- فتوی نمبر: 32-316
- تاریخ: 06 جون 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > قرآن کریم
استفتاء
مفتیان حضرات سے توجہ درکار ہے کہ کچھ عرصہ سے ہمارے حلقے میں یہ بات چلنے لگی ہے کہ قرآن پاک سمجھ کر نہ پڑھنا گناہ کبیرہ ہے۔
پہلے یہ بات مولانا سجاد نعمانی صاحب نے کی تھی اور اس کے بعد یہی بات معروف تبلیغی نعیم بٹ صاحب نے اپنے ایک بیان میں کی ہے۔ کیا واقعۃً قرآن پاک سمجھ کر نہ پڑھنا گناہ کبیرہ ہے ؟ اس سلسلہ میں درخواست ہے کہ باقاعدہ طور پر حوالہ جات کے ساتھ جواب مرحمت ہو۔
نوٹ از دارالافتاء: مولانا سجاد نعمانی صاحب کے آڈیو بیان کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:
“قرآن کا حق صرف تلاوت سے ادا نہ ہوگا ۔ قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں آیا ہے جو شخص قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا جب وہ تلاوت کرتا ہے تو قرآن اس پر لعنت بھیجتا رہتا ہے”
نعیم بٹ صاحب کے بیان کی آڈیو دستیاب نہ ہوسکی۔ متعدد ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ایک بیان میں سوال میں ذکر کردہ بات کہی ہے تاہم اب انہوں نے یوٹیوب سے اپنا یہ آڈیو بیان ہٹالیا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ بات کہنا کہ بغیر سمجھے قرآن پڑھنا گناہ ہے بالکل غلط ہے۔ اولاً تو اس بات کی کوئی دلیل موجود نہیں جبکہ گناہ وثواب ایک حکم شرعی ہے جس کے لیے دلیل شرعی کی ضرورت ہے۔ ثانیاً احادیث میں بلاسمجھے قرآن پڑھنے پر بھی ثواب اور اجر کا وعدہ ہے اور نبوت کے مقاصد میں سے ایک مقصد معانی کو سمجھے بغیر صرف الفاظ کی تلاوت بھی ہے۔ذیل میں چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں:
الجامع للترمذی (رقم الحدیث: 2921) میں ہے:
عن عبد الله بن مسعود، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قرأ حرفا من كتاب الله فله به حسنة، والحسنة بعشر أمثالها، لا أقول الم حرف، ولكن ألف حرف ولام حرف وميم حرف»
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص قرآن کریم کا ایک حرف پڑھے اس کے لیے ایک حرف کے بدلہ ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر دس نیکی کے برابر ملتا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے یہ تین حروف ہوئے اس پر تیس نیکیاں ملیں گی۔
مذکورہ حدیث میں مثال ہی ایسے حروف کی دی ہے جس کا معنیٰ ہی معلوم نہیں۔
الجامع للترمذی (رقم الحدیث: 2889) میں ہے:
عن أبي مسعود الأنصاري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قرأ الآيتين من آخر سورة البقرة في ليلة كفتاه»
ترجمہ: حضرت ابو مسعود انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص سورۃ بقرہ کی دو آیتیں کسی رات میں پڑھ لے تو یہ دونوں آیتیں اس کے لیے کافی ہوجائیں گی۔
الجامع للترمذی (3/1118)میں ہے:
عن ابن عباس، قال: ضرب بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم خباءه على قبر وهو لا يحسب أنه قبر، فإذا فيه إنسان يقرأ سورة تبارك الذي بيده الملك حتى ختمها، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله إني ضربت خبائي على قبر وأنا لا أحسب أنه قبر، فإذا فيه إنسان يقرأ سورة تبارك الملك حتى ختمها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «هي المانعة، هي المنجية، تنجيه من عذاب القبر
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے ایک قبر پر خیمہ لگا دیا، ان کو علم نہ تھا کہ وہاں قبر ہے۔ اچانک اس جگہ کسی کو سورہ تَبَارَكَ الَّذِي آخر تک پڑھتے ہوئے سنا تو نبی کریم ﷺسے آکر عرض کیا کہ میں نے ایک جگہ خیمہ لگایا تھا مجھے معلوم نہ تھا کہ وہاں قبر ہے۔ اچانک میں نے اس قبر میں کسی کو سورہ تَبَارَكَ الَّذِي آخر تک پڑھتے ہوئے سنا۔ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: یہ سورت اللہ تعالیٰ کے عذاب سے روکنے والی ہے اور قبر کے عذاب سےنجات دلانے والی ہے۔
المستدرک علی الصحیحین (3/50) میں ہے:
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” من قرأ سورة الكهف كما أنزلت، كانت له نورا يوم القيامة من مقامه إلى مكة، ومن قرأ عشر آيات من آخرها ثم خرج الدجال لم يسلط عليه
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے سورت کہف کو (حروف کی صحیح ادائیگی کے ساتھ) اس طرح پڑھا جس طرح کہ وہ نازل کی گئی ہے تو یہ سورت اپنے پڑھنے والے کے لیے قیامت کے دن اس کے رہنے کی جگہ سے لیکر مکہ مکرمہ تک نور بن جائے گی جس شخص نے اس سورت کی آخری دس آیت کی تلاوت کی پھر دجال نکل آیا تو دجال اس پر قابو نہ پاسکے گا۔
التفسیر الکبیر (2/58) میں ہے:
قوله: يتلوا عليهم آياتك وفيه وجهان. الأول: أنها الفرقان الذي أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم لأن الذي كان يتلوه عليهم ليس إلا ذلك، فوجب حمله عليه
قوله: ويعلمهم الكتاب والمراد أنه يأمرهم بتلاوة الكتاب ويعلمهم معاني الكتاب وحقائقه، وذلك لأن التلاوة مطلوبة لوجوه: منها بقاء لفظها على ألسنة أهل التواتر فيبقى مصونا عن التحريف والتصحيف، ومنها أن يكون لفظه ونظمه معجزا لمحمد صلى الله عليه وسلم، ومنها أن يكون في تلاوته نوع عبادة وطاعة، ومنها أن تكون قراءته في الصلوات وسائر العبادات نوع عبادة، فهذا حكم التلاوة إلا أن الحكمة العظمى والمقصود الأشرف تعليم ما فيه من الدلائل والأحكام
التفسیر الطبری (1/435) میں ہے:
قوله: يتلو عليهم آياتك أى يقرأ عليهم كتابك الذى توحيه اليه
معارف القرآن (1/331) میں ہے:
رسول اللہﷺ کی بعثت کے تین مقاصد تھے:
1۔تلاوت آیات 2۔تعلیم آیات 3۔تزکیہ نفس
یہاں پہلی بات قابل غور ہے کہ تلاوت کا تعلق الفاظ سے ہے اور تعلیم کا معانی سے یہاں تلاوت وتعلیم کو الگ الگ بیان کرنے سے یہ حاصل ہوا کہ قرآن کریم میں جس طرح معانی مقصود ہیں اس کے الفاظ بھی مستقل مقصود ہیں ان کی تلاوت وحفاظت فرض اور اہم عبادت ہے یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلا واسطہ شاگرد اور مخاطب خاص وہ حضرات تھے جو عربی زبان کے نہ صرف جاننے والے بلکہ اس کے فصیح وبلیغ خطیب اور شاعر بھی تھے ان کے سامنے قرآن عربی کا پڑھ دینا بھی بظاہر ان کی تعلیم کیلئے کافی تھا ان کو الگ سے ترجمہ وتفسیر کی ضرورت نہ تھی تو پھر تلاوت آیات کو ایک علیحدہ مقصد اور تعلیم کتاب کو جداگانہ دوسرا مقصد رسالت قرار دینے کی کیا ضرورت تھی جبکہ عمل کے اعتبار سے یہ دونوں مقصد ایک ہی ہوجاتے ہیں اس میں غور کیا جائے تو دو اہم نتیجے آپ کے سامنے آئیں گے اول یہ کہ قرآن کریم دوسری کتابوں کی طرح ایک کتاب نہیں جس میں صرف معانی مقصود ہوتے ہیں الفاظ ایک ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ان میں اگر معمولی تغیر وتبدل بھی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں سمجھا جاتا ان کے الفاظ بغیر معنے سمجھے ہوئے پڑہتے رہنا بالکل لغو وفضول ہے بلکہ قرآن کریم کے جس طرح معانی مقصود ہیں اسی طرح الفاظ بھی مقصود ہیں اور الفاظ قرآن کے ساتھ خاص خاص احکام شرعیہ بھی متعلق ہیں یہی وجہ ہے کہ اصول فقہ میں قرآن کریم کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ ھو النظم والمعنی جمیعا یعنی قرآن نام ہے الفاظ اور معنیٰ دونوں کا جس سے معلوم ہوا کہ اگر معانی قرآن کو الفاظ قرآن کے علاوہ دوسرے الفاظ یا دوسری زبان میں لکھا جائے تو وہ قرآن کہلانے کا مستحق نہیں اگرچہ مضامین بالکل صحیح درست ہی ہوں ان مضامین قرآنیہ کو بدلے ہوئے الفاظ میں اگر کوئی شخص نماز میں پڑھ لے تو نماز ادا نہ ہوگی اسی طرح وہ تمام احکام جو قرآن سے متعلق ہیں اس پر عائد نہیں ہوں گے، قرآن کریم کی تلاوت کا جو ثواب احادیث صحیحہ میں وارد ہے وہ بدلی ہوئی زبان یا بدلے ہوئے الفاظ پر مرتب نہیں ہوگا اور اسی لئے فقہائے امت نے قرآن کریم کا صرف ترجمہ بلا متن قرآن کے لکھنے اور چھاپنے کو ممنوع فرمایا ہے جس کو عرف میں اردو کا قرآن یا انگریزی کا قرآن کہہ دیا جاتا ہے کیونکہ درحقیقت جو قرآن اردو یا انگریزی میں نقل کیا گیا وہ قرآن کہلانے کا مستحق نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں رسول اللہﷺ کے فرائض منصبی میں تعلیم کتاب سے علیحٰدہ تلاوت آیات کو جداگانہ فرض قرار دے کر اس کی طرف اشارہ کردیا کہ قرآن کریم میں جس طرح اس کے معانی مقصود ہیں اسی طرح اس کے الفاظ بھی مقصود ہیں کیونکہ تلاوت الفاظ کی ہوتی ہے معانی کی نہیں اسی لئے جس طرح رسول کے فرائض میں معانی کی تعلیم داخل ہے اسی طرح الفاظ کی تلاوت اور حفاظت بھی ایک مستقل فرض ہے اس میں شبہ نہیں کہ قرآن کریم کے نزول کا اصل مقصد اس کے بتائے ہوئے نظام زندگی پر عمل کرنا اور اس کی تعلیمات کو سمجھنا اور سمجھانا ہے محض اس کے الفاظ رٹ لینے پر قناعت کرکے بیٹھ جانا قرآن کریم کی حقیقت سے بےخبری اور اس کی بےقدری ہے۔
قرآن کریم کے الفاظ اگر بے سمجھی سے بھی پڑھے جائیں تو بیکار نہیں بلکہ موجب ثواب عظیم ہیں
لیکن اس کے ساتھ یہ کہنا کسی طرح صحیح نہیں کہ جب تک قرآن کریم کے الفاظ کے معانی نہ سمجھے طوطے کی طرح اس کے الفاظ پڑھنا فضول ہے یہ اس لئے واضح کر رہا ہوں کہ آج کل بہت سے حضرات قرآن کریم کو دوسری کتابوں پر قیاس کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک کسی کتاب کے معنی نہ سمجھیں تو اس کے الفاظ کا پڑھنا پڑھانا وقت ضائع کرنا ہے مگر قرآن کریم میں ان کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآن الفاظ اور معنی دونوں کا نام ہے جس طرح ان کے معانی کا سمجھنا اور اس کے دیئے ہوئے احکام پر عمل کرنا فرض اور اعلیٰ عبادت ہے اسی طرح اس کے الفاظ کی تلاوت بھی ایک مستقل عبادت اور ثواب عظیم ہے،
کفایت المفتی (2/409) میں ہے:
(سوال ) زید کہتا ہے کہ بغیر معنی سمجھے اور مطلب سمجھے ہوئے قرآن پاک کی تلاوت کرنا بے سود اور بے ثواب ہے آیا زید کا یہ قول درست ہے ؟
(جواب ۷۲۵) قرآن مجید کی نظم یعنی عبارت کی حفاظت بھی ایک مقصود اور مہتم بالشان امر ہے حضرت حق تعالیٰ نے آیۃ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون(۳) میں قرآن مجید کے اپنی طرف سے نازل فرمانے کو ذکر کرنے کے ساتھ اس کی حفاطت کا بھی خود ہی ذمہ لیا ہے اور عالم اسباب میں حفاظت کا ذریعہ یہ قرار دیا کہ مسلمان اپنے سینوں میں اس کی حفاظت کریں اور ظاہر ہے کہ اس حفاظت کے لئے اس کی عبارت اور نظم کو پڑھنا اور یاد کرنا لازمی تھا اس لئے شریعت مقدسہ نے نفس عبارت کی تلاوت کو بھی موجب اجر و ثواب قرار دیا ہے حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص نظم قرآنی میں سے ایک حرف کی تلاوت کرے وہ دس نیکیوں کے اجر کا مستحق ہوتا ہے اور پھر یہ نہیں کہ الٓمٓ ایک حرف قرار دیا جائے بلکہ اس کے تین حرف الف لام میم جدا جدا معتبر ہوں گے اور تیس نیکیاں ملیں گی۔
کتب سماویہ میں تبدیل و تحریف سے محفوظ رہنے میں کوئی کتاب قرآن مجید کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی اور اس خاص تفوق کی اصل وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں نے نظم قرآنی کی تلاوت اور حفظ کے ساتھ والہانہ شغف رکھا اور یقینا ان کا یہ فعل موجب اجر و ثواب ہے کہ اس سے قرآن پاک کا تحفظ مربوط ہے۔
ہا ں یہ ضرور ہے کہ نزول قرآن کا اصل مقصد اس کی ہدایات پر عمل کرنا ہے یہ بات اس کو مستلزم نہیں کہ عبارت و تلاوت موجب اجر نہ ہو بلکہ تلاوت خود ایک ثواب کا عمل ہے اور عمل کرنا دوسرا عمل ہے اور موجب اجر ہے اور عمل نہ ہو تو معنیٰ ومطلب شمجھ کر پڑھنے اور بے سمجھے پڑھنے میں کوئی بڑا فرق نہیں۔
کفایت المفتی (2/27) میں ہے:
(سوال) (۱) قرآن شریف بے سمجھے پڑھنے سے کیا قرآن شریف کی بے عزتی ہوتی ہے اگر نہیں تو کیا بے سمجھے پڑھنا داخل ثواب ہے؟
(۲) قرآن شریف سمجھ کر پڑھنا کیا مسلمانوں پر فرض ہے؟
(۳) جو شخص مطلقاً قرآن شریف نہ پڑھا ہو تو کیا وہ گناہ گار ہے؟
جواب: قرآن شریف کی عبارت کی تلاوت خواہ سمجھ کر ہو یا بے معنی سمجھے ہو موجب اجر و ثواب ہے ہاں سمجھ کر پڑھنے والے کو ثواب زیادہ ہوگا اور بے سمجھے ہوئے پڑھنے والے کو کم – لیکن ثواب دونوں کو ملے گا یہ خیال کہ بے سمجھے ہوئے پڑھنے سے قرآن کی بے عزتی ہوتی ہے غلط ہے بلکہ اس میں تو اس بات کا ثبوت ہے کہ پڑھنے والے کے دل میں قرآن مجید کی اتنی عزت ہے کہ باوجود معنی نہ سمجھنے اور معنی سے لطف اندوز نہ ہونے کے بھی وہ اس کی تلاوت میں اپنا وقت اور قوت خرچ کرتا ہے حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو قرآن مجید کا ایک حرف پڑھے اسے دس نیکیاں ملتی ہیں، اور مثال میں فرمایا کہ الٓمٓ ایک حرف نہیں بلکہ تین حرف ہیں – الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف ہے، میم ایک حرف ہے تو اس کلمہ الٓمٓ کے پڑھنے والے کو تیس نیکیاں ملیں گی باوجود یکہ اس کلمہ یعنی حروف مقطعات کے معنی کو کوئی نہیں سمجھتا ہے کیونکہ اس کے معنی خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے یہ حضرت حق اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے درمیان راز ہے۔
(۲) سمجھ کر قرآن شریف پڑھنا اور اس کے حلال و حرام امر و نہی کا علم حاصل کرنا مسلمانوں پر فرض کفایہ ہے یعنی کچھ لوگ ایسے ضرور ہونے چاہئیں جو قرآن پاک کے معانی اور مطالب سمجھتے ہوں اور وہ لوگوں کو بتاتے رہیں ہر ایک مسلمان کے ذمے یہ فرض نہیں ہے۔ ہاں ہر مسلمان کے ذمے قرآن مجید کی اتنی عبارت یاد کرنی فرض ہے جس سے نماز پوری ہوسکے۔
(۳) اگر نماز درست ہونے کے لائق بھی قرآن مجید اس نے نہیں پڑھا اور یا دنہیں کیا تو گناہ گار ہوگا (۴)بشرطیکہ پڑھنے اور یاد کرنے کا وقت پایا ہو اور قدرت رکھتا ہو، یعنی نو مسلم اس وقت تک معذور ہے کہ اسے پڑھنے اور یاد کرنے کے لائق وقت ملے اور گونگا عمر بھر کے لئے معذور ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved