- فتوی نمبر: 35-311
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > ایمان اور کفر کے مسائل
استفتاء
کچھ لوگ فتویٰ رشیدیہ کی اس عبارت(جو لوگ شیعہ کو کافر کہتے ہیں ان کے نزدیک تو اس کی نعش کو ویسے ہی کپڑے میں لپیٹ کر داب دینا چاہیے،اور جو لوگ فاسق کہتے ہیں ان کے نزدیک ان کی تجہیز و تکفین حسب قاعدہ ہونا چاہیے،اور بندہ بھی ان کی تکفیر نہیں کرتا(فتاوی رشیدیہ،1/411) پر اعتراض کرتے ہیں کہ مفتی رشید احمد گنگوہیؒ شیعہ کی تکفیر کے قائل نہیں تھے،کیا یہ بات درست ہے یا محض الزام ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حضرت گنگوہیؒ کی عبارات اس مسئلہ میں مختلف ہیں بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرتؒ تکفیر کے قائل نہیں تھےجیساکہ سوال میں ذکر کردہ عبارت سے معلوم ہوتا ہے،اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ تکفیر کے قائل تھے،دیکھیے حوالہ نمبر:1تا 5،جبکہ بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرتؒ اس مسئلہ میں شیعہ کے اہل علم اور جہلاء کی تکفیر میں فرق کرتے ہیں یعنی ان کےاہل علم کی تکفیر اور جہلاء کی تفسیق کرتے ہیں دیکھیے حوالہ نمبر: 6،لہذا حضرت گنگوہیؒ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ شیعہ کی تکفیر کے مطلقاًقائل نہ تھےدرست نہیں۔
1۔فتاوی رشیدیہ(2/138)میں ہے:
سوال : جو عورت سنیہ رافضی کے تحت بعد ظہور رفض کے بخوشی خاطر رہ چکی ہو پھر رفض یا دوسری شے کو حیلہ قرار دے کر بلا طلاق علیحدہ ہوجائے اور سنی سے نکاح کرلیوے تو یہ نکاح بلا طلاق شیعہ کے کیا حکم رکھتا ہے ؟اور اولاد سنی کی اگر رافضی ہوجاوے تو پدر سنی کے ترکہ سے محروم ہوگی یا نہیں؟
جواب:جس کے نزدیک رافضی کافر ہے وہ فتوی اول ہی سے بطلان نکاح کردیتا ہےاس میں اختیار زوجہ کا کیا اعتبارہے پس جب چاہے علیحدہوکر عدت کرکے نکاح دوسرے سے کرسکتی ہے۔اور جو فاسق کہتے ہیں ان کے نزدیک یہ امر ہرگز درست نہیں کہ اول صحیح ہوچکا ہے،اور بندہ اول مذہب رکھتا ہے،فقط واللہ اعلم۔
2۔باقیات فتاوی رشیدیہ(19)میں ہے:
سوال:رافضی یعنی شیعہ کافر ہیں یا فاسق؟
جواب:اس میں اختلاف ہے،راجح بندہ کے نزدیک کفر یہاں کے روافض کا ہے۔
3۔باقیات فتاوی رشیدیہ(297)میں ہے:
سوال:۔۔۔(ایک) شخص سنی المذہب ترکہ مورث شیعہ میں وارث ہوسکتا ہے یا نہیں؟اور عکس بھی ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:روافض اس زمانہ کے جو منکر قطعیات نصوص کے ہیں، کافر ہیں،حسب فتوی شاہ عبد العزیز قدس سرہ کے،پس سنی کو میراث شیعہ کی نہیں ملے گی اور علی ہذا شیعہ کو میراث سنی کی نہیں ملے گی کہ توارث مسلمان و کافر میں درست نہیں ہوتا،لا توارث بین المسلم والکافر،یہ مذہب اما م ابوحنیفہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کاہے ۔فقط واللہ اعلم
4۔باقیات فتاوی رشیدیہ(595)میں ہے:
(سوال)کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین کہ زید مذہب اہل سنت والجماعت فوت ہوا اور ایک بنت مذہب اہل سنت اور ایک عم عصبہ مذہب شیعہ وارث چھوڑ ی، تو صورت مذکورہ میں عم عصبہ وارث یا کل ترکہ بنت سنیہ کو پہنچے گا؟ غرض خلاصہ یہ ہے کہ اگر مورث اہل تسنن سے ہو اور وارث مذہب شیعہ یا اس کے بالعکس ہو تو باہم وارث ہوں گے یا نہیں؟ اور کتاب شریفیہ شرح سراجیہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل سنت والجماعت اور روافض اور خوارج اور معتزلہ باہم وارث ہوں گے۔
قال بخلاف أهل الأهواء فانهم معترفون بالأنبياء والكتب ويختلفون في تاويل الكتاب والسنة وذلك لا يوجب اختلاف الملة.
اور مولوی عبد الحی صاحب اسی کے حاشیہ پر لکھتے ہیں:
وتلويح الدفع انهم متفقون في الأصول كالتوحيد والاقرار بنبوة النبي صلى الله عليه وسلم فما اختلفت نحلهم وان اختلفوا في الفروع.
اس عبارت سے صاف واضح ہے کہ اہل سنت والجماعت اور شیعہ وغیرہ باہم وارث ہوں گے اور کتاب در مختار وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وارث نہ ہوں گے کیونکہ سب شیخین کفر ہے اور جب (سب) شیخین کفر ہے تو اہل سنت والجماعت اور شیعہ باہم (مختلف) ملت ہوگئے اور جب ملت مختلف ہوئی تو باہم وارث بھی نہ ہوں گے اسی واسطے عالمگیری میں ہے کہ اختلاف دین سے مراد اختلاف اسلام اور کفر کا ہے تو جو مذہب مختار اور صحیح اور مفتی بہ درباب کفر یا عدم کفر روافض اور وارث اور عدم وارث ہونے کے ہو مع روایات کتب فقہ معتبرہ ارقام فرمائیں تاکہ دارین میں اجر عظیم پاویں۔فقط
الجواب:قدماء علماء نے بھی کفر شیعہ میں خلاف[اختلاف] کیا ہے،بعض اہل اہواء[و]فاسق لکھتے ہیں اور بعض کافر،اور متاخرین جو ان کے اصو ل و قواعد سے واقف ہوئے تو فتوی کفر کا دیتے ہیں،بظاہر قدماء کو ان کے اصول پر واقفیت نہیں ہوئی ،سو ہمارے ملک کے شیعہ حسب قواعد شرعیہ کافر ہیں باہم سنی شیعہ توارث نہ ہوگا،اور شریفی وغیرہ کتب میں جوتوارث لکھا ہے تو بسبب ناواقفیت اصول شیعہ کے لکھا ہے ،حق یہ ہے کہ اس وقت اور اس ملک کے شیعہ کافر اور توارث منقطع۔فقط واللہ اعلم
5۔تذکرۃ الرشید(1/166)میں ہے:
(ش۷)روافض واہل سنت میں مناکحت جائز ہے یا نہیں ؟
(ج)جن لوگوں کے نزدیک رفاض کا حکم مرتدین کا ہے ان کے نزدیک ہرگز نکاح جائز نہیں اور شاہ عبد العزیز صاحب علیہ الرحمہ کافتوی اسی پر ہے اور جن لوگوں کے نزدیک رافضیوں کا حکم اہل کتاب کا ہےان کے نزدیک رافضیہ عورت کامردِ سنی سے نکاح جائز ہےاور عورت سنیہ کا مرد رافضی سے جائز نہیں، اور بعض علماء نے جو ان کو فاسق کہا ہے تو اس صورت میں نکاح ہوجاتا ہےمگر یہ اچھا نہیں کہ اس میں فساد دین کا ہے اور بندہ کے نزدیک رفاض کا حکم اہل کتاب کا ہے۔واللہ تعالی اعلم
6۔تذکرۃ الرشید(2/286)میں ہے:
ایک مرتبہ مولوی محمد حسن صاحب نے دریافت کیا کہ تکفیر روافض کے بارے میں کیا رائے ہے؟
فرمایا ہمارے اساتذہ تو شاہ عبد العزیز صاحب رحمہ اللہ کے وقت سے برابر تکفیر ہی کے قائل ہیں، بعضوں نے اہل کتاب کا حکم دیا ہے اور بعضوں نے مرتد کا ،مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کی کیا رائےہے؟ ارشاد فرمایا میرے نزدیک تو ان کے علماء کافر ہیں اور جہلاء فاسق۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
