- فتوی نمبر: 34-332
- تاریخ: 06 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زید فوت ہو گئے اور ان کے والدین اور بیوی ان کی زندگی میں ہی فوت ہو چکے تھے۔زید بہت ساری زمینیں جائیداد ترکے میں چھوڑ گئے ان زمینوں کو تقسیم کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ کون حقدار ہے؟اور کون نہیں؟
زید کی اولاد میں صرف تین بیٹیاں ہیں 1)زینب جو کہ زید کی زندگی میں فوت ہو چکی تھی۔2)فاطمہ ۔3)کلثوم جن کا انتقال زید کی وفات کے بعد ہوا۔کلثوم کے شوہر کا انتقال ان کی زندگی میں ہو چکا تھا۔کلثوم کی اولاد میں دو بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں۔اس کے علاوہ زید کے دو بھائی تھے۔1) خالد جو کہ ملا علی محمد کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے۔2)بکر جو کہ زید کی وفات کے بعد فوت ہوئے۔بکر کی اولاد میں دو بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں اور بکر کی بیوی کا انتقال بکر کی زندگی میں ہو چکا تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ترکہ کے 24 حصے کیے جائیں گے جن میں سے فاطمہ (بیٹی) کو 08 حصے (33.33 فیصد) ، کلثوم کی ہر بیٹی کو 1 حصہ (4.16 فیصد فی کس)، کلثوم کے ہر بیٹے کو 2 حصے (8.33 فیصد فی کس)، بکر کے ہر بیٹے کو 2 حصے (8.33 فیصد فی کس)،اور بکر کی ہر بیٹی کو 1 حصہ (4.16 فیصد فی کس) ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved