- فتوی نمبر: 34-329
- تاریخ: 21 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > تصاویر
استفتاء
1۔مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ ہارڈ فارم میں مرحومین کی تصاویر رکھنا کیسا ہے؟ ہمارے دادا ، دادی، نانا، نانی کی تصاویر گھر میں موجود ہیں جو کہ ہم نے نہیں اتاریں مگر محفوظ کر رکھی ہیں کیا ان کا محفوظ رکھنا حرام ہے؟
2۔اور کیا شادی کی تصاویر جوکہ ہم نے نہیں اتاری لیکن محفوظ کر رکھی ہیں کیا ان کو محفوظ کرکے سائیڈ پر الماری یا دراز وغیرہ میں پوشیدہ رکھ سکتے ہیں یا حرام ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
2،1۔مذکورہ تصاویر کو الماری یا دراز وغیرہ میں چھپا کر رکھ سکتے ہیں تاہم انہیں اپنے جی کو خوش کرنے کے لیے یا پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے دیکھنا جائز نہیں ہاں کسی ضرورت کی وجہ سے دیکھنے کی نوبت آئے تو یہ الگ بات ہے۔
شامی (2/501) میں ہے:
وكره (ولبس ثوب فيه تماثيل) ذي روح، وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) ولو في وسادة منصوبة لا مفروشة (واختلف فيما إذا كان) التمثال (خلفه والأظهر الكراهة و) لا يكره (لو كانت تحت قدميه) أو محل جلوسه لأنها مهانة (أو في يده) عبارة الشمني بدنه لأنها مستورة بثيابه (أو على خاتمه) بنقش غير مستبين. قال في البحر ومفاده كراهة المستبين لا المستتر بكيس أو صرة أو ثوب آخر.
امداد الفتاویٰ (4/385) میں ہے:
سوال:آج بہت مجبور ہوکر اپنی پریشانی کی اطلاع عرض کرتا ہوں کہ دوچار دن سے امر تسرمیں ایک فلم (تماشہ کمپنی) آئی ہے جس میں حج کے ارکان وافعال کی تصویر یں اور اُن کامعائنہ کرایا جاتا ہے امرتسر کے کل اہل علم نے فتویٰ دیا کہ یہ تماشہ دیکھنا منع ہے اور ڈپٹی کمشنر سے درخواست کرکے اس تماشہ کو منع کرایا گیا شہر کے بعض مسلمان اشخاص نے دوبارہ درخواست کرکے اسکو پھر جاری کرایا اور اشتہار دیا کہ علماء نے غلطی کی کہ اس کے دیکھنے سے منع کیا ہے اس میں حج کا شوق پیدا ہوتا ہے کوئی امرسوائے حجاج کی تصاویر اور حرکات وعبادات کے نہیں اور ان امور کا دیکھنا مباح اور ثواب ہے اس اطلاع سے یہ عرض ہے کہ حضرت والا کوئی عنوان مؤثر اور کوئی آیت یاحدیث جس کی دلالت اس فلم اور تماشہ کی حرمت پر ہواس کی تعلیم فرماویں ؟
جواب: ………… اس میں تصویر وں کا استعمال اور اُن سے تلذذ ہوتا ہے اور اس کے قبح میں کسی کو کلام نہیں گو عابدین ہی کی تصاویر ہوں حضور اقدس ﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام و حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تمثال جوبیت اللہ کے اندر بنائی گئی تھیں اُنکے ساتھ جو معاملہ فرمایا ہے معلوم ہے۔
کفایت المفتی (9/233) میں ہے:
تصویر بنانے کا حکم جداگانہ ہے اور تصویر رکھنے اور استعمال کرنے کا حکم جداگانہ ہے تصویر بنانے اور بنوانے کا حکم تو یہ ہے کہ وہ مطلقا حرام ہے خواہ تصویر چھوٹی بنائی جائے یا بڑی کیونکہ علت ممانعت دونوں حالتوں میں یکساں پائی جاتی ہےاور علت ممانعت مضاہات لخلق اللہ ہے اور تصویر رکھنے اور استعمال کرنے کا حکم یہ ہےکہ اگر تصویر چھوٹی ہو اور غیر مستبین الاعضاء ہو تو اس کو ایسے طور پر رکھنا کہ تعظیم کا شبہ نہ ہو جائز ہے یا ضرورت کی وجہ سے استعمال کی جائے جیسے سکہ کی تصویر تو جائز ہے باقی بڑی تصویریں بلا ضرورت استعمال کرنا یا ایسی صورت میں رکھنا کہ تعظیم کا شائبہ ہو ناجائز ہے۔
جواہر الفقہ (7/261) میں ہے:
ناقص تصویریں جن میں چہرہ نہ ہو خواہ باقی بدن تمام موجود ہو اس کا استعمال اور گھر میں رکھنا بھی جائز ہے ……………….تصویریں اگر کسی غلاف یا تھیلی وغیرہ میں پوشیدہ ہو ں یا کسی ڈبہ وغیرہ میں بند ہوں تو اس تھیلی یا ڈبہ وغیرہ کا گھر میں رکھنا جائز ہے ………………………..جن تصاویر کا بنانا اور گھر میں رکھنا ناجائز ہے ان کا ارادہ اور قصد کے ساتھ دیکھنا بھی ناجائز ہے البتہ تبعاً بلا قصد نظر پڑ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں جیسے اخبار یا کتاب مصور ہے ، مقصود ان کا مضمون دیکھنا ہے بلا ارادہ تصویر بھی سامنے آجاتی ہے اس کا مضائقہ نہیں۔
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (14/361) میں ہے:
وأما الخمر فيحرم الانتفاع بها من كل وجه ………. والنظر إلى الخمر فى الزجاج تلذذا بلونها. اسی طرح اگر شیشہ میں خوش رنگ شراب ہو تو اس کی رنگت سے طبیعت خوش کرنے کے لیے اس کی طرف دیکھنا بھی مکروہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved