- فتوی نمبر: 32-118
- تاریخ: 20 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
1۔ميں نے اپنی بہن کی بیٹی لے رکھی ہے اب میں اس کے “ب “فارم کے ولدیت کے خانے میں اپنا نام لکھواسکتا ہوں؟
2۔وہ مجھے ابو کہہ سکتی ہے یا نہیں؟ جبکہ حقیقی رشتہ ماموں کا ہے اور میری بیوی کو وہ امی کہہ سکتی ہے یا نہیں؟
3۔اس کا جو حقیقی باپ ہے اس کو وہ ابو کہہ کر بلائے گی یا چاچو، ماموں کہہ سکتی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں اس بچی کے ” ب “فارم کے ولدیت کے خانے میں آپ کے لیے اپنا نام لکھوانا جائز نہیں۔ اس میں حقیقی والد ہی کا نام لکھنا یا لکھوانا ضروری ہے۔ آپ اپنا نام سرپرست کے طور پر لکھوانا چاہیں تو لکھواسکتے ہیں۔
2۔ اس بچی کا آپ سے جو حقیقی رشتہ ہے (ماموں کا) بہتر تو یہی ہے کہ وہ آپ کو اسی نام سے پکارے لیکن یہ بھی جائز ہے کہ وہ محبت یا ادب میں آپ کو اور آپ کی بیوی کو ابو ، امی کہہ کر پکارلے۔
3۔حقیقی والد کو چاچو، ماموں کہنا درست نہیں ہے اس لیے حقیقی والد کو وہ بچی ابو ہی کہے گی۔
احکام القرآن للتہھانوی (3/291) میں ہے:
وما جعل أزواجكم اللائي تظاهرون منهن أمهاتكم وما جعل أدعياءكم أبناءكم الى قوله ولكن ما تعمدت قلوبكم وكان الله غفورا رحيما
المتبنى لا يلحق بالأبناء فى الأحكام
الثانى: إن الدعى والمتبنى لا يلحق في الأحكام بالابن فلا يستحق الميراث ولا يرث عنه المدعى، ولا يحرم حليلته بعد الطلاق والعدة على ذلك المدعى ، ولا عكسه.
إطلاق الأب والابن بطريق الادعاء لا يجوز ، وعلى سبيل الشفقة یجوز ولا يستحسن
الثالث : إن إطلاق الأبوة والبنوة لا يجوز إلا في النسب، بخلاف الأخوة : فإن إطلاقها كما يجوز فى النسب يجوز في غيره من الأسباب والعلائق الدينية والدنيوية، ولذلك لا يجوز أن يقول الرجل لولد غيره: ابني، وكذا أن يقول الرجل لغير أبيه: أبى ؛ فقد نهى الله سبحانه وتعالى عن دعاء غير أبيه ابنه بالبنوة في هذه الآية ( ادعوهم لآبائهم) وروى الأئمة البخاري ومسلم والترمذى ( إن ابن عمر رضى الله عنهما قال: ما كنا ندعو زيد بن حارثة إلا زيد بن محمد حتى نزلت و ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله)………….
وهذا كله إذا كان دعائه بالبنوة أو الأبوة على طريق ادعاء الجاهلية ومعتقداتهم، وأما إذا كان لمحض التحنن وإظهار الشفقة فلابأس به، والاجتناب عنه أفضل لمكان صورة النهى . وذلك لما قال الآلوسي في روح المعاني : وظاهر الآية حرمة تعمد دعوة الإنسان لغير أبيه، ولعل ذلك فيما إذا كانت الدعوة على الوجه الذي كان في الجاهلية ، وأما إذا لم تكن كذلك كما إذا يقول الكبير للصغير على سبيل التحنن والشفقة : يا ابني وكثيراً ما يقع ذلك فالظاهر عدم الحرمة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved