• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

معلوم نہ ہو کہ کتنے سجدہ تلاوت ذمے میں ہیں تو ایسی صورت میں سجدہ تلاوت کی ادائیگی کا حکم

استفتاء

مفتی صاحب  میں گزشتہ چار سال سے حفظ کی کلاس پڑھاتا ہوں، کوئی  نہ کوئی بچہ آیت سجدہ کی تلاوت کرتا ہے کبھی سبق میں کبھی سبقی میں  اور کبھی منزل میں ۔کلاس کے بعد سجدہ کرنا بھول جاتاہوں۔ اب معلوم نہیں  کہ گزشتہ چار سالوں میں میرے ذمے کتنے سجدے واجب ہیں ۔اب شرعا ًانکا ازالہ کیسے کیا  جائے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اندازہ لگا کر جتنا غالب گمان ہو اس کے مطابق سجدے ادا کر لیں  چاہے تھوڑے تھوڑے  کر  کے ہو ں، ایک وقت میں زیادہ سجدے بھی کر سکتے ہیں ۔

درمختار (2/694) میں ہے:

(‌يجب) ‌بسبب (تلاوة آية) أي أكثرها مع حرف السجدة»

اللباب في شرح الكتاب (1/ 103) میں ہے:

«‌والسجود واجبٌ في هذه المواضع كلها على التالي والسامع، سواءٌ قصد سماع القرآن أو لم يقصد، وإذا تلا الإمام آية السجدة سجدها وسجد المأموم.

خیر الفتاوی(2/656) میں ہے:

سوال :درجہ حفظ کے اساتذہ کو دن میں بہت سی آیات سجدہ سننے کا اتفاق ہوتا ہے  تو کیاہر آیت پر سجدہ تلاوت واجب ہو گا ؟ نیز گزشتہ سجدوں کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب :مختلف بچوں سے ایک ہی آیت ایک ہی مجلس میں سنے تو سننے والے پر ایک سجدہ واجب ہوگا۔ اور اگر ایک ہی مجلس میں مختلف آیات سنیں تو جتنی آیات ہوں اتنے سجدے واجب ہوں گے ۔ اور اگر مجلس بدل جائے تو جتنی مجلسیں ہوں اتنے سجدے واجب ہوں گے۔

وشرط التداخل اتحاد الآية واتحاد المجلس حتى لو اختلف المجلس وا تحدث الأية او اتحد  المجلس واختلفت الآية لا تتداخل كذا في المحيط اله (عالمگيرى، ج:1،ص:19)

گذشتہ سجدوں کو بھی ادا کیا جائے، صحیح تعداد یاد نہ ہو توظن غالب کا اعتبار کیا جائے ۔ فقط واللہ اعلم

فتاوی محمودیہ (7/470) میں ہے

سوال: ایک شخص کے ذمہ سینکڑوں کی تعداد میں سجدہ تلاوت باقی ہیں ان کو کس طرح ادا کرے اور تلاوت کے فورا بعد سجدہ نہ کرنا گناہ تو نہیں؟

جواب:تلاوت کے فوراً بعد سجدہ کرنا مستحب ہے تاخیر بھی گناہ نہیں  جس کے ذمہ بہت سے سجدے ہوں وہ بلا تعیین سجدے کرتا رہے یہاں تک کہ اس کا دل گواہی دینے لگے کہ اب اس کے ذمہ کوئی سجدہ باقی نہیں رہا، اسی لئے فقہاء لکھتے ہیں کہ تلاوت کے بعد فوراً سجدہ کر لیا جائے ورنہ بھول جانے کا احتمال ہے جس سے واجب ذمہ میں رہ جائے گا اور گناہ گار ہوگا ۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved