیت تھی۔ پھر تقریبا ایک ماہ بعد اس نے پھر لڑائی کی اور  اپنے گھر چلی گئی اور پھر میں نے اسے فون پر بھی تین دفعہ بول دیا کہ “میں نے تمہیں طلاق دی” لیکن اس نے دو دفعہ سنا  تیسری دفعہ اس نے  فون بند کردیا لیکن  میں نے اپنی طرف سے تین دفعہ بول دیا تھا۔

تنقیح: میاں بیوی کو اس بیان سے اتفاق  ہے اور بیوی  نے کہا  ہے پہلی طلاق کے بعد فون پر طلاق سے پہلے دو حیض آئے تھے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  تین طلاق  واقع ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے لہٰذا اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

توجیہ :مذکورہ صورت میں جب شوہر نے  طلاق کی نیت سے  یہ کہا کہ ”  میری طرف سے  تم  فارغ  ہو”  تو ان الفاظ  سے ایک  بائنہ طلاق  واقع   ہوگئی اور یہی جملہ متعدد مرتبہ کہنے کی وجہ سے البائن لا يلحق البائن  کے تحت ایک ہی طلاق ہوئی  پھر دو حیض آنے کے بعد جب شوہر نے   تین مرتبہ  فون پریہ کہا کہ” میں نے تمہیں  طلاق دی”  تو  الصريح يلحق البائن کے تحت مزید  دو طلاقیں  واقع ہو گئیں   اور بیوی شوہر پر حرام ہو گئی۔

درمختارمع ردالمحتار(4ْ561) ميں ہے :

(ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب،

قوله قضاء) قيد به لأنه لا يقع ديانة بدون النية، ولو وجدت دلالة الحال فوقوعه بواحد من النية أو دلالة الحال إنما هو في القضاء فقط كما هو صريح البحر وغيره

درمختار (6/28)  میں ہے  :

الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187)میں ہے:

وأما ‌الطلقات ‌الثلاث ‌فحكمها ‌الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل  {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة»

درمختار مع ردالمحتار (4/509) میں ہے:

كرر لفظ الطلاق وقع الكل.

(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved