• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کیا امریکہ میں بائبل کی خرید وفروخت جائز ہے؟

استفتاء

کیا امریکہ میں بائبل کی خرید وفروخت جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بائبل کی خرید و فروخت جائز نہیں البتہ کسی شخص کا عیسائیوں کا رد کرنے کے لیے خریدنا اور دکاندار کا ایسے شخص کو بیچنا جس کے بارے میں غالب گمان ہو کہ یہ تردید کی غرض سے خرید رہا ہے تو اسے بیچنا جائز ہے۔

فتاوی رشیدیہ(ص:479)میں ہے:

سوال: کتب غیر مذہب و مبتدعین وغیرہ کی تجارت و طبع واشاعت کرنا کہ اس میں ابطال مذہب حق اور تائید مذہب باطلہ ہوتی ہے منع وناجائز ہے یا نہیں؟

الجواب: ایسی کتب کی تجارت حرام ہے کہ وہ خود معصیت کی اشاعت اور اسلام کی توہین ہے۔

عطر ہدایہ(ص:23)میں ہے:

مذاہب باطلہ کی وہ کتابیں جن میں احکام ہیں یا ان کے عقائد ہیں یا لچر بوچ   فاسقانہ قصے کہانیاں یا شریعت کے خلاف امور درج ہوں ان کی تجارت سے اجتناب اس لیے ضروری ہے کہ ایسی چیزوں کی تجارت سے من وجہ گناہ کے کام میں ان کی تائید کرنا ہے جبکہ اللہ تعالی نے گناہ کے کام میں تعاون کرنے سے منع فرمایا ہے: ولا تعانوا على الاثم والعدوان  یعنی گناہ کے کام میں ایک دوسرے کی مدد مت کیا کرو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved