• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

معین مدت کے لیے پہاڑ ٹھیکے پر لینا

استفتاء

مسئلہ یہ دریافت کرنا ہے  کہ ایک شخص کی  ملکیت میں ایک پہاڑ ہے اور ایک دوسرا شخص ماربل پتھروں کا ٹھیکے دار ہے یعنی پتھروں کے  بیچنے کا کاروبار کرنا چاہتا ہے اس طور پر کہ ٹھیکے دار اس شخص کے پہاڑ کا معائنہ کر کے وہ پہاڑ دس سال کی  مدت کے لیے 25 لاکھ روپے میں  ٹھیکے پر لے  لے  اور ٹھیکہ دار وہاں آکر پتھر نکالنے کا کام شروع کر دے  اور اس کے بعد ٹھیکے دار پہاڑ کے مالک کو الگ سے 25لاکھ روپیہ کے علاوہ  5000 روپیہ فی گاڑی کے نکلنے کا بھی دیتا ہو اور یہ مندرجہ بالا تحریرات وہ دونوں اپنے درمیان طے کر کے لکھ بھی دیں۔ آیا اس طرح کاروبار شریعت کے رو سے  جائز ہے یا نہیں ؟ اور اسی طرح زمین کے مالک کافی گاڑی 5000 روپے ٹھیکہ دار سے لینا جائز ہے یا نہیں؟ آیا یہ رشوت کے زمرے میں تو نہیں آتا ؟

تنقیح از مجیب: مختلف جگہ سے معلومات لینے سے معلوم ہوا کہ اس صورت کا آجکل عرف بھی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت جائز ہے اور 5 ہزار رشوت کے زمرے میں نہیں آتے ۔

توجیہ : مذکورہ صورت اپنی اصل کے اعتبار سے تو جائز نہیں ہے کیونکہ یہاں  مبیع پتھر ہے جو غائب بھی ہے اوراس  کی مقدار بھی مجہول ہے  چونکہ اس صورت کا آج کل عرف و رواج ہو گیا ہے اس لیے یہ جہالت مفضی الی النزاع نہیں  جیسا کہ آجکل بوفے سسٹم میں ہوتا ہے کہ وقت طے ہوتا ہے کہ اس دوران جتنا بھی کھانا کھا لو اس کی ایک فکس قیمت  ہوتی ہے  اس میں اگرچہ جہالت ہے لیکن عرف کی وجہ سے یہ جہالت مفضی الی النزاع نہیں  اور قیمت بھی دو حصوں میں  طے ہے کہ یکمشت 25 لاکھ روپے دینے ہیں اور فی گاڑی 5 ہزار دینے ہیں  یہ دوسرا حصہ بھی چونکہ ایک فارمولے کے ساتھ طے ہے اس لیے مفضی الی النزاع نہیں جیسا کہ اگر ایک گندم کے ڈھیر کی بیع اس طرح کی جائے  کہ ایک کلو کی قیمت اتنی ہے تو صاحبین کے نزدیک پورے ڈھیر کی بیع جائز ہے اسی طرح  ٹیکسی کا کرایہ میٹر کے حساب سے طے کرنا کہ فی کلو میٹر کا کرایہ اتنا ہوگا تو اس کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔

شامی(7/61)میں ہے:

(‌صاع ‌في ‌بيع ‌صبرة كل صاع بكذا) مع الخيار للمشتري لتفرق الصفقة عليه،ويسمى خيار التكشف (و) صح (في الكل إن) كيلت في المجلس لزوال المفسد قبل تقرره أو (سمى جملة قفزانها) بلا خيار لو عند العقد، وبه لو بعده في المجلس أو بعده عندهما، به يفتى

وفي الشامية: (قوله: وبه لو بعده إلخ) الضمير الأول للخيار والثاني للعقد، قال: ح: أي وصح في الكل بالخيار للمشتري لو سمى جملة قفزانها بعد العقد في المجلس. (قوله: أو بعده) أي بعد المجلس

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (5/ 292)ميں ہے:

ومن باع ‌صبرة ‌طعام كل قفيز بدرهم جاز البيع في قفيز واحد عند أبي حنيفة إلا أن يسمي جميع قفزانها، وقالا يجوز في الوجهين اه۔ لهما أن الجهالة بيدهما إزالتها ومثلها غير مانع

فقہ البیوع (1/388) میں ہے:

ومما شاع في عصرنا في المطاعم والفنادق طعام البوفيه، وهو أن صاحب المطعم يضع أنواعاً من الأطعمة في صحون كبيرة، ويأذن للمشترى أن يأكل منها ما شاء بثمن معلوم معين. فالثمن في هذه المعاملة معلوم، ولكن المبيع غير معين، لاجنسه ولامقداره والقياس أن لا يجوز هذا البيع، لأن المبيع وقدره مجهول عند العقد جهالة تؤدى إلى الغرر ولكن الناس تعاملوا به من غير نكير، والظاهر أن الغرر فيه مغتفر، لأن الفقهاء أجمعوا على أن الغرر اليسير غير مفسد للعقد. وقد فسروا الغرر اليسير بما يرجع إلى العرف وعدم إفضاءه إلى النزاع. فعرف الدسوقى رحمه الله تعالى الغرر اليسير بقوله: "هو ما شأن الناس التسامح فيه .” وقال النووي رحمه الله تعالى: "قال العلماء: مدار البطلان بسبب الغرروالصحة مع وجوده على ما ذكرناه، وهو أنه إن دعت حاجة إلى ارتكاب الغرر، ولا يمكن الاحتراز عنه الا بمشقة، وكان الغرر حقيراً، جاز البيع والا فلا. ومن نظائر مسألتنا ما أجمعوا عليه من دخول الحمام بأجرة، فإنه لايعرف عند العقد قدرمايستعمل من الماء، ولاقدر ما يمكث فيه المستأجر، وكذلك جواز الشرب من ماء السقاء بعوض، مع اختلاف الناس فى استعمال الماء، كما ذكره النووي رحمه الله تعالى.وأقرب نظير الطعام البوفيه هو استئجار الظئر بطعامها وكسوتها  ……………… والظاهر من كلام الفقهاء في هذه المسائل أن للعرف دخلاً كبيراً في إخراج عملية من الغرر الفاحش الممنوع، ولاشك أن ما تُعورف فى البوفيه من هذا القبيل، لأن الناس يتعاملون به ولا تؤدى هذه الجهالة إلى نزاع

مسائل بہشتی زیور(2/323)میں ہے:

مسئلہ: کرایہ کا معاملہ آمنے سامنے بھی طے ہوسکتا ہے اور خط وکتابت سے بھی، اگر کوئی گونگا ہے، تو اشارہ سے بھی معاملہ طے ہوسکتا ہے، اسی طرح تعاطی یعنی بات چیت کے بغیر طرزعمل سے بھی معاملہ طے ہوسکتا ہے، مثلاً تم بس یا ٹیکسی میں بیٹھ گئے اور بس اور ٹیکسی والے نے مطلوبہ جگہ پہنچادیا اور میٹر کے مطابق کرایہ تم نے اسے دے دیا اور کوئی بات نہیں ہوئی، اس کو تعاطی کہتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved