- فتوی نمبر: 34-131
- تاریخ: 07 دسمبر 2025
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > زکوۃ ادا کرنے کا بیان
استفتاء
1۔کیا اسلام میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں انفرادی طور پر زکوٰۃ دی جاتی تھی؟زکوٰۃ لینا اور تقسیم کرنا اسلامی ریاست کا کام ہے یا انفرادی طور پر بھی زکوٰۃ کے نظام کی اسلام میں کوئی مثال موجود ہے؟
2۔موجودہ دور میں ریاست کے لگائے گئے کئی اقسام کے ٹیکسز کے علاوہ بھی فرد پر زکوٰۃ واجب ہے؟
3۔کیا خلفائے راشدین کی اسلامی ریاست میں ایسا ہوتا تھا؟
4۔اب چاندی اور سونے کی قیمتوں میں بہت بڑے فرق کے باوجود بھی نصاب چاندی کے حساب سے مقرر ہوگا؟ کہتے ہیں کہ پہلے ادوار میں ساڑھے باون تولے چاندی اور ساڑھے سات تولے سونے کی قیمت برابر تھی جب یہ نصاب مقرر کیا گیا۔موجودہ دور میں تفصیلی رہنمائی فرما کر تذبذب دور فرمائیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔قرآن و حدیث کی روشنی میں اموال زکوۃ کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
(۱)اموال باطنہ مثلا سونا ، چاندی اور وہ اموال تجارت جو شہر کے اندر ہوں۔
(۲)اموال ظاہرہ مثلا جنگل میں چرنے والے جانور( بھیڑ بکریاں وغیرہ،کھیتیاں، باغات۔
جب تک” خذ من اموالهم صدقة……الخ” آیت نازل نہیں ہوئی تھی(جو کہ سن نو ہجری میں نازل ہوئی ہے) اس وقت تک دونوں طرح کے اموال (اموال باطنہ اور اموال ظاہرہ) کی زکوۃ مسلمان خود بھی ادا کرتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کر دیتے تھے تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں حاصل ہوں اور تاکہ جو غریب غرباء اور مسافر حضرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے رہتے تھے آپ ان پر یہ زکوۃ خرچ کر دیں۔
تاہم جب سن نو ہجری میں مذکورہ بالا آیت “خذ من اموالهم صدقة” نازل ہوئی تو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اموال ظاہرہ کی زکوۃ وصول کرنے کے لیے سرکاری سطح پر عاملین(زکوۃ وصول کرنے والے) مقرر کیے گئے اور اموال باطن کی زکوۃ کی ادائیگی کا نظام حسب سابق رہا۔مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو خیر الفتاویٰ جلد سوم صفحہ 533 عنوان “عہد رسالت اور خلافت راشدہ میں زکوٰۃ کی نجی ادائیگی بھی معتبر تھی”
نوٹ: اگر حکومت کسی بھی وجہ سے اموال ظاہرہ کی زکوٰۃ وصول نہ کرے تو خود مالک کے ذمہ ہے کہ وہ اموال ظاہرہ کی زکوٰۃ کی ادائیگی کرے کیونکہ مالک کو براہ راست “آتوا الزكوة” کے ذریعہ زکوٰۃ ادا کرنے کا مکلف بنایا گیا ہے۔
شامی (2/ 260) میں ہے:
«والمطالب هنا السلطان تقديرا لأن الطلب له في زكاة السوائم وكذا في غيرها، لكن لما كثرت الأموال في زمن عثمان رضي الله عنه وعلم أن في تتبعها ضررا بأصحابها رأى المصلحة في تفويض الأداء إليهم بإجماع الصحابة فصار أرباب الأموال كالوكلاء عن الإمام، ولم يبطل حقه عن الأخذ، ولذا قال أصحابنا: لو علم من أهل بلدة أنهم لا يؤدون زكاة الأموال الباطنة فإنه يطالبهم وإلا فلا لمخالفته الإجماع بدائع»
الاختيار لتعليل المختار(1/ 104) میں ہے:
فصل ومن امتنع من أداء الزكاة أخذها الإمام كرها ووضعها موضعها، لقوله تعالى: {خذ من أموالهم} [التوبة: 103] وقوله عليه الصلاة والسلام: «خذها من أغنيائهم» وهذا لأن حق الأخذ كان للإمام في الأموال الظاهرة والباطنة إلى زمان عثمان رضي الله عنه بهذه النصوص، ففوضها في الأموال الباطنة إلى أربابها مخافة تفتيش الظلمة إلى أموال الناس، فصار أرباب الأموال كالوكلاء عن الإمام، فإذا علم أنهم لا يؤدون طالبهم بها
بدائع الصنائع (2/35) میں ہے:
فمال الزكاة نوعان ظاهر وهو المواشي والمال الذي يمر به التاجر على العاشر، وباطن وهو الذهب والفضة وأموال التجارة في مواضعها أما الظاهر فللإمام ونوائبه وهم المصدقون من السعاة والعشار ولاية الأخذ ………… وأما المال الباطن الذي يكون في المصر فقد قال عامة مشايخنا: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم طالب بزكاته، وأبو بكر وعمر طالبا، وعثمان طالب زمانا ولما كثرت أموال الناس ورأى أن في تتبعها حرجا على الأمة وفي تفتيشها ضررا بأرباب الأموال فوض الأداء إلى أربابها.
2۔زکوۃ کو ٹیکس پر قیاس کرنا درست نہیں کیونکہ زکوۃ عبادت ہے اور ٹیکس حکومت کی صوابدید پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے اخراجات کو سامنے رکھ کر اور اسی طرح اور بہت سارے عوامل کو دیکھ کر اسے مقرر کرتی ہے لہذا اگر کسی صاحب نصاب نے ٹیکس ادا کر دیا تب بھی اس پر زکوۃ واجب ہوگی ۔
شامی (3/289) میں ہے:
مطلب لا تسقط الزكاة بالدفع إلى العاشر في زماننا ثم قال: واعلم أن بعض فسقة التجار يظن أن ما يؤخذ من المكس يحسب عنه إذا نوى به الزكاة وهذا ظن باطل………..لامستند له في مذهب الشافعي؛ لأن الإمام لا ينصب المكاسين لقبض الزكاة بل لأخذ عشورات مال وجدوه قل أو كثر وجبت فيه الزكاة أو لا اهـ وتمامه هناك.
قلت: على أنه اليوم صار المكاس يقاطع الإمام بشيء يدفعه إليه ويصير يأخذ ما يأخذه لنفسه ظلما وعدوانا، ويأخذ ذلك ولو مر التاجر عليه أو على مكاس آخر في العام الواحد مرارا متعددة، ولو كان لا تجب عليه الزكاة فعلم أيضا أنه لا يحسب من الزكاة عندنا؛ لأنه ليس هو العاشر الذي ينصبه الإمام على الطريق ليأخذ الصدقات من المارين وقد مر أيضا أنه لا بد من شرط: أن يأمن به التجار من اللصوص، ويحميهم منهم وهذا يقعد على أبواب البلدة، ويؤذي التجار أكثر من اللصوص، وقطاع الطريق ويأخذه منهم قهرا ولذا قال في البزازية إذا نوى أن يكون المكس زكاة فالصحيح أنه لا يقع على الزكاة كذا قال الإمام السرخسي. اهـ.
وأشار بالصحيح إلى القول بأنه إذا نوى عند الدفع التصدق على المكاس جاز؛ لأنه فقير بما عليه من التبعات وقد مر الكلام عليه
امداد الفتاویٰ (4/69) میں ہے:
سوال: زمین عشری کی مالگزاری سرکاری اداکرنے سے جیسے کہ جناب مولوی قاری عبدالرحمن صاحب محدث پانی پتیؒ اور حضرت مولانا شیخ محمد صاحب تھانوی ؒ کی تحقیق تھی عشر ادا ہوجاتا ہے یا نہ معاملہ احتیاط تو ظاہر ہے کہ مستحقین کو علیحدہ دے مگر قول مضبوط آپ کے نزدیک کونساہے؟
الجواب: ہم کو تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ادا نہیں ہوتا جیسے انکم ٹیکس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی باقی ان حضرات کے ارشاد کا مبنیٰ معلوم نہیں ۔
فتاویٰ عثمانی (2/67) میں ہے:
سوال:جو لوگ زکوۃ ادا کرتے ہیں کیا وہ ٹیکس بھی ادا کریں یا نہیں،دونوں صورتوں میں زبردست مالی خسارہ ہوتا ہے زکوۃ نہ دینے کی صورت میں مجرمِ خدا ہو جاتے ہیں،ٹیکس نہ دیں تو حکومت پیچھا نہیں چھوڑتی،کیا ٹیکس کی ادائیگی سے زکوۃ ادا ہوگی یا نہیں؟اب ٹیکس سے بچنے کے لیے اگر کوئی رجسٹروں میں کمی بیشی کرے تو کوئی صورت ہے؟
جواب:سرکاری ٹیکسوں کی ادائیگی سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی حکومت کو صرف ایسے ٹیکس لگانے چاہیے جو عوام پر بار نہ بنیں، اگر حق و انصاف سے زائد ٹیکس لگائے گئے ہیں تو ان سے اخفاء کے ذریعے نجات حاصل کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس میں جھوٹ وغیرہ کا گناہ مول نہ لیا جائے۔
3۔خلفائے راشدین کے دور میں مسلمانوں سے زکوۃ ،عشر ، معادن وغیرہ سے وصولی کے علاوہ اضافی رقم وصول نہیں کی جاتی تھی، البتہ غیر مسلم سے معاہدے کے مطابق جزیہ خراج اور تجارتی ٹیکس وصول کیا جاتا تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت کے لیے ٹیکس لینا جائز نہیں کیونکہ ملک چلانے کے لیے بسا اوقات ٹیکس لینا ناگزیر ہوتا ہے لیکن یہ ٹیکس کا نظام منصفانہ ہونا چاہیے۔
امداد المفتین (2/887-888) میں ہے:
در مختار کتاب الزکوٰۃ میں نظم ابن شحنہ کے چند اشعار بیت المال کے مذکورہ مدات کی تفصیل کے بارے میں نقل کیے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔شرعی بیت المال کے چار مدات:
اول خمس غنائم یعنی جو مال مسلمانوں کو بذریعہ جنگ حاصل ہوا ، اس کے چار حصے مجاہدین میں تقسیم کر کے باقی پانچواں حصہ بیت المال کا حق ہے، اسی طرح خمس معادن یعنی مختلف قسم کی کانوں سے نکلنے والی اشیاء میں بھی پانچواں حصہ بیت المال کا حق ہے نیز خمس رکاز یعنی جو قدیم خزانے کسی زمین سے برآمد ہوں اور مالک ان کا معلوم نہ ہو تو اس کا بھی پانچواں حصہ بیت
المال کا حق ہے، یہ تینوں قسم کے خمس بیت المال کے ایک ہی مد میں شامل ہیں۔
دوسری مد صدقات ہیں: جس میں مسلمانوں کی زکوٰۃ، صدقۃ الفطر اور ان کی زمینوں کا عشر داخل ہیں۔
تیسری مد خراج اور مال فیئ ہے: یعنی غیر مسلموں کی زمینوں کا خراج اور ان سے حاصل شدہ جزئیہ اور تجارت ٹیکس اور وہ تمام اموال جو مصالحانہ طور پر غیر مسلموں کی رضا مندی سے حاصل ہوں۔
چوتھی مد ضعائع: یعنی لا وارث مال ہے۔
ان چاروں مدات کے مصارف اگرچہ الگ الگ ہیں لیکن فقراء ومساکین کا حق ان چاروں مدات میں رکھا گیا ہے۔
4۔ ایک سے زیادہ مال جمع ہونے کی صورت میں چاندی کے نصاب کا اعتبار اس لیے کیا گیا ہے کہ زکوۃ کے وجوب میں فقراء کی حاجت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جس میں فقراء کا فائدہ ہو فقہائے کرام نے اس کو اختیار کیا ہے اور چونکہ موجودہ دور میں چاندی کا نصاب کم ہے لہذا زیادہ لوگوں کو زکوۃ دینی پڑے گی اور فقراء کو فائدہ زیادہ ہوگا برخلاف سونے کے کہ اگر اس کو نصاب مقرر کیا جائے تو کم لوگوں پر زکوۃ واجب ہوگی اور فقراء کا کم فائدہ ہوگا۔
ہندیہ (1/241) میں ہے:
ولو ضم أحد النصابين إلى الأخرى حتى يؤدي كله من الذهب أو من الفضة لا بأس به لكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء قدرا ورواجا.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 20) میں ہے:
ولو ضم أحدهما إلى الآخر حتى يؤدى كله من الفضة أو من الذهب فلا بأس به عندنا ولكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء رواجا وإلا فيؤدى من كل واحد منهما ربع عشرة.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 247) میں ہے:
ولو ضم أحدهما إلى الآخر حتى يؤدي كله من الذهب أو الفضة فلا بأس به عندنا، ولكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء رواجا، وإلا فيؤدي من كل واحد منهما ربع عشرة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved