- فتوی نمبر: 7-65
- تاریخ: 25 ستمبر 2014
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
“دُکان” کا نام کیسے لکھنا درست ہے “دو کان” یا “دُکان”؟ کیونکہ حضرت ابا جی رحمہ اللہ نے ایک بار بتایا تھا کہ “دکان” کو اس لیے “دُکان” کہتے ہیں کہ آدمی دونوں کانوں سے گاہک کی بات سنتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس کا ٹھیک تلفظ دکان (بلا تشدید) ہے، جیسا کہ فیروز اللغاب میں ہے:
دکّان: (دک۔ کان) ہٹی، ہاٹ، سودا بیچنے کی جگہ، بکری کی جگہ، اردو اور فارسی میں بلا تشدید مستعمل ہے۔
© Copyright 2024, All Rights Reserved