- فتوی نمبر: 32-93
- تاریخ: 14 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > سونا چاندی اور دیگر زیورات کے احکام
استفتاء
مندرجہ ذیل مسائل کی تحقیق چاہیے :
1۔ کون کون سی دھاتوں کی انگوٹھی پہننا عورتوں کے لیے بلا کراہت جائز ہے ؟
2۔ ممنوعہ دھاتوں کی انگوٹھی پہننا حرام ہے یا مکروہ ؟ اگر مکروہ ہے تو یہ کراہت تحریمی ہے یا تنزیہی ؟
3۔ نیز ان کو پہن کر نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہے ؟
4۔ یہ حکم کہاں سے مستنبط ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔چار دھاتوں(لوہا،پیتل،تانبا،رانگ)کے علاوہ کسی بھی دھات کی انگوٹھی پہننا عورت کے لیے بلا کراہت جائز ہے ۔
2۔ممنوعہ چار دھاتوں (لوہا،پیتل،تانبا،رانگ)کی انگوٹھی پہننا مکروہ تحریمی ہے ۔
نوٹ : چار ممنوعہ دھاتوں کی انگوٹھی بھی اس وقت مکروہ ہے جب ان پر سونے چاندی وغیرہ کا پانی چڑھا ہوا نہ ہو اور یہ دھاتیں نظر آرہی ہوں ورنہ ان چار دھاتوں کی انگوٹھی بھی عورت کے لیے مکروہ نہیں۔
3۔ جن چار دھاتوں کی انگوٹھی پہننا مکروہ ہے ان دھاتوں کی انگوٹھی پہن کر نماز پڑھنا بھی مکروہ تحریمی ہے۔
4۔ مذکورہ چار دھاتوں کی انگوٹھی پہننے کی کراہت تحریمی کا حکم ان احادیث سے مستنبط ہے جن میں ان دھاتوں کی انگوٹھی پہننے کو ناپسند (مکروہ) سمجھا گیا ہے جن کا تذکرہ بمع وجہ استنباط حوالوں میں آرہا ہے اور ان ممنوعہ دھاتوں کی انگوٹھی پہن کر نماز پڑھنے کی کراہت کا حکم ان فقہی جزئیات سے مستنبط ہے جن میں مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کا کپڑا پہن کر نماز پڑھنے کے مکروہ ہونے کا تذکرہ ہے جن کا ذکر حوالوں میں آرہا ہے۔
سنن ابی داود (4/90) میں ہے :
عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه، أن رجلا، جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم وعليه خاتم من شبه، فقال له: «ما لي أجد منك ريح الأصنام» فطرحه، ثم جاء وعليه خاتم من حديد، فقال: «ما لي أرى عليك حلية أهل النار» فطرحه، فقال: يا رسول الله، من أي شيء أتخذه؟ قال: «اتخذه من ورق، ولا تتمه مثقالا
ترجمہ:عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے پیتل کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی ،آپ ﷺ نے فرمایا ” کیا بات ہے کہ میں تمھارے پاس سے بتوں کی بد بو محسوس کررہا ہوں؟ ” تو اس آدمی نے وہ انگوٹھی اتار دی ، پھر وہ آدمی دوبارہ آیا تو اس نےلوہے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا “کیا بات ہے کہ میں تم پر جہنمیوں کا زیور دیکھ رہا ہوں ؟ ” تو اس نے وہ انگوٹھی بھی اتار دی ، پھر اس نے پوچھا کہ : یا رسول اللہ ! میں کس چیز کی انگوٹھی بنا کر پہنوں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: چاندی کی انگوٹھی بناؤ لیکن چاندی کا وزن ایک مثقال ( ساڑھے چار ماشے ) سے کم ہو۔
فائدہ نمبر 1 :مذکورہ حدیث میں آپ ﷺ نے لوہے اور پیتل کی انگوٹھی کو مکروہ (ناپسند فرمانے) کی جو علت (وجہ) بتائی ہے وہ مردوں کے ساتھ خاص نہیں ہے اس لیے عورتوں کے لیے بھی لوہے اور پیتل کی انگوٹھی مکروہ ہے۔
فائدہ نمبر 2:مذکورہ حدیث میں دو دھاتوں (لوہے اور پیتل) کی انگوٹھی کو مکروہ (ناپسند) فرمایا گیا ہے اور چونکہ رانگ لوہے ہی کی ایک قسم اور تانبا پیتل ہی کی ایک قسم ہے اس لیے جو حکم لوہے اور پیتل کی انگوٹھی کا ہوگا وہی حکم رانگ اور تانبے کی انگوٹھی کا ہوگا۔
فائدہ نمبر3: چونکہ ان دھاتوں کی انگوٹھی کو مکروہ (ناپسند) فرمانے کی وجہ ان میں سے بتوں کی بُو کا آنا اور جہنمیوں کا زیور ہونا بتلایا گیا ہے اس لیے یہ مکروہ (ناپسند) فرمانا مکروہ تحریمی کے درجے کا ہوگا۔
اعلاء السنن (326/17) میں ہے:
فلذا قال أصحابنا الحنفية بكراهة خاتم الحديد و الشبه و الصفر و النحاس. أما خاتم الحديد و الشبه فلورود النص فيهما وأما خاتم النحاس و الصفر فلأنهما من جنس الشبه.
الجوہرة النيرة (2/ 383) میں ہے:
وفي الجامع الصغير لا يتختم إلا بالفضة وهذا نص على أن التختم بالصفر والحجر حرام وقد روي أن النبي – صلى الله عليه وسلم – «رأى على رجل خاتما من صفر فقال ما لي أجد منك رائحة الأصنام ورأى على آخر خاتما من حديد فقال ما لي أرى عليك حلية أهل النار» وفي الخجندي التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء؛ لأنه زي أهل النار، وأما العقيق ففي التختم به اختلاف المشايخ وصحح في الوجيز أنه لا يجوز.
المحیط البرہانی (8/ 49) میں ہے:
فأما التختم بالحديد والرصاص والصفر والشبه فهو حرام على النساء والرجال جميعاً، والأصل فيه ما روي أن رسول الله عليه السلام؛ رأى على رجل خاتم صفر، فقال: «ما لي أجد منك ريح الأصنام، ورأى رسول الله عليه السلام على رجل خاتماً من حديد، فقال: ما لي أرى عليك حلية أهل النار» ، وإذا ثبت التحريم في حق الحديد والصفر ثبت التحريم في حق الشبه؛ لأنه قد يتخذ منه الصفر فيؤخذ منه ريح الأصنام، وهو المعول عليه في النهي عن التختم بالصفر على ما وقعت الإشارة إليه في الحديث.
تبیین الحقائق (6/ 16) میں ہے:
«(وَالْأَفْضَلُ لِغَيْرِ السُّلْطَانِ وَالْقَاضِي تَرْكُ التَّخَتُّمِ وَحَرُمَ التَّخَتُّمُ بِالْحَجَرِ وَالْحَدِيدِ وَالصُّفْرِ وَالذَّهَبِ وَحَلَّ مِسْمَارُ الذَّهَبِ يُجْعَلُ فِي حَجَرِ الْفَصِّ)، وَقَدْ بَيَّنَّا جَمِيعَ ذَلِكَ.
المحیط البرہانی(5/ 349) میں ہے:
«ولا بأس بأن يتخذ خاتم حديد قد لوي عليه فضة، وألبس بفضة حتى لا يرى؛ لأن التزين يقع بالفضة دون الحديد؛ لأن الحديد ليس بظاهر»
ہندیہ( 5/335) میں ہے:
وفي الخجندي التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء جميعا، وأما العقيق ففي التختم به اختلاف المشايخ، وصحح في الذخيرة أنه لا يجوز وقال قاضي خان الأصح أنه يجوز، كذا في السراج الوهاج. وأما اليشب ونحوه فلا بأس بالتختم به كالعقيق، كذا في العيني شرح الهداية. هو الصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي التختم بالعظم جائز، كذا في الغرائب
ہندیہ (5/ 335) میں ہے:
«ولا بأس بأن يتخذ خاتم حديد قد لوي عليه فضة أو ألبس بفضة حتى لا يرى كذا في المحيط»
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (211) میں ہے :
والثوب الحرير والمغصوب وأرض الغير تصح فيها الصلاة مع الكراهة……قوله: “مع الكراهة” أي التحريمية ذكره السيد وفي السراج والقهستاني تكره الصلاة في الثوب الحرير والثوب المغصوب وإن صحت والثواب إلى الله تعالى
حاشیہ ابن عابدین (1/280) میں ہے :
وفي البحر: من مكروهات الصلاة المكروه في هذا الباب نوعان: أحدهما ما كره تحريما، وهو المحمل عند إطلاقهم الكراهة كما في زكاة فتح القدير
امدادالاحکام (4/357-358) میں ہے:
سوال: انگشتری پیتل یا دھاگہ جدید جو میل قبول نہیں کرتا پہننا مستورات کو جائز ہے یا نا جائز ؟ولو خاتما من حدید کا کیا مطلب ہے جبکہ مرد کو سوائے نغرہ کے اور عورت کو سوائے ذہب وفضہ اور شے کی انگوٹھی حرام ہے نیز حرمت ہے یا کراہت؟
الجواب:في العالمكيرية التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء جميعا و اما الشب ونحوه فلا بأس بالتختم به كالعقيق كذا فى العيني هو الصحيح كذا في جواهر الاخلاطى التختم بالعظم جائز كذا في الغرائب ولا بأس بأن يتخذ خاتم حديد قدلوى عليه فضة او ذهب ) حتى لا يرى كذا في المحيط.
قلت : والكراهة اذا اطلقت يراد بها كراهة التحريم وبالجملة فلا يجوز التختم بشئ من المعادن للرجال الا بالفضة وللنساء بها وبالذهب ……. واما بالنظر الى العلة وهو قوله صلى الله عليه وسلم لمن لبس خاتما من شبه (أی)صفر و هو ضرب من النحاس یشبه الذهب) ما لى أجد عليك ريح الأصنام ولمن لبس خاتما من حديد مالي أرى عليك حلية اهل النار . رواه ابوداود وسكت عنه ولا باس بالتختم بما لیس من هذین النوعین والنحاس والصفر نوع واحد وکذا الحدید والرصاص.
فتاوی محمودیہ (19/339) میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : کہ سونے کی انگوٹھی پہن کر مردوں کو نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب: سونے کی انگوٹھی پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل 8/(759) میں ہے:
س۔ ایک اہم مسئلہ آپ کی خدمت میں لکھنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ سونے کی انگوٹھی پہن کر نماز ہو جاتی ہے یا نہیں ؟ سونا چونکہ مرد کے لئے حرام ہے ، اور حرام چیز پہن کر نماز پڑھنا کہاں تک جائز ہے ؟
ج۔ نماز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری ہے ، جو شخص عین حاضری کی حالت میں بھی فعل حرام کا مر تکب ہو اور حق تعالیٰ شانہ کے احکام کو توڑنے پر مصر ہو ، خود ہی سوچ لیجئے کہ کیا اس کو قرب ورضا کی دولت میسر آئے گی …؟ الغرض سونا یا کوئی اورحرام چیز پہن کر نماز پڑھنا درست نہیں، اگر چہ نماز کا فرض ادا ہو جائے گا۔
مسائل بہشتی زیور (2/446) میں ہے :
عورتوں کے زیور پہننے کے چند مسائل
مسئلہ: لو ہے، تانبے، پیتل اور رانگ کی بنی ہوئی انگوٹھی مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے پہننا نا جائز ہے۔
مسئلہ: لو ہے تانبے، پیتل اور رانگ وغیرہ کی انگوٹھی کے علاوہ باقی زیور اور دیگر دھاتوں اور چیزوں مثلاً ہڈی ، شیشہ وغیرہ کی انگوٹھی ہر قسم کے زیورات کا استعمال جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved