- فتوی نمبر: 32-76
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > کھانے پینے کی اشیاء
استفتاء
کیا پاکستانی Kolsonکمپنی کی سالٹڈ فلیور (Salted Flavour) سلانٹی (slanty ) کھانا حلال ہے؟ اجزائے ترکیبی کی تصویر آپ کو ارسال ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
پاکستانی کمپنی” لوٹے کولسن ” (Lotte Kolson) کی “سلانٹی ” کے Salted Flavour کے پیکٹ پرجو اجزائے ترکیبی درج ہیں ان میں سے کسی جز کے حرام ہونے پر کوئی قابل اعتبار دلیل نہیں لہذا جب تک مذکورہ سلانٹی میں کسی حرام جز کے شامل ہونے کی کوئی قابل اعتبار دلیل سامنے نہیں آتی اس وقت تک اس سلانٹی کے کھانے کی گنجائش ہے۔
توجیہ:مذکورہ’’ کولسن سلانٹی‘‘ کے پیکٹ پر 5 اجزائے ترکیبی مذکورہیں جن میں سے4نباتاتی ہیں اور 1 معدنی ہے۔ان اجزاء کی تفصیل اور ان كا حکم درج ذیل ہے:
نباتاتی اجزاء:
Potato starch-1(آلو کا نشاستہ/کلف)
Palm oil-2(تاڑ [کھجور سے مشابہ ایک درخت کے پھل] اور اس کی گھٹلی سے حاصل شدہ تیل)
Potato flakes-3(آلو کے باریک ذرات)
Corn starch-4(مکئی کا نشاستہ/کلف)
نباتاتی اجزاء کا حکم یہ ہے کہ ان میں سے نشہ آوریامضر اجزاء کے علاوہ سب پاک اور حلال ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ اجزاء میں سے کوئی بھی جز نشہ آور یا مضر نہیں ہے لہذایہ سب اجزاء حلال اور پاک ہیں۔
معدنی اجزاء:
5۔نمک
معدنی اجزاء کا حکم بھی نباتات والا ہے کہ نشہ آور یا مضر اجزاءکے علاوہ سب حلال اور پاک ہیں ،لہذا یہ جز بھی حلال اور پاک ہے۔
نوٹ:ہمارے اس فتوے کا تعلق صرف صارف (Consumer) کے ساتھ ہے کیونکہ ایک مفتی اور عام صارف کو کسی مصنوع(Product)کے ان اجزائے ترکیبی تک ہی رسائی ہو سکتی ہے جو پیکٹ پر درج ہوں اور وہ ان اجزاء کو ہی سامنے رکھ کر اپنے لیئے یا دوسرے کیلئےحلال یا حرام کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
جبکہ صانع(Manufacturer)کو اصل حقیقت کا علم ہوتا ہے اس لیئے صانع(Manufacturer) نے اگر اپنی کسی مصنوع(Product)میں کوئی حرام یا نشہ آور یا مضر صحت جز شامل کیا ہو اور اسے کسی بھی مصلحت سے اجزائے ترکیبی میں ذکر نہ کیا ہو تو صانع (Manufacturer) کا یہ فعل بہر حال حرام ہوگا اور چونکہ ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں کہ ہم اس کی تحقیق کر سکیں کہ کسی مصنوع میں واقعتاً کوئی حرام یا نشہ آور یا مضر صحت جز شامل تو نہیں،اس لیئے ہمارے اس فتوے کی صانع (Manufacturer) کے لیئے سرٹیفکیٹ کی حیثیت نہیں ہے۔
نیز ہمارا یہ فتوی موجودہ پیکٹ پر درج اجزائے ترکیبی کے بارے میں ہے لہذا اگر کمپنی آئندہ اجزائے ترکیبی میں کوئی تبدیلی کر ےتو ہمارا یہ فتوی اس کو شامل نہ ہوگا۔
إحياء علوم الدين(2/ 92)میں ہے:
«أما المعادن فهي أجزاء الأرض وجميع ما يخرج منها فلا يحرم أكله إلا من حيث أنه يضر بالآكل….. وأما النبات فلا يحرم منه إلا ما يزيل العقل أو يزيل الحياة أو الصحة»
بہشتی زیور (ص:604) میں ہے:
’’نباتات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا مسکر ہو۔‘‘
بہشتی زیور (ص:600) میں ہے:
’’جمادات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا نشہ لانے والا ہو۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved