- فتوی نمبر: 32-06
- تاریخ: 22 مارچ 2025
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > زکوۃ ادا کرنے کا بیان
استفتاء
ایک دینی ادارہ جو مدرسہ کے نام سے وقف ہے اس میں تقریباً 200 طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں جن سے فیس نہیں لی جاتی اور 3 اساتذہ ہیں اور مدرسہ کے اخراجات میں بجلی کا بل، مدرسہ الحاق کا خرچ ، آئے گئے مہمان کا خرچ ، مدرسہ کے سالانہ دستار بندی برائے حفاظ کے جلسہ کا خرچ، کبھی کبھی عمارت کا کوئی خرچ ، مدرسین کی تنخواہوں کا خرچ شامل ہے۔ کیا اس مدرسے میں عشر، زکوٰۃ، فطرانہ یعنی صدقات واجبہ وغیرہ لگ سکتے ہیں ؟ اگر لگ سکتے ہیں تو اس کا طریقہ کیا ہے؟ اس سے پہلے عشر،ز کوٰۃ وغیرہ لیکر تملیک نہیں کروائی جاتی تھی۔
یاد رہے اس مدرسے میں شعبہ ناظرہ، شعبہ حفظ، شعبہ کتب، دراسات تک بنین وبنات کی مکمل کلاسز ہیں اور یہ تمام طلباء مقامی ہیں، کلاسز کے اوقات صبح 10 بجے تک، ظہر سے عصر تک اور مغرب سے عشاء تک۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ مدرسے میں عشر، زکوٰۃ، فطرانہ اور دیگر صدقات واجبہ لگ سکتے ہیں۔
تاہم ان صدقات واجبہ کو تعمیر میں یا اساتذہ کی تنخواہوں میں یا بجلی کے بل کی ادائیگی وغیرہ میں براہ راست خرچ کرنا جائز نہیں بلکہ مستحق زکوٰۃ طلباء کو مالکانہ بنیاد پر دینا ضروری ہے تاہم اگر کسی مجبوری کی وجہ سے تعمیر یا اساتذہ کی تنخواہوں وغیرہ میں خرچ کرنے کی ضرورت پڑے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ مذکورہ صدقات واجبہ کسی عاقل بالغ مستحق زکوٰۃ طالبعلم یا استاد کو مالکانہ طور پر دیدئے جائیں اور پھر وہ طالبعلم یا استاد بغیر کسی جبر یا دباؤ کے اپنی خوشی سے وہ رقم وغیرہ مدرسے کو عطیہ کردے اس کے بعد وہ رقم وغیرہ مدرسے کی کسی بھی ضرروت میں استعمال کی جاسکتی ہے۔
شامی (2/344) میں ہے:
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)
وفى الشامية: (قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه زيلعي (قوله: ولا إلى كفن ميت) لعدم صحة التمليك منه
المحیط البرہانی (2/282) میں ہے:
ولا يصرف فى بناء مسجد وقنطرة ………… والحيلة لمن أراد ذلك أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه، فيكون لصاحب المال ثواب الصدقة، ولذلك الفقير ثواب هذه القُرَب
النہایہ فی شرح الہدایہ (5/82) میں ہے:
والحيلة فى بناء المسجد بمال الزكاة او اعتاق لعبد وغيره لمن اراد ذلك ان يتصدق مقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف الى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب هذه القرب
مجمع الانہر (1/222) میں ہے:
(ولا تدفع) الزكاة (لبناء مسجد) ؛ لأن التمليك شرط فيها ولم يوجد وكذا بناء القناطير وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا يتملك فيه، وإن أريد الصرف إلى هذه الوجوه صرف إلى فقير ثم يأمر بالصرف إليها فيثاب المزكي والفقير
البحر الرائق (2/261) میں ہے:
(قوله وبناء مسجد وتكفين ميت وقضاء دينه وشراء قن يعتق) وعدم الجواز لانعدام التمليك الذي هو الركن في الأربعة والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved