• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

(1)کیا قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا تذکرہ ہے؟ (2) عیسائیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دنیا میں واپس تشریف لانے کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟

استفتاء

سوال یہ ہے کہ عیسائیوں کا حضرت عیسی ٰعلیہ السلام کے دنیا میں واپس تشریف لانے کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟  کیا وہ بھی اس کےمنتظر ہیں؟

وضاحت مطلوب ہےکہ سوال پوچھنے کی وجہ کیا ہے؟کوئی خاص اشکال ہے تو وہ واضح فرمادیں

جواب وضاحت:مفتی صاحب اشکال تو کوئی نہیں ہے بس کسی نے سوال کیا تھا کہ (۱)کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صرف اٹھائے جانے کاتذکرہ قرآن میں ہےیا نزول کابھی ہے؟(۲)اوریہ کہ عیسائی بھی مانتے ہیں کہ حضرت عیسی ٰعلیہ السلام واپس تشریف لائیں گے؟ (۳)انہوں نے یہ بھی پوچھا ہےکہ کیایہ کتاب’’نزول عیسی ابن مریم علیہماالسلام وخروج مسیح الدجال لعنۃ اللہ علیہ من الاحادیث والآثار الصحیحۃ‘‘ (تالیف:ابو عمیرالسلفی)پڑھ سکتےہیں؟ نیز کوئی کتاب بھی بتادیں جس میں حضرت عیسی علیہ السلام کےبارے میں تفصیلات ہوں اور احادیث وغیرہ بھی ہوں اس حوالے سے۔

نیز یہ سوال کسی نے مجھ سے پوچھا تھا اس لیے میں نے ان کے جواب کاانتظار کیا جس وجہ سے تاخیر ہوئی ،معذرت

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اورنزول دونوں کاتذکرہ قرآن میں موجود ہے،البتہ رفع کاذکرتو صراحتاً ہےاور نزول کاذکراشارتاً ہے ۔

چنانچہ سورہ نساء،آیت نمبر 156تا159میں ہے:

﴿ وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰکِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ ؕ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًا  ﴿۱۵۷﴾بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِؕوَ کَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًاحَکِیْمًا﴿۱۵۸﴾وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَکُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا ﴿۱۵۹﴾

اس آیت کاترجمہ اورتفسیر یہ ہے:

تفسیرعثمانی(ص:135)میں ہے:

ترجمہ :’’اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول (علیہ السلام) تھا اللہ کا، اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا، لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے، اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں، کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں، اور اس کو قتل نہیں کیا  بے شک،  بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا، اور جتنے فرقے ہیں اہلِ کتاب کے سو عیسیٰ (علیہ السلام) پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ‘‘۔

تفسیر:حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) زندہ موجود ہیں آسمان پر جب دجال پیدا ہوگا تب اس جہان میں تشریف لا کراسے قتل کریں گے اور یہود اور نصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے کہ بیشک عیسیٰ زندہ ہیں مرے نہ تھے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے حالات اور اعمال کو ظاہر کریں گے کہ یہود نے میری تکذیب اور مخالفت کی اور نصاریٰ نے مجھ کو خدا کا بیٹا کہا۔

معارف القرآن از مفتی شفیع صاحب ؒ (2/602)میں ہے:

اس آیت کی ایک تفسیر تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں گذری ہے کہ موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع کی جائے اور آیت کا مطلب اس صورت میں یہ ہے کہ یہ یہود اپنی موت سے چند لمحے پیشتر جب عالم برزخ کو دیکھیں گے تو عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لے آئیں گے اگرچہ اس وقت کا ایمان ان کے حق میں نافع نہیں ہو گا، جس طرح کہ فرعون کو اس کے اس ایمان نے فائدہ نہیں دیا تھا جو وہ غرق ہونے کے وقت لایا تھا۔دوسری تفسیر جس کو صحابہ تابعین کی بڑی جماعت نے اختیار کیا ہے اور حدیث صحیح سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ موتہ کی ضمیر حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ اہل کتاب اگرچہ اس وقت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لاتے، یہود تو انہیں نبی ہی تسلیم نہیں کرتے، بلکہ انہیں العیاذ باللہ مفتری اور کاذب قرار دیتے ہیں اور نصاری اگرچہ ان پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر بعض تو ان میں اپنی جہالت میں یہاں تک پہنچ گئے کہ یہود ہی کی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مقتول اور مصلوب ہونے کے قائل ہو گئے اور بعض اعتقاد کے غلو میں اس حد تک آگے نکل گئے کہ انہیں خدا اور خدا کا بیٹا سمجھ لیا قرآن کریم کی اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ یہ لوگ اگرچہ اس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر صحیح ایمان نہیں رکھتے ، لیکن جب وہ قیامت کے قریب اس زمین پر پھر نازل ہوں گے تو یہ سب اہل کتاب ان پر صحیح ایمان لے آئیں گے، نصاری تو سب کے سب صحیح اعتقاد کے ساتھ مسلمان ہو جائیں گے، یہود میں جو مخالفت کریں گے قتل کر دیئے جائیں گے، باقی مسلمان ہو جائیں گے، اس قت کفر اپنی تمام قسموں کے ساتھ دنیا سے فنا کردیا جائے گا اور اس زمین پر صرف اسلام ہی کی حکمرانی ہو گی۔حضرت ابوہریرہ (رض) سے ایک روایت منقول ہے : ”آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم ایک عادل حکمران بن کر ضرور نازل ہوں گے، وہ دجال اور خنزیز کو قتل کر دیں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور اس وقت عبادت صرف پروردگار عالم کی ہو گی۔اس کے بعد حضرت ابوہریرہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو قرآن کریم کی یہ آیت بھی پڑھ لو جس میں اسی حقیت کا ذکر کیا گیا ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا، مگر یہ کہ وہ ان پر ان کی موت سے پہلے ایمان لے آئے گا آپ ؓنے فرمایا “عیسیٰ (علیہ السلام)کی موت سے پہلے” اور تین بار ان الفاظ کو دہرایا۔“آیت مذکورہ کی یہ تفسیر ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابوہریرہ سے بروایت صحیحہ ثابت ہے جس میں قبل موتہ سے مراد قبل موت عیسیٰ (علیہ السلام) قرار دیا ہے جس نے آیت کا مفہوم واضح طور پر متعین کردیا کہ یہ آیت قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے کے متعلق ہے۔اس تفسیر کی بناء پر یہ آیت ناطق ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات ابھی نہیں ہوئی، بلکہ قیامت کے قریب جب وہ آسمان سے نازل ہوں گے اور ان کے نزول سے اللہ جل شانہ کی جو حکمتیں وابستہ ہیں وہ حکمتیں پوری ہو جائیں گی، تب اس زمین پر ہی ان کی وفات ہو گی۔اس کی تائید سورۃ زخرف کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے : وانه لعلم للساعة فلاتمترن بها واتبعون’ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی ایک نشانی ہیں، پس تم قیامت کے آنے میں شک مت کرو اور میرا کہا مانو“ مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے یہاں پر لکھا ہے کہ انہ، کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے، اور معنی یہ ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی ایک علامت ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے نزول کی خبر دی گئی ہے کہ وہ قیامت کے قریب نازل ہوں گے اور ان کا آنا قیامت کی علامات میں سے ہو گا۔اس آیت میں ایک دوسری قراءت علم بھی منقول ہے اس سے یہ معنی زیادہ واضح ہو جاتے ہیں کیونکہ علم بفتح اللام کے معنی علامت کے ہیں، حضرت عبداللہ ابن عباس کی تفسیر بھی اسی کی موید ہے : عن ابن عباس رضی الله عنه فی قوله تعالیٰ وانه لعلم للساعة قال خروج عیسیٰ(علیه السلام)قبل یوم القیمة .. حضرت ابن عباس ؓسے وانه لعلم للساعة کے بارے میں منقول ہے کہ اس سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں جو قیامت سے پہلے تشریف لائیں گے۔ (ابن کثیر)

خلاصہ یہ ہے کہ آیت مذکورہ’’ قبل موتہ ‘‘کے ساتھ جب حضرت ابوہریرہ کی حدیث صحيح کےساتھ تفسیر کو شامل کیا جائے تو اس سے واضح طور پر حضرت عیسی علیہ السلام کازندہ ہونا اور پھر قرب قیامت میں نازل ہوکر یہود پر مکمل غلبہ پانا ثابت ہوجاتا ہے،اسی طرح آیت وانه لعلم للساعةسے حسب تفسیر ابن عباس ؓ یہ مضمون یقینی ہوجاتا ہے۔

معارف القرآن از مولانا ادریس کاندھلوی صاحبؒ(2/385)میں ہے:

وان من اهل الکتاب الالیؤمنن به قبل موته…

 اس آیت کی تفسیر میں ہم دو قول نقل کرچکے ہیں جمہور کے نزدیک جو قول راجح ہے اس بناء پر اس آیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کی خبر دی گئی ہے۔

2۔حضرت عیسی ٰعلیہ السلام کا نزول مسیحی دنیا کے عقائد میں شامل ہے جس کے مطابق وہ حضرت عیسی ٰعلیہ السلام کے منتظر ہیں،چنانچہ کتاب مقدس یعنی پرانا اورنیاعہدنامہ ،تهسلنیکیوں کےنام پولس رسول کادوسرا خط، بعنوان ’’میسح کی آمد ثانی پر عدالت ‘‘(241) میں ہے:

(۵)یہ خدا کی سچی عدالت کا صاف نشان ہے تاکہ تم خداکی بادشاہی کے لائق ٹھہرو جس کےلیے تم دکھ بھی اٹھاتے ہو ، کیونکہ خدا کےنزدیک یہ انصاف ہے کہ بدلہ میں تم پر مصیبت لانے والوں کو مصیبت اورتم مصیبت اٹھانے والوں کو ہمارے ساتھ آرام دے جب خداوندیسوع اپنے قوی فرشتوں کےساتھ بھڑکتی ہوئی آگ میں آسمان سے ظاہر ہوگا اورجو خدا کونہیں پہچانتے اور ہمارےخداوند یسوع کی خوشخبری کو نہیں مانتے ان سے بدلہ لےگا۔

دوسری جگہ ’’مکاشفہ‘‘ص:305بعنوان’’ یسوع میسح کی آمد ثانی‘‘:

(۷)اوردیکھ میں جلد آنے والا ہوں مبارک ہے وہ جو اس کتاب کی نبوت کی باتوں پر عمل کرتا ہے۔

3۔مذکورہ کتاب ہمارے پاس موجود نہیں ہے لہذا اس کے متعلق کچھ رائے نہیں دے سکتے ۔نیز اس موضوع کے متعلق بہتر ہے کہ آپ ختم نبوت والوں سے رابطہ کریں تاکہ آپ کی مکمل راہنمائی کرسکیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved