- فتوی نمبر: 37-73
- تاریخ: 17 اکتوبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > کھانے پینے کی اشیاء
استفتاء
کیا Hilal (ہلال) کمپنی کا Cup Kake( کپ کیک ) کھانا حلال ہے؟ اس کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں۔
(نوٹ: کمپنی نے کیک کا لفظC کی بجائے K سے لکھا ہے)
| Sugar(چینی) | Natural colour caramel E150d (قدرتی کیرامل رنگ) |
| Cocoa Powder(کوکوپاؤڈ) | E471گلیسریل مونو سٹریٹ |
| Wheat Flour (گندم کا آٹا) | Citric Acid(سٹرک ایسڈ) |
| Vegetable oil-palm(نباتاتی پام آئل) | Xanthan Gum(زینتھن گم) |
| Glucose Syrup(گلوکوز کا شربت) | E420Sorbitol( سوربیٹول) |
| E-481 (Stearic Acid and Lactic Acid) ایسٹیرک ایسڈ (تیزاب) اور لیکٹک ایسڈ | (Glycerol and Fatty Acid) E-475 (گلیسرول اور فیٹی ایسڈ) |
| E-470a (Calcium Oxide and Stearic Acid)(کیلشیم آکسائڈ اور ایسٹیرک ایسڈ) | E422Glycerol(گلیسرول/گلیسرین) |
| Propylene Glycol E1520 (پروپیلین گلائیکول) | Salt( نمک) |
| Whey powder(وے پاؤڈر ) | Fresh Eggs(تازہ انڈے ) |
| E500ii | Vanillin powder(وینیلن پاؤڈر) |
| Preservative E202( پوٹاشیم سوربیٹ) | E450i |
| Soya Lecithin E322(سویا لیتھیسین) |
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ Hilal (ہلال) کمپنی کے Cup Kake (کپ کیک) کے اجزائے ترکیبی میں سے کسی جزء کے حرام ہونے پر ہمیں کوئی قابل اعتبار دلیل نہیں ملی۔ لہذا جب تک مذکورہ Cup Kake (کپ کیک) میں کسی حرام جز ء کے شامل ہونے کی کوئی قابل اعتبار دلیل سامنے نہیں آتی اس وقت تک اس کپ کیک کو کھانے کی گنجائش ہے ۔
توجیہ: مذکورہ کپ کیک کے پیکٹ پر 23 اجزائے ترکیبی ہیں جن میں سے پندرہ (15) نباتاتی،دو (2)معدنی،دو (2)حیوانی، چار (4) مصنوعی ہیں۔ ان اجزاء کی تفصیل اور ان کا حکم درج ذیل ہے۔
نباتاتی اجزاء:
1۔ Sugar(چینی)
2۔Cocoa Powder کوکوپاؤڈ (کوکو کی پھلی کے ذرات جن کو مکھن نکالنے کے بعد پیس لیا جاتا ہے )
3۔Wheat Flour(گندم کا آٹا)
4۔Vegetable oil-palm(نباتاتی تیل جو کہ تاڑ[ کھجور کے مشابہ ایک درخت ]سے نکالا جاتا ہے)
5۔Glucose Syrup(گلوکوز کا شربت) آلو گندم اور نشاستہ سے بنایا جاتا ہے
6۔(E150d) Natural colour caramel (قدرتی کیرامل رنگ) بھورا رنگ جو عموماً شکر (کاربوہائڈریٹس ) سے تیار کیا جاتا ہے۔
7۔E471گلیسریل مونو سٹریٹ (نباتات سے بھی حاصل ہوتا ہے اور حیوانات سے بھی البتہ ویکیپیڈیا کے مطابق تجارتی سطح پر نباتات سے حاصل کیا جاتا ہے)
8۔Soya Lecithin E322 (سویا لیتھیسین)سویا کے بیج سے حاصل کردہ۔
9۔ Citric Acid سٹرک ایسڈ(لیموں، کنو اور مالٹے وغیرہ ترشاوہ پھلوں میں پایا جانے والا ایسڈ)
10۔ (E415) Xanthan Gum (زینتھن گم)سبز پتوں والی سبزیوں سے حاصل ہونے والی گوند ۔
11۔ E420Sorbitol ( سوربیٹول) یہ میٹھا قلمی الکحلی مادہ ہے جو بعض پھولوں میں پایا جاتا ہے اور غذائی صنعت میں ایک جزو کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
12۔( Glycerol and Fatty Acid) E-475
13۔E-481 (Stearic Acid and Lactic Acid)
14۔E-470a (Calcium Oxide and Stearic Acid)
نوٹ: یہ تینوں اجزاء اگرچہ حیوانی ہوسکتے ہیں لیکن آسان دستیابی اور لاگت کی وجہ سے دنیا بھر میں 85 فیصد نباتاتی استعمال ہوتے ہیں۔
15۔ E422Glycerol(گلیسرول/گلیسرین) نباتات سے بھی حاصل ہوتا ہے اور حیوانات سے بھی البتہ ویکیپیڈیا کے مطابق تجارتی سطح پر نباتات سے حاصل کیا جاتا ہے۔
نباتاتی اجزاء کا حکم:
ان میں سے نشہ آوریامضر اجزاء کے علاوہ سب پاک اور حلال ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ اجزاء میں سے کوئی بھی جز نشہ آور اور مضر نہیں ہے لہذایہ سب اجزاء حلال اور پاک ہیں۔
معدنی اجزاء :
16۔ Salt ( نمک)
17۔ Propylene Glycol E1520 پروپیلین گلائیکول (پیٹرولیم مصنوعات سے بنتا ہے)
معدنی اجزاء کا حکم:
ان کا حکم بھی نباتات والا ہے کہ نشہ آور یا مضر اجزاءکے علاوہ سب پاک اور حلال ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ جز نشہ آور یا مضر نہیں ہے لہذا یہ جزبھی پاک اورحلال ہے۔
حیوانی اجزاء
18۔Fresh Eggsتازہ انڈے
19۔Whey powderوے پاؤڈر (دودھ سے حاصل ہوتا ہے)
حیوانی اجزاء کا حکم:
جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ان کا انڈہ بھی حلال ہے اور جن کا گوشت حرام ہے ان کا انڈہ بھی حرام ہے۔ ہماری معلومات کی حد تک پوری دنیا میں تجارتی سطح پر عموما مرغی کے انڈے استعمال کیے جاتے ہیں لہذا جب تک ان انڈوں کے کسی حرام جانور سے حاصل ہونے کا علم یا غالب گمان نہ ہو اس وقت تک ان انڈوں کو بھی حلال کہا جائے گا۔
نوٹ: وے پاؤڈر رینٹ سے بنتا ہے اور رینٹ حیوانی، نباتاتی ، جراثیمی (مائیکروبیل) اور مصنوعی سب طرح کا ہوتا ہے۔ صنعتی پیمانے پر عام طور سے چونکہ غیر حیوانی رینٹ استعمال ہوتا ہے لہذا اسے حلال سمجھا جائے گا۔
مصنوعی اجزاء
20۔Vanillin powderوینیلن پاؤڈر(دنیا میں تجارتی پیمانے پر 99فیصد مصنوعی طریقے سے پیٹرولیم کیمیکل میں سے ایک کیمیائی مادے Guaiacol سے کیمیائی طریقے سے تیار کیا جاتا ہے)
21۔E500iiسوڈیم بائی کاربونیٹ ہے اسے بیکنگ سوڈا اور میٹھا سوڈا بھی کہتے ہیں ۔
22۔E450iڈائی سوڈیم فاسفیٹ
23۔ Preservative E202( پوٹاشیم سوربیٹ) قدرتی طور پر ایک پہاڑی درخت کے پھل میں پایا جاتا ہے کھانے کی چیزوں میں مصنوعی تیار شدہ استعمال ہوتا ہے ۔
مصنوعی اجزاء کا حکم:
مصنوعی اجزاء بھی در حقیقت مذکورہ بالا تین اجزاء(نباتاتی،معدنی اور حیوانی) میں سےکسی ایک سے یا ایک سے زائد سے ہی تیارہوتے ہیں ان سے ہٹ کرکسی اور چیز سے تیار نہیں ہوتے ، اس لیے مصنوعی اجزاءکا اصل حکم تو اسی وقت معلوم ہو سکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ ان کو کن اشیاء سے تیار کیا گیا ہے اور پھر اس مصنوع میں ان میں سے کون سا مصنوعی فلیور استعمال کیا گیا ہے۔ مذکورہ صورت میں چونکہ ان اجزاء کےکسی حیوان یا دیگر حرام اشیاء سے تیار ہونے کا یقین یا غالب گمان نہیں اس لیے جب تک ان مصنوعی اجزاء کے کسی حرام جانور یا کسی حرام شے سے حاصل ہونے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو اس وقت تک ان مصنوعی اجزاء کو بھی حلال کہا جائے گا۔
نوٹ:ہمارے اس فتوے کا تعلق صرف صارف (Consumer) کے ساتھ ہے کیونکہ ایک مفتی اور عام صارف کو کسی مصنوع(Product)کے ان اجزائے ترکیبی تک ہی رسائی ہو سکتی ہے جو پیکٹ پر درج ہوں اور وہ ان اجزاء کو ہی سامنے رکھ کر اپنے لیئے یا دوسرے کیلئےحلال یا حرام کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
جبکہ صانع(Manufacturer)کو اصل حقیقت کا علم ہوتا ہے اس لیئے صانع(Manufacturer) نے اگر اپنی کسی مصنوع(Product)میں کوئی حرام جز شامل کیا ہو اور اسے کسی بھی مصلحت سے اجزائے ترکیبی میں ذکر نہ کیا ہو تو صانع (Manufacturer) کا یہ فعل بہر حال حرام ہوگا اور چونکہ ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں کہ ہم اس کی تحقیق کر سکیں کہ کسی مصنوع میں واقعتاً کوئی حرام جز شامل تو نہیں ،اس لیئے ہمارے اس فتوے کی صانع (Manufacturer) کے لیئے سرٹیفکیٹ کی حیثیت نہیں ہے۔
نیز ہمارا یہ فتوی موجودہ پیکٹ پر درج اجزائے ترکیبی کے بارے میں ہے لہذا اگر کمپنی آئندہ اجزائے ترکیبی میں کوئی تبدیلی کر ےتو ہمارا یہ فتوی اس کو شامل نہ ہوگا۔
إحياء علوم الدين(2/ 92)میں ہے:
«أما المعادن فهي أجزاء الأرض وجميع ما يخرج منها فلا يحرم أكله إلا من حيث أنه يضر بالآكل….. وأما النبات فلا يحرم منه إلا ما يزيل العقل أو يزيل الحياة أو الصحة»
صحیح بخاری (رقم:5507) میں ہے:
عن عائشة رضي الله عنها: «أن قوما قالوا للنبي صلى الله عليه وسلم: إن قوما يأتوننا باللحم لا ندري أذكر اسم الله عليه أم لا، فقال: سموا عليه أنتم وكلوه» قالت: وكانوا حديثي عهد بالكفر
فتح الباری (9/ 635) میں ہے:
«ويستفاد منه أن كل ما يوجد في أسواق المسلمين محمول على الصحة وكذا ما ذبحه أعراب المسلمين لأن الغالب أنهم عرفوا التسمية»
تبیین الحقائق(6/219) میں ہے:
’’ألا ترى أن أسواق المسلمين لا تخلو عن المحرم من مسروق ومغصوب، ومع ذلك يباح التناول اعتمادا على الظاهر‘‘
ہندیہ(5/340) میں ہے:
أكل الطين مكروه، هكذا ذكر في فتاوى أبي الليث – رحمه الله تعالى – وذكر شمس الأئمة الحلواني في شرح صومه إذا كان يخاف على نفسه أنه لو أكله أورثه ذلك علة أو آفة لا يباح له التناول، وكذلك هذا في كل شيء سوى الطين، وإن كان يتناول منه قليلا أو كان يفعل ذلك أحيانا لا بأس به، كذا في المحيط
بہشتی زیور (ص:604) میں ہے:
’’نباتات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا مسکر ہو۔‘‘
بہشتی زیور (ص: 646) میں ہے:
جن جانوروں کا گوشت کھانا حرام ہے ان کا دودھ بھی حرام اور نجس ہے اور حلال جانور کا دودھ حلال اور پاک ہے۔
بہشتی زیور (2/203) میں ہے:
جمادات سب پاک اور حلال ہیں الا یہ کہ مضر ہوں یا نشہ لانے والے ہوں…..نباتات سب پاک اور حلال ہیں الا یہ کہ مضر ہوں یا نشہ لانے والے ہوں۔
امداد الفتاوی(96/4)میں ہے:
’’سوال (۲۳۷۴) : جب سے پتہ لگا ہے کہ بعض ولایتی رنگوں میں اسپرٹ کا شبہ ہے اسی وقت سے جب بھی کپڑا پہنتا ہوں تو طبیعت میں شک رہتا ہے کہ یہ کہیں ناپاک نہ ہو، حضرت اقدس ارشاد فرماویں کہ ولایتی رنگ دار کپڑوں مثلاً رنگین گرم کپڑے، رنگین دھاری دار سرد کپڑے، عورتوں کے لئے پختہ رنگ کی رنگین چھینٹیں وغیرہ بلا دھوئے پہننے اور پہن کر نماز پڑھنے میں حرج تو نہیں ہے؟
(۲) حضرت والا یہ بھی ارشاد فرماویں کہ عورتوں کے لئے ولایتی رنگوں سے دوپٹہ وغیرہ رنگ کر پہننے کا کیا حکم ہے؟
الجواب: اول تو خود ان رنگوں میں جزونجس شامل ہونے میں شبہ پھر ان کپڑوں میں ان رنگوں کے شامل ہونے میں شبہ تو کپڑوں کے نجس ہونے کا شبہۃ الشبہہ ہوگیا؛ اس لئے فتوے سے گنجائش ہے باقی اگر کوئی ورع اختیار کرلے اولیٰ واحسن ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved