- فتوی نمبر: 32-48
- تاریخ: 30 مارچ 2025
- عنوانات: مالی معاملات > قرض و ادھار > پرانے قرض کی ادائیگی کس شکل میں کی جائے گی؟
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کی بابت کہ 50سال قبل دیور کی شادی کے موقع پر سسرال والوں کی موجودگی میں، میں نے اپنا ملکیتی 8 تولہ سونے کا زیور بطور ادھار دیور کو استعمال کرنے کے لیے دیا جو اس نے اپنی شادی پر استعمال کیا۔ اب زیور کی واپسی کی صورت میں اگر وہ اس کی مالیت دینا چاہتے ہیں تو :
1۔کیا قرض میں دیے گئے زیور کی جگہ اس کی مالیت وصول کی جاسکتی ہے؟
2۔اور اگر مالیت لی جاسکتی ہے تو وہ اس وقت (جب زیور دیا تھا) کے حساب سے سونے کے مطابق ہوگی یا موجودہ سونے کی مالیت کے حساب سے لی جائے گی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
۔ باہمی رضامندی ہوتو کی جاسکتی ہے۔
2۔ موجودہ سونے کی مالیت کے حساب سے لی جائے گی ۔ تاہم باہمی رضامندی سے زیور دینے کے وقت کے حساب سے بھی لی جاسکتی ہے اور کوئی درمیان کی صورت بھی ہوسکتی ہے لیکن پیسے لینے کی صورت میں جس مجلس میں پیسے لینا طے ہو ا سی مجلس میں مکمل پیسوں پر قبضہ کرلینا ضروری ہے تاکہ بیع الکالی بالکالی لازم نہ آئے۔
شامی(7/406) میں ہے:
القرض هو عقد مخصوص يرد على دفع مال مثلى لآخر ليرد مثله وصح في مثلي هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك لا في غيره من القيميات كحيوان وحطب وعقار وكل متفاوت لتعذر رد المثل ……………. فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا كل ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا.
شامی(7/41) میں ہے:
(وكان عليه مثل ما قبض) فإن قضاه أجود بلا شرط جاز ويجبر الدائن على قبول الأجود وقيل لا يجبر
النہر الفائق (3/537) میں ہے:
(وغالب الفضة) أي: والفضة الغالية (و) غالب (الذهب فضة وذهب) لأن النقود لا تخلو عن قليل غش للانطباع وقد يكون خلقيًا فيكون كالمستهلك (حتى لا يجوز بيع الخالصة بها ولا بيع بعضها ببعض إلا متساويًا) وكذا لا يصح الاستقراض بها إلا (وزنًا)
شامی (7/411) میں ہے:
فجاز شراء المستقرض القرض ولو قائما من المقرض بدراهم مقبوضة، فلو تفرقا قبل قبضها بطل لانه افتراق عن دين
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved