- فتوی نمبر: 37-11
- تاریخ: 01 اکتوبر 2026
- عنوانات: مالی معاملات > امانت و ودیعت
استفتاء
مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ ہمارا مدرسہ ہے سال کے شروع میں ہم طلباء کو کتابیں دیتے ہیں اور ان سے پھر 500 روپے لیتے ہیں کہ اگر آپ نے سال کے آخر میں کتا بیں واپس کر دیں تو 500 روپے آپ کو واپس مل جائیں گے پھر اگر کوئی طالب علم کتاب گم کر دے تو ہم اس سے کتاب کی حیثیت سے پیسے کاٹ لیتے ہیں بڑی کتاب کے 100 روپے کاٹتے ہیں چھوٹی کتاب کے 50 روپے کا ٹتے ہیں کبھی سال کے آخر میں ہمیں کھلے کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو ہم ان کے پیسوں کو سو سو کرتے ہیں اب یہ مسئلہ پوچھنا ہے کہ
1۔ ہم جو ان سے پیسے لیتے ہیں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ امانت ہے ضمانت ہے یا کوئی دوسری ہے؟
2۔ پھر ان پیسوں میں تبدیلیاں کرنا جائز ہے یا نہیں؟ انہوں نے جو پیسے ہمیں دیے ہیں بعینہ وہی پیسے تو ممکن بھی نہیں ہے ظاہری بات ہے کہ جس طالب کے 500 روپے ہیں اس پر تو نام بھی نہیں لکھا جا سکتا ہے کہ یہ اس کو واپس کرنا ہے ۔
3۔ یا ان کو کہیں خرچ کر کے سال کے آخر میں پھر ہم اپنی طرف سے دوسرے پیسے ان کو دے دیں تو کیا یہ جائز ہے ؟
تنقیح : طلباء ہمیں کتابیں واپس کرنے کےپابند ہوتے ہیں کتاب اپنے پاس رکھنے کا انہیں اختیار نہیں ہوتا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ پیسے زر ضمانت ہیں لہذا ان کی شرعی حیثیت امانت کی ہے۔
2۔ اتنی تبدیلی کہ آپس میں نوٹ بدل جائیں یا مثلاً کھلے پیسوں کی ضرورت ہے تو ان میں سے لے کر ان کی جگہ بڑا نوٹ رکھ دیا جائے اس حد تک گنجائش ہے ۔
3۔ان کو استعمال کرنا جائز نہیں ۔
توجیہ: مذکورہ پیسے امانت ہیں جنہیں بلا اجازت خلط کرنا جائز نہیں تاہم آج کل عرفا ً خلط کی اجازت ہے اس لیے خلط تو جائز ہے لیکن خلط کے بعد بھی وہ امانت ہی رہتے ہیں یا جس نے خلط کیا ہے اس کے ذمے قرض بن جاتے ہیں اس میں اختلاف ہے ۔امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک وہ پیسے خلط کرنے والے کے ذمے قرض بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے اسے ان کے استعمال کی بھی اجازت ہو جاتی ہے جبکہ امام محمد ؒ کے نزدیک وہ امانت ہی رہتے ہیں اور اسے ان کے استعمال کی اجازت نہیں ہوتی الا باذن المالک اور مالک کی طرف سے خلط کی تو عرفا ً اجازت ہوتی ہے استعمال کی نہیں ہوتی اورمدرسے والوں کیلئے چونکہ مذکورہ پیسوں کا تاوان اٹھانا مشکل ہے اس لیے امام محمد ؒ کے قول کو لینا زیادہ بہتر ہے۔
فتاوى ہندیہ (4/ 348)میں ہے:
«(الخلط على أربعة أوجه) : أحدها خلط بطريق المجاورة مع تيسير التمييز كخلط الدراهم البيض مع الدراهم السود وخلط الذهب والفضة فهذا لا يقطع حق المالك بالإجماع، ولو هلك قبل التمييز هلك أمانة كما هلك قبل الخلط. والثاني خلط بطريق المجاورة مع تعذر التمييز كخلط الحنطة بالشعير وبهذا ينقطع حق المالك في بعض الروايات كذا في المضمرات. وهو الصحيح، هكذا في الجوهرة النيرة. والثالث خلط بطريق الممازجة للجنس بخلاف الجنس كخلط الدهن بالعسل، وبهذا أيضا ينقطع حق المالك بالإجماع. والرابع خلط بطريق الممازجة للجنس بالجنس كخلط دهن اللوز بدهن الجوز أو لا بطريق الممازجة كخلط الحنطة بالحنطة والدراهم البيض بالدراهم البيض، وبها ينقطع حق المالك عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – لتعذر إيصال عين حقه إليه، وقال: هو مخير إن شاء شاركه في المخلوط، وإن شاء ضمنه مثله، كذا في المضمرات. وثمرة الخلاف تظهر فيما إذا أبرأ الخالط فعند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – لا يبقى له على المخلوط سبيل وعندهما بالإبراء ينقطع خيرة الضمان فتتعين الشركة في المخلوط، وهذا إذا خلط الدراهم بغير إذنه، فأما إذا خلطها بإذنه فجواب أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – لا يختلف بل ينقطع حق المالك بكل حال، وعن أبي يوسف – رحمه الله تعالى – أنه جعل الأقل تابعا للأكثر، وقال محمد – رحمه الله تعالى – يشاركه بكل حال، وكذلك أبو يوسف – رحمه الله تعالى – في كل مائع خلطه بجنسه يعتبر الأكثر وأبو حنيفة – رحمه الله تعالى – يقول بانقطاع حق المالك في الكل ومحمد – رحمه الله تعالى – بالشركة في الكل، كذا في الكافي »
بدائع الصنائع (6/213) میں ہے:
ولو أودعه رجلان، كل واحد منهما ألف درهم، فخلط المودع المالين خلطا لا يتميز؛ فلا سبيل لهما على أخذ الدراهم؛ يضمن المودع لكل واحد منهما ألفا ويكون المخلوط له وهذا قول أبي حنيفة؛ وقال أبو يوسف ومحمد: هما بالخيار إن شاءا اقتسما المخلوط نصفين، وإن شاءا ضمنا المودع ألفين، وعلى هذا الخلاف سائر المكيلات، والموزونات، إذا خلط الجنس بالجنس خلطا لا يتميز، كالحنطة بالحنطة، والشعير بالشعير، والدهن بالدهن.
وجه قولهما أن الوديعة قائمة بعينها، لكن عجز المالك عن الوصول إليها بعارض الخلط، فإن شاءا اقتسما؛ لاعتبار جهة القيام، وإن شاءا ضمنا، لاعتبار جهة العجز وجه قول أبي حنيفة – رحمه الله – أنه لما خلطهما خلطا لا يتميز، فقد عجز كل واحد منهما عن الانتفاع بالمخلوط؛ فكان الخلط منه إتلاف الوديعة عن كل واحد منهما؛ فيضمن؛ ولهذا يثبت اختيار التضمين عندهما واختيار التضمين لا يثبت إلا بوجود الإتلاف، دل أن الخلط منه وقع إتلافا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved