- فتوی نمبر: 32-143
- تاریخ: 02 فروری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ميرے والد صاحب کی کل زمین 4 کنال 3 مرلے ہے اور میرے والد صاحب نے دو شادیاں کیں ، دوسری بیوی کو والد صاحب نے 2 کنال زمین مہر میں دیدی اور نکاح نامہ میں یہ بات لکھی ہوئی ہے لیکن اس زمین کا انتقال دوسری بیوی کے نام نہیں کروایا اور وہ 2 کنال زمین دوسری بیوی کے قبضہ میں دیدی تھی اور والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے اب آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ تقسیم وراثت میں کل زمین یعنی 4 کنال 3 مرلے کا حساب کیا جائے گا یا دو کنال جو مہر میں دی تھی اس کو نکال کر باقی 2 کنال 3 مرلے کا حساب کیا جائے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں جو دو کنال زمین آپ کے والد نے اپنی دوسری بیوی کو بطور مہر کے دی تھی وہ زمین اسی دوسری بیوی کی ہے اور وہ اس میں ہر طرح کے تصرف کا اختیار رکھتی ہے کیونکہ جب آپ کے والد نے دو کنال زمین مہر مقرر کی اور اس کے بعد وہ زمین بیوی کے حوالے کردی تو بیوی اس کی مالک بن گئی اور تقسیم وراثت میں اس دوکنال کو نکال کر باقی دو کنا ل تین مرلے کا حساب کیا جائے گا۔
ہندیہ (1/303) میں ہے:
(الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة) والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، كذا في البدائع.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved