- فتوی نمبر: 35-12
- تاریخ: 10 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > لباس و وضع قطع
استفتاء
احادیث میں سر کے بالوں کو کاٹنے میں قزع سے منع کیا گیا ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا قزع کے تحقق کے لیے سر کے کچھ حصے کا حلق ضروری ہے یا کچھ حصے کے قصر سے بھی قزع کا تحقق ہو جائے گا ؟ نیز قزع کے تحقق کے لیے سر کے متفرق حصوں سے حلق یا قصر ضروری ہے یا کسی بھی حصے سے حلق یا قصر کافی ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قزع کے تحقق کے لیے حلق ضروری نہیں ہے بلکہ سر کے کسی حصے کے قصر سے بھی قزع کا تحقق ہو جائے گا نیزقزع کے تحقق کے لیے متفرق حصوں کا حلق یا قصر بھی ضروری نہیں ہے بلکہ کسی بھی حصے سے حلق یا قصر سےقزع کا تحقق ہو جائے گا ۔
مسند أحمد (9/ 437 ) میں ہے:
«حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى صبيا قد حلق بعض شعره، وترك بعضه، فنهى عن ذلك، وقال: ” احلقوا كله، أو اتركوا كله»
شرح الالمام باحاديث الاحكام لابن دقيق العيد ۷۰۲ھ (3/ 368) میں ہے:
«والقزع: أخذ بعض الشعر وترك بعضه، وفي الحديث: “نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القزع”؛ يعني: أخذ بعض الشعر وترك بعضه.
رياض الافہام فی شرح عمدة الأحكام للفاکہانی ،ت:۷۳۴ھ (5/ 491) میں ہے:
قال ابنُ وهب: سمعتُ مالكًا يقول: بلغني أن القزعَ مكروه، والقزعُ أن يترك شعرًا متفرقًا في رأسه.»
الأبواب والتراجم لصحيح البخاری لشیخ الحديث مولانا زكريا كاندہلویؒ (6/ 230) میں ہے:
«(72 - باب القزع)….. وهو حلق بعض رأس الصبي مطلقًا، ومنهم من قال: هو حلق مواضع متفرقة منه، والصحيح الأول
فتح القريب المجيب على الترغيب والترہيب للفيومی،ت:۸۷۰ھ (11/ 162) میں ہے:
«فرع: في القزع في الرأس، القزع هو بفتح القاف والزاي التقطع يقال: تقزعت السحاب أي تقطعت وقزعة السحاب القطعة منه، وعن ابن عمر أن رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم نهى عن القزع، قلت لنافع: ما القزع؟ قال: يحلق بعض الرأس ويترك بعضه، وفي رواية: أن هذا التفسير من كلام عبيد اللَّه، قال النووي: القزع وهذا التفسير الذي فسر به نافع وعبيد اللَّه هو الأصح وهو أن القزع حلق بعض الرأس مطلقا ومنهم من قال هو حلق مواضع متفرقة منه، والصحيح الأول لأنه تفسير الراوي وهو غير مخالف للظاهر فوجب العمل به
امداد الفتاوی جدید مطول (9/311) میں ہے :
سوال: ناصیہ کے بال لینا اعنی حجامت بنانا اور گردن مونڈانا، اور سینہ کے بال کترانا یا مونڈانا، علیٰ ہذا، ران وہاتھ کے کیسا ہے؟
جواب: ناصیہ یعنی مقدم رأس کے بال لینا باقی چھوڑنا قزع میں داخل ہے اورممنوع ہے ۔ گردن کے بال مونڈنا فقہاء نے مکروہ سمجھا ہے ۔سینہ اور ران کا مُونڈانا درست ہے ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
بہشتی گوہر(ص134) میں ہے:
مسئلہ:۔ پورے سر پر بال رکھنا نرمہ ٔ گوش تک یا کسی قدر اس سے نیچے سنت ہے اور اگر سرمنڈائے تو پورا منڈا دینا سنت ہے اور کتروانا درست ہے مگر سب کتروانا اور آگے کی جانب کسی قدر بڑے رکھنا جو کہ آج کل کا فیشن ہے جائز نہیں اور اسی طرح کچھ حصہ منڈوانا کچھ رہنے دینا درست نہیں ۔
احسن الفتاوی (8/82) میں ہے:
بالوں کی ناجائز صورتیں :قزع یعنی سر کے بعض حصہ کے بال منڈانا اور بعض کے چھوڑنا یا بعض زیادہ تراشنا اور بعض کم۔ حدیث میں ایسے بال رکھنے سے صراحۃ ممانعت آئی ہے ۔
ایسے بال رکھنا جو کفار و فساق کا شعار ہو یہ تشبہ بالکفار والفساق کی وجہ سے ممنوع ہوگا البتہ اس میں یہ تفصیل ہے کہ ہر زمانہ میں اس وقت کے کفار و فساق کے شعار کا اعتبار ہوگا …………… یہ صورت جس میں پورے سر کے بال برابر نہ ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور محدثین و فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ کی نصوص سے واضح طور پر ممنوع ہے خواہ یہ کسی کافر وفاسق قوم یا گروہ کا شعار ہو یا نہ ہو اگر فساق و فجار کا شعار بھی ہو تو اس کا گناہ اور بھی سخت ہوگا ۔
فتاوی رحیمیہ (10/115) میں ہے :
جواب: ………….کچھ حصہ منڈانا اور کچھ حصہ میں بال رکھنا ، یا چھوٹے بڑے اتار چڑھاؤ بال رکھنا جو آج کل فیشن ہے اور انگریزی بال سے موسوم ہے یہ خلاف سنت ہے ، نصاریٰ فساق اور فجار کی ہئیت کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے ۔ جو ممنوع ہے ۔حضرت عبداﷲ، بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضو ر اکرم ا نے قزع کو منع فرمایا ہے اور قزع یہ ہے کہ سر کے بعض حصے کے بال مونڈے جائیں اور بعض حصے کے چھوڑ دیئے جائیں ۔ عن ابن عمر رضى الله عنه قال نهى رسول اﷲ صلی اﷲ عليه وسلم عن القزع والقزع ان یحلق رأس الصبی لیترک بعض شعره (ابو داؤد ج۲ ص ۲۲۴ مشکوٰۃ شریف ص ۳۸ باب الترجل) بخاری میں قزع کی تفسیر اس طرح کی گئی ہے ’’آگے سے بال چھوڑ دینا اور سر کا پچھلا حصہ منڈدینا ‘‘ ولکن القزع أن یترک بناصية شعر و لیس فی راسه غیره (بخاری شریف ج۲ ص ۸۷۷ باب القزع ………… لہذا انگریزی اور فیشن ایبل بال رکھنا مکروہ ہے اس میں غیر قوموں کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے اور حدیث میں غیروں کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے مشہور حدیث ہے: من تشبه بقوم فهو منهم ۔ جو جس قوم سے مشابہت اختیار کرے گا وہ انہیں میں شمار ہوگا .۔
مسائل بہشتی زیور (2/450) میں ہے :
بال کتروانا بھی درست ہے لیکن کہیں سے چھوٹے اور کہیں سے بڑے رکھنا ناجائز ہے ۔
مسائل بہشتی زیور (2/452) میں ہے :
سر کا کچھ حصہ مونڈوانا یا کترنا اورکچھ چھوڑ دینا یہ غیر مسلموں کا طریقہ ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع جو اسی ہیئت کو کہتے ہیں اس سے منع فرمایا ہے۔
عمدۃ الفقہ (4/78) ميں ہے :
مکروہات ِ حج: …………….. حج یاعمرہ کے احرام سے باہر آنے کے لئے صرف چوتھائی سرمنڈانا یا قصر کرانا (کترانا) :کیونکہ مطلق طور پر ہر حالت میں پورے سر کے بال منڈانے یا قصر کرانے (کتروانے ) کا حکم ہے کم وبیش حصہ سر کو منڈانا یا قصر کرانا ہر حال میں ممنوع و مکروہ ہے اس کو عربی میں قزع کہتے ہیں جس کی حدیثوں میں مطلقاً ممانعت آئی ہے حتیٰ کہ چھوٹے بچوں کے سر کے بال اس طرح کٹانے سے اس کا ولی سرپرست گنہگار ہوگا پس تمام سر کے بال منڈانا یا کترانا ہمیشہ سنت ہے خواہ احرام میں ہو یا نہ ہو اور کچھ حصہ سر کے بال منڈانا یا کترانا بالعموم خلافِ سنت ہے خواہ احرام میں ہو یا نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved