• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

مال مؤکل کے قبضہ میں دینے کے بعد ان سے وکیل کا خریدنا

استفتاء

محترم جناب مفتی صاحب!  گذارش ہے کہ ہمارا کاروبار متعدد چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ہے، جن کا مکمل حساب کتاب رکھنا بہت مشکل ہے۔ کاروبار کی نوعیت ایسی ہے کہ ہمارے پاس لکھت پڑھت کا نہ کوئی نظام ہے اور بوجوہ رکھا بھی نہیں جا سکتا۔ ہمارے بہت سے عزیز و اقارب یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے پاس جز وقتی یا طویل المدتی سرمایہ کاری کریں۔

چونکہ ہم حساب کتاب نہیں رکھ سکتے اس لیے م نے یہ سوچا ہے کہ جب خریداری کے لیے چائنہ جائیں تو اس وقت اپنے سرمایہ کے ساتھ ان کے پیسے بھی لے جائیں اور اپنے سامان کے ساتھ ان کے لیے بھی وکیل بن کر خریداری کریں۔

مال لاہور پہنچ جانے پر تمام اخراجات نکال کر ہر ایک کے حصہ کا بننے والا مال علیحدہ علیحدہ کریں۔ اور ہر ایک کو بلا کر اس کا مال اس کے حوالہ کر دیں۔ پھر وہیں پر اس سے ریٹ اور مدت طے کر کے خود خرید لیں۔ تاکہ ہمیں سہولت رہے کہ ہم صرف مقررہ وقت پر پیسوں کی ادائیگی کے پابند ہوں گے۔ باقی حساب کتاب کی ضرورت نہ رہے گی۔

واضح رہے کہ ہمارے پاس سرمایہ کاری کے خواہاں عزیز و اقارب دونوں طرح کے ہوتے ہیں۔ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں مارکیٹ اور اس کی جگہوں کا اندازہوتا ہے، اگر وہ چاہیں تو مال اٹھا کر کہیں اور لے جا کر بھی بآسانی فروخت کر سکتے ہیں۔ اور بعض عورتیں اور بوڑھے ہیں کہ کہیں اور نہیں لے جا سکتے۔

ہمارا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ہم ہر ایک کو مال لانے کی تفصیل اور راستے کے خطرات و دشواریاں اور اپنا متوقع پرافٹ فیصد کے حساب سے پہلے بتا دیتے ہیں۔ لیکن ان سے ان کا مال لاہور پہنچ جانے کے بعد ان کے حوالہ کر کے خریدتے ہیں۔ اس سے پہلے نہیں خریدتے۔

نوٹ: مذکورہ بالا سرمایہ کاری کا طریقہ لوکل خریداری میں بھی چلاتے ہیں کہ کراچی سے مال منگوانا ہے، یا پھر شاہ عالم مارکیٹ سے کوئی چیز خریدنی ہے وغیرہ وغیرہ۔

پوچھنا یہ ہے کہ ہمارے ذکر کردہ طریقہ میں کوئی شرعی خرابی ہے یا نہیں؟ اگر مذکورہ طریقہ میں کوئی  خرابی ہے تو جواز کی ممکنہ تمام صورتیں تحریر فرمائی جائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت جائز ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط  واللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved