- فتوی نمبر: 32-135
- تاریخ: 27 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
1۔مغرب کے وقت یا رات کو جھاڑو لگانا کیسا ہے؟ کیا اس کی شرع میں کوئی ممانعت ہے؟
2۔قبلہ کے علاوہ بھی کسی اور سمت پاؤں کرنا منع ہے؟
3۔ قبلہ اول کس طرف تھا؟ یعنی کہ مثال کے طور پر اگر قبلہ (کعبہ) مشرق کی طرف ہو تو کیا قبلہ اول مغرب کی جانب تھا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مغرب کے وقت یا رات کے وقت جھاڑو لگانا جائز ہے، شرع میں اس کی کوئی ممانعت نہیں۔
2۔صرف قبلہ کی طرف پاؤں کرنا منع ہے باقی کسی اور سمت پاؤ ں کرنا منع نہیں ۔
3۔قبلہ اول کعبہ سے شمال کی طرف ہے اور ہمارے (پاکستان کے) لحاظ سے دونوں مغرب کی جانب ہیں لیکن قبلہ اول مغرب سے کچھ شمال کی طرف مائل ہے۔
1۔اغلاط العوام (ص:48-225) میں ہے:
بعض عوام عصر کے بعد جھاڑو دینے کو بُرا سمجھتے ہیں یہ بھی محض بدشگونی ہے جس کی کوئی اصل نہیں۔ بعض لوگ رات کو جھاڑو دینے کو یا منہ سے چراغ گل کرنے یا دوسرے کا کنگھا کرنے کو اگرچہ باجازت ہو برا سمجھتے ہیں اس کی کوئی اصل نہیں۔
2۔ہندیہ (9/106) میں ہے:
ويكره مد الرجلين إلى الكعبة فى النوم وغيره عمدا.
3۔ایضاح القاری ، لمولانا سید فخر الدین (3/115) میں ہے:
مدینہ منورہ اور شام یہ دونوں مکہ معظمہ سے جانب شمال میں واقع ہیں اور مکہ معظمہ ان کے جنوب میں ہے۔
تحفۃ القاری شرح صحیح بخاری ، لمفتی سعید احمد پالنپوریؒ(2/229) میں ہے:
مدینہ منورہ کعبہ سے شمال کی طرف ہے، عراق، شام اور یورپ وغیرہ بھی کعبہ شریف سے شمال کی طرف ہیں۔
احسن الفتاویٰ (2/334) میں ہے:
لاہور سے بیت المقدس ……… مغرب سے شمال کی طرف۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved